بلاول بھٹو رکاوٹوں کے باوجود ملتان پہنچے، جلسے، جلوسوں سے خطاب، نیا بیانیہ

بلاول بھٹو رکاوٹوں کے باوجود ملتان پہنچے، جلسے، جلوسوں سے خطاب، نیا بیانیہ

مسلم لیگ (ن) کے سیاسی طور پر نا اہل قرار دیئے جانے وائے قائد میاں نواز شریف، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی نیب عدالت سے بالترتیب 11، 7، اور ایک سال قید بامشقت کے فیصلہ کے بعد توقع تھی کہ کم از کم پنجاب میں احتجاج ضرور ہو گا لیکن حیرت انگیز طور پر ن لیگی حکومت میں جن چیونٹیوں کے پر نکل آئے تھے وہ دوبارہ سے ’’بے پر‘‘ ہو گئیں اور کہیں قابل ذکر احتجاج نہ ہو سکا، جو ن لیگی قیادت کے لئے بھی ایک لمحہ فکریہ ضرور ہوا ہو گا کیونکہ وہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اگر انہیں سزا ہوتی ہے تو عوام نہ صرف سڑکوں پر ہوں گے بلکہ ملک گیر احتجاج بھی ہو گا ممکن ہے اس میں بڑی وجہ عام انتخابات بھی ہوں لیکن دیکھنے میں آیا کہ سزا سنانے کے بعد بھی کچھ ایسے ساتھیوں نے چپ سادھ لی جو سیاسی طور پر ساتھ مرنے جینے کا وعدہ کر چکے تھے پھر انتخابات سے پہلے اور کاغذات جمع کرانے کے بعد بھی کچھ سیاسی ’’پنچھی‘‘ اڑ کر دوسری طرف چلے گئے اب ن لیگ جو اب شاید ش لیگ زیادہ ہے کے ساتھ وہ رہ گئے ہیں جو وقت پر کسی اور ٹرین پر سوار نہ ہو سکے یا پھر انہیں کسی اور جماعت نے قبول نہیں کیا البتہ کچھ نے دانستہ طور پر ’’جیپ‘‘ کی سواری کر لی اب خبر ہے کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر تو گرفتار ہو کر اڈیالہ جیل منتقل بھی ہو چکے ہیں جبکہ میاں نواز شریف اور مریم نواز نے جمعتہ المبارک کو لاہور آمد کا اعلان کر دیا ہے جس کے لئے نگران حکومت نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ قانون کے عین مطابق برتاؤ کرتے ہوئے دونوں کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھجوا دیں گے تحریک انصاف کی قیادت سمیت کارکنوں نے اس فیصلہ پر نہ صرف باقاعدہ مٹھائیاں تقسیم کیں بلکہ ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کیا اور نیب عدالