منی لانڈرنگ، آصف علی زرداری اور فریال تالپور ملزموں کی فہرست میں، پرواز بند!

منی لانڈرنگ، آصف علی زرداری اور فریال تالپور ملزموں کی فہرست میں، پرواز بند!

بنکوں میں جعلی کھاتوں کے ذریعے اربوں روپے کے لین دین کا احتساب 2015ء میں سامنے آچکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اسے کیوں پس پشت ڈالا گیا تھا؟ انتخابات سے دو ہفتے قبل کی ٹائمنگ اس کیس کو سیاسی بنا دے گی۔ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں اب صرف تیرہ دن باقی رہ گئے ہیں، یہ خبریں تو دم توڑ گئی ہیں۔ جو بعض تجزیوں اور سینہ گزٹ کے ذریعے پھیلائی جا رہی تھیں کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا ہو گئی تو ملک میں واپس نہیں آئیں گے۔حتی کہ آصف علی زرداری تک نے یہ کہہ دیا تھا کہ انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست کر دی ہے۔ نواز شریف نے تو جمعہ کے روز تیرہ جولائی کو آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ البتہ سپریم کورٹ کے حکم پر جناب آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور( جن کی حیثیت گزشتہ دس سال سے سندھ میں کسی طرح بھی منتخب وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور سید مراد علی شاہ سے کم نہ تھی)کا نام ان 35 افراد کے نام کے ساتھ ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے جن پر مبینہ طور پر جعلی (بنک) اکاؤنٹس کے ذریعہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے سپریم کورٹ نے دونوں بہن بھائی کو 12جولائی کے لئے طلب بھی کیا ہے قبل ازیں اس منی لانڈرنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں جناب آصف علی زرداری کے ذاتی معتمد دوست اور معروف بنکار سمٹ بنک کے وائس چیئرمین اور انسٹیٹیوٹ آف بینکرز کے چیف ایگزیکٹو اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین حسین لوائی کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ (اہم بات یہ ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز کا چیئرمین سٹیٹ بنک کا گورنر ہوتا ہے۔ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بنکوں کے صدور ہوتے ہیں)واضح رہے کہ ’’سمٹ بنک‘‘ کا قیام جناب آصف علی زرداری کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی چھوٹے بنکوں کے انضمام کے بعد عمل میں آیا تھا۔ حسین لوائی کو اس کا سربراہ بنایا گیا تھا ’’سمٹ بنک‘‘ کو اس وقت زبردست نقصان کا سامنا ہے۔ سمٹ بنک کی سالانہ رپورٹ 2016-2017ء کے مطابق مجموعی طور پر ٹیکس کی ادائیگی کے بعد تین اعشاریہ تین ارب روپے کا نقصان دکھایا گیا ہے۔ بنک کو مجموعی طور پر اب تک دس ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس زبردست نقصان کی وجہ سے بنک کا ادا شدہ سرمایہ مقررہ حد سے نیچے گر چکا ہے۔ بنک کے سالانہ گوشوارے میں کہا گیا ہے کہ ’’سمٹ بنک کو‘‘ سندھ بنک میں ضم کرنے کی منظوری اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے احکامات کے تحت دونوں بنکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز نے دے دی ہے۔ واضح رہے کہ سندھ بنک سندھ حکومت کی ملکیت ہے۔جس کاقیام پیپلزپارٹی کی وفاقی اور سندھ میں 2008ء میں حکومت قائم ہونے کے بعد عمل میں آیا تھا۔ سندھ بنک کے قیام کا مقصد سندھ کی معاشی ترقی قرار دیا دیا گیا۔ سندھ بنک کی شاخیں زیادہ تر سندھ میں ہیں سندھ بنک میں سمٹ بنک کے ضم ہونے کی خبریں میڈیا میں آئیں تو معروف ماہر معیشت اور معاشی تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے شدید تنقید کی تھی اور اسٹیٹ بنک کی طرف سے سمٹ بنک کی سندھ بنک میں ضم کرنے کی منظوری دینے کے حوالہ سے نہایت بنیادی سوال اٹھائے تھے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی بعد ازاں اس پر ٹی وی ٹاک شوز میں شدید تنقید کرتے رہے ہیں سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر سمٹ بنک میں بنک اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اسکینڈل میں سمٹ بنک کے صدر کے ساتھ ساتھ سندھ بنک اور یو بی ایل کے صدور کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ’’پناما کیس‘‘ کے طرز پر ’’منی لانڈرنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے سات افراد پر مشتمل جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے جس کے سربراہ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نجف قلی مرزا ہیں۔

سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بنک کو سمٹ بنک کے سات ارب روپے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو اسٹیٹ بنک کے پاس جمع ہیں۔ سمٹ بنک کے سندھ بنک میں انضمام اسٹیٹ بنک کی طرف سے منظوری دیئے جانے کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ ایک ڈوبتے ہوئے نجی بنک کو سندھ حکومت کی ملکیت بنک میں ضم کرنے کی منظوری دینے کے پس پشت عوامل کیا ہیں؟

پاکستانی بنکوں میں بنک اکاؤنٹس جسے بے نامی اکاؤنٹس کہا جاتا ہے۔با اثر افراد اور با اثر افراد کے زیر اثر اداروں میں کام کرنے والوں کے نام پر رقوم رکھنا ایک زمانہ سے معمول رہا ہے۔ نوے کے عشرے تک تو بنکوں میں اکاؤنٹس رکھوانے کے لئے اکاؤنٹ ہولڈرز کے لئے شناختی کارڈ یا کوئی اور دستاویز جمع کرانے کی شرط بھی نہیں تھی۔ البتہ دو عشرے ہونے کو آئے ہیں کہ اکاؤنٹ ہولڈرز کے لئے شناختی کارڈ کی کاپی اور انگوٹھے کے نشان (تھمب) کی شرط جس کے بعد سے عمومی طور پر بنکس اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹ میں معمول سے زیادہ رقم جمع ہونے یا نکلوانے پر نظر رکھتے ہیں اسٹیٹ بنک میں اس طرح کے مشکوک اکاؤنٹس پر نظر رکھنے کے لئے ایک باقاعدہ ونگ قائم ہے۔ سپریم کورٹ میں ایف آئی اے کی طرف سے جمع کرائی جانے والی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 35 ارب روپے کے 29 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ ہوئی ہے جبکہ بعض دیگر ذرائع کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن جعلی اکاؤنٹس کی شناخت ہو چکی ہے ان کی تعداد 65 تک پہنچ چکی ہے اور رقم کا حجم 35 ارب روپے سے بڑھ کر 70 ارب تک جا پہنچا ہے۔ ان اکاؤنٹس سے جن با اثر افراد نے فائدہ اٹھایا ہے ان میں جناب آصف علی زرداری اور ان کے قریبی کاروباری دوست انور مجید اور ان کی اولاد سمیت آصف علی زرداری کے تعمیرات میں شریک افراد کے نام بھی سامنے آئے ان میں سب سے نمایاں نام بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض اور ان کے بیٹے کا ہے۔ بنکوں میں جعلی کھاتوں کے ذریعے اربوں روپے کے لین دین کا انکشاف آج نہیں ہوا ہے بلکہ میڈیا میں اس کی خبر 2016ء میں آ چکی تھی۔ اسٹیٹ بنک اور ایف آئی اے اس سے آگاہ تھی اس پر ایف آئی اے نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اور سوالات اٹھائے تھے پھر یکایک نا معلوم وجوہات کی بنا پر خاموشی چھا گئی اور معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا۔ 2017ء میں جناب آصف علی زرداری کے کاروباری مفادات کے محافظ انور مجید اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ اور حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اومنی گروپ کے دفتر اور مالکان کے گھروں سے بھاری تعداد میں ممنوعہ اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ انور مجید طویل عرصے سے ملک سے باہر ہیں۔ انور مجید کے دفتر پر چھاپہ کو پیپلزپارٹی نے آصف علی زرداری کے دوستوں کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا تھا خود آصف علی زرداری نے انور مجید کے خلاف کارروائی کو ان پر دباؤ ڈالنے کی کارروائی قرار دیا تھا۔ اس سے قطع نظر کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل پانے والی جعلی اوکانٹس کے ذریعے اربوں کی مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس کی تحقیقات کر کے کس نتیجے پر پہنچتی ہے۔ بنیادی سوالات کچھ اور بھی ہیں کہ اس طرح کے اسکینڈل کی تحقیقات کا ملک میں کوئی ایسا خود کار انتظام کیوں تشکیل نہیں دیا جا سکا ۔جو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہو کر وائٹ کالر جرائم میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف بروقت تحقیقات کرنے میں بھی آزاد ہو اور قانون کی عدالتوں کے سامنے مکمل ثبوت اور ناقابل تردید شواہد کا ریکارڈ پیش کرنے کا پابند ہو۔ اب سمٹ بینک کے قیام کو ہی لے لیجئے کہ اسٹیٹ بینک نے اس کے صدر حسین لوائی کے نام کی منظوری بھی کم و بیش اسی انداز میں دی، جس طرح 90کے عشرے میں مہران بینک کے قیام اور اس کے سربراہ یونس حبیب کے نام کی منظوری ملک کے ’’بااثر فرد‘‘ اور ادارے کی سفارش پر دی گئی تھی حسین لوائی کا نام متنازعہ بنکر کی فہرست میں اس وقت سے رہا ہے، جب ان کا مسلم کمرشل بنک کی نجکاری میں متنازعہ کردار سامنے آیا تھا۔ وہ عدالت سے ضمانت حاصل کرکے طویل عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہے۔2008ء میں آصف علی زرداری کی وفاق، صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پی کے میں مخلوط حکومتیں قائم ہوئیں تو حسین لوائی کی قسمت پھر سے جاگ اٹھی۔ 80سالہ حسین لوائی اے آر وائی گروپ کے بانی حاجی عبدالرزاق (مرحوم) کے بھی قریبی معتمد لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔بیرون ملک قیام کے دوران حسین لوائی کی سرپرستی انہی نے کی تھی۔

