کیپٹن صفدر گرفتار، اڈیالہ جیل میں بند، اے کلاس مل گئی، سہولت کاروں کے خلاف مقدمات

کیپٹن صفدر گرفتار، اڈیالہ جیل میں بند، اے کلاس مل گئی، سہولت کاروں کے خلاف ...

ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ایک سال قید بامشقت کی سزا پانیوالے مسلم لیگ ن کے رہنما وسابق وزیراعظم محمدنوازشریف کے داماد گزشتہ اتوار کو اچانک راولپنڈی کے فوارہ چوک راجہ بازار میں نمودار ہوئے اس سے قبل انہوں نے واٹس اپ پرویڈیو پیغام چلایا کہ وہ گرفتاری دینے کیلئے منظرعام پرآرہے ہیں لیکن اس میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس شہر سے گرفتاری دینگے جبکہ ان کو گرفتار کرنے کیلئے نیب کی ٹیمیں ایبٹ آباد ،ہری پور اورہزارہ کے دیگر علاقوں میں موجود تھیں لیکن ان کے راولپنڈی سے اچانک منظرآنے پر میڈیا سمیت سب کی توجہ اس طرف ہوگئی جس وقت وہ نمودارہوئے ان کے ہمراہ سینیٹر چوہدری تنویر ،سابق ایم این اے ملک ابرار،ملک شکیل اعوان اورچند ایک مسلم لیگ ن کے کارکنان تھے مگر اس وقت انہیں نیب یا مقامی پولیس کی جانب سے گرفتارکرنیکی کوشش نہیں کی گئی جوں جوں وقت گزرتا گیا ن لیگ کے کارکنان ریلیوں کی شکل میں ان کے ساتھ ملتے رہے اور ایک دوگھنٹوں کے بعد ایک بڑی تعدادمیں ن لیگی کارکنان ان کے ہمراہ ہوچکے تھے اسی دوران نیب بھی حرکت میں آیا مگر ان کی گرفتاری میں ن لیگی کارکنان حائل ہوگئے ن لیگ کی یہ ریلی راجہ بازارسے ہوتی ہوئی لیاقت روڈ،بھابڑا بازار ،لال حویلی کی طرف سے گزری لال حویلی کے قریب پہنچ کر ن لیگی کارکنان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمدکیخلاف شدید نعرے بازی کی بھابڑہ بازارمیں کیپٹن صفدرکو نیب کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی ان کے گرد گھیرا ڈالاگیا مگرن لیگی کارکنان انہیں نکال کرآگے لے گئے اس دوران ن لیگیوں کی جانب سے اعلان کیا جاتا رہا کہ کیپٹن صفدر سکستھ روڈ پر حنیف عباسی کے الیکشن آفس میں جاکر گرفتاری دینگے بعد ازاں ن لیگ کی ریلی سکستھ روڈ پہنچی جہاں انہوں نے مختصرخطاب کیا اور پھر خود کو نیب حکام کے سامنے سرنڈرکردیا اورکارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو کیپٹن صفدرکا راولپنڈی میں گرفتاری دینے کا شو کافی حد تک کامیاب رہا جسکی وجہ سے ن لیگ کے تمام مقامی عہدیداران متحرک رہے اورکارکنان کی بھی ایک بڑی تعداد کیپٹن صفدرکی گرفتاری کے وقت موجود تھی انکی گرفتاری پر سیاسی لحاظ سے ن لیگ نے فائدہ اٹھانیکی کوشش کی جبکہ دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد مختلف میڈیا چینلز پر اس ساری صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے رہے ،اسلام آباد کی احتساب عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈصفدر کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا، سخت سیکیورٹی میں مجرم کی عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا کو کمرہ عدالت میں داخلے سے روک دیا گیاکیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی عدالت پیشی اور جیل منتقلی کے موقع پر مسلم لیگ نون کا کوئی رہنما اور کارکن جو ڈیشل کمپلیکس کے اندر اور باہر موجود نہیں تھا اور نہ ہی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل امجد پرویز عدالت آئے مجرم کو سخت سیکیورٹی میں بکتر بند گاڑی میں نیب اور پولیس کی گاڑیوں کے قافلے میں عدالت لایا گیا ، کیپٹن صفدر کو فاضل جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا جہاں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت سے سزا پانے والے کیپٹن صفدر کو گرفتار کر لیا ہے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے ، عدالت نے کیپٹن صفدر سے استفسار کیا کہ آپ کو فیصلے کی کاپی مل گئی، جس پر کیپٹن صفدر نے کہا جی مل گئی، جس پر عدالت نے کیپٹن صفدر کو اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات جاری کئے۔ جبکہ اتوار کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے کیپٹن (ر)محمد صفدر کی ریلی میں شامل (ن)لیگ کے15رہنما ؤ ں سینیٹر چوہدری تنویر، دانیال چوہدری، شیخ ارسلان، ضیا اللہ شاہ،راجہ حنیف ودیگر سمیت سینکڑوں کارکنان کیخلاف تین الگ الگ مقدمات درج کرلیے گئے ،تھانہ وارث خان میں درج مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جو دفعہ3/7اور 341، 188، 147، 149 ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی کے تحت درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ نیب عدالت سے سزا یافتہ محمد صفدر نے ریلی کی قیادت کی اور روڈ بلاک کیا، نامزد ملزمان نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور جرم کا ارتکاب کیا۔

سینٹ میں جاری اجلاس میں نکتہ اعتراض پراظہارخیال کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں سینیٹر پرویز رشید ، راجہ ظفرالحق ، آصف کرمانی اورمصدق ملک سمیت دیگرنے الزام عائد کیا کہ انتخابات کو انجینئرڈ اور ہائی جیک کرنے کا عمل جاری ہے ، مثبت نتائج کی خواہش والے ابھی سے سرگرم نظر آتے ہیں اور جس لمحے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ان کے مثبت نتائج میسر نہیں آئیں گے تو ایک نئی کاروئی کا آغاز کر دیا جاتا ہے ، ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں کہ انجینئرڈ سسٹم کی طرف ملک کو لے جایا جا رہا ہے، جس قسم کے حالات پیدا کردیے گئے ہیں شفاف اور غیر جانبدار الیکشن پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ، خود نیب کے جج نے فیصلے میں لکھا ہے کہ نوازشریف پر کرپشن کا کوئی چارج ثابت نہیں ہوسکا ، کیا وہ لوگ جو تھانوں پر حملہ کرتے ہیں وہ نیک لوگ ہیں ، نوازشریف آرہا ہے اور وہ آئے گا ،وہ بہادری سے جیل بھی کاٹے گا ،جیپ کے ا سٹیئرنگ ویل پر کون بیٹھا ہے ، اس کو کون چلا رہا ہے،ہر سیاسی جماعت اور ووٹر کی ضرورت ہے کہ انتخابات تک سینیٹ جاگتی رہے ۔ سینیٹر چوہدری تنویر کو پارلیمنٹ آتے ہوئے راستے میں روک لیا گیا کیونکہ ان کی گاڑی پر کسی امیدوار کا سٹکر تھا ، الیکشن سے پہلے ساری کارروائی کرنے کا کوئی خاص مقصد ہے ؟ا ، عام لوگ بھی اس سے پریشان ہیں چوہدری تنویر کاکہنا تھاکہ سرینا چوک پر مجھے 45منٹ تک روکا گیا کل راولپنڈی شہر کے اندر کیپٹن (ر) صفدر نے گرفتاری دینی تھی ، ان کے ساتھ ہم بھی آئے ، آج تمام امیدواروں کے خلاف تین تھانوں کے اندر ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں ۔ کیپٹن(ر) صفدر کوئی لاوارث تو نہیں تھا وہ نوازشریف کا داماد ہے ۔انہوں نے باعزت طریقے سے گرفتاری دی ہے ،پورے شہر میں ایک پتہ تک نہیں ٹوٹا۔ ان سے عوام کا سیلاب نہیں روکا جا رہا میں کسی سے پوچھتا ہوں کہ کونساآرڈر ہے تو کوئی بتانے کو تیار نہیں کہ آرڈر کہاں سے مل رہا ہے ، اس معاملے پر کمیٹی بنائی جائے ، یہ لوگ قانون کو اپنے گھر کی لونڈی کیوں سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔کمیٹی انتخابات کو مانیٹر کرے اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کو ایوان کے سامنے لایا جائے ۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا چوہدری تنویر کا استحقاق مجروح ہواہے ، یہ معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمان کاکہنا تھا کہ الیکشن کو متنازعہ کردیا گیا ہے ، کچھ امیداروں کو فورتھ شیڈول سے ہٹا کر لایا گیا ہے ، اگر فورتھ شیڈول سے امیدوار لائیں گے تو ہم کس طرح اپنی سرزمین کو انتہا پسندی سے پاک کریں گے، ہر ادارے کو اپنی حد میں کام کرنا چاہیے ، نفرتوں اور بدتمیزی کا رجحان بڑھ چکا ہے ، پیپلزپارٹی نے ہر فیصلے کے ساتھ سر تسلیم خم کیا ہے ، یہ نہ کہیں کہ کوئی اور نہتی لڑکی آگئی ہے اور بوٹوں والے اس سے ڈرتے ہیں ،بینظیر بھٹو آخری دن تک نہتی رہی ۔ سب کو ایک دوسرے کیساتھ برداشت دکھانی چاہیے ،میں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ پیپلزپارٹی کے قافلوں پر قدغن لگائی گئی ہے ،سیکیورٹی فراہم کرنا نگران حکومت کا کام ہے ،بلاول بھٹو کا قافلہ بلاجواز روکا گیا ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...