وہ متنازعہ ہونے سے قبل ایک باصلاحیت بینکار کی شہرت رکھتے تھے۔ ان کا متنازعہ کردار مسلم کمرشل بینک کی نجکاری میں ہوا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے متنازعہ کردار کی وجہ سے جس شخصیت کو فائدہ پہنچا تھا۔ انہوں نے خود بعد میں حسین لوائی پر سنگین قسم کے الزام لگائے تھے۔ جس طرح سیاست کو جرائم پیشہ افراد سے لاتعلق کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہمارے تحقیقاتی اداروں اور ان کے سربراہوں کوبھی وقتی ضرورتوں اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ تحقیقات اتنی صاف شفاف ہوتی نظر آئے کہ ’’آزاد دنیا‘‘ اس پر کوئی حرف نہ اٹھا سکے۔ ایف آئی اے کے موجودہ سربراہ بشیر میمن کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں کہ وہ ایک دیانتدار فرض شناس افسر ہیں۔ وہ 2017ء میں ڈی جی ایف آئی اے بنے ہیں۔ انہوں نے جو تحقیقات کی اس پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہا ہے، مگر اس کیس کی ٹائمنگ ایسی ہے، جس سے ملزم اس کو سیاسی بنائیں گے۔ پیپلزپارٹی نے بھی ٹائمنگ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب 2016ء میں بنکوں کے جعلی کھاتوں میں اربوں روپے کے مشکوک لین دین کے معاملہ کی اسٹیٹ بینک کے متعلقہ ونگ نے تصدیق کر دی تھی تو پھر اس معاملہ کو پس پشت ڈلوانے میں ’’کون کون ملوث رہا‘ اب جبکہ مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر کو نیب کی عدالت نے کرپشن الزام میں بری کرکے آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں مجرم قرار دیکر میاں نوازشریف کو گیارہ سال قید بامشقت اور مریم نواز کو 8سال قید بامشقت اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت سزا کے ساتھ قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد دس سال کے لئے نااہل قرار دیا۔ تو آصف علی زرداری کے منی لانڈرنگ کیس کی ٹائمنگ پیپلزپارٹی کو یہ کہنے کا موقع فراہم کر رہی ہے کہ یہ بھی آصف علی زرداری کو 2018ء کے الیکشن سے باہر کرنے کا حربہ ہے، انتخاب سے صرف دو ہفتے قبل اس اقدام نے ان قیاس آرائیوں کو تقویت پہنچائی ہے جو اپنے تجزیوں اور سینہ گزٹ خبروں کے ذریعہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ وہ انتخابات ہوتے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ خدا کرے ایکشن کسی طرح التوا کا شکار ہوں اور نہ ہی ماضی کی طرح ’’مینی پولیٹ‘‘ ہوں ۔ اب اس طرح کی غلطی کی گنجائش سیاستدانوں کے پاس ہے اور نہ ہی ریاست اور ریاستی اداروں کے پاس ہے۔ عوام کو آزاد منصفانہ، آزادانہ، غیر جانبدارانہ، صاف شفاف انتخابات میں حق حکمرانی کا موقع دینا ہی عافیت اور سلامتی کا واحد راستہ ہے۔یہ اچھا ہوا کہ ڈی، جی، آئی، ایس، پی، آر نے وضاحت کرد ی کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور فوج کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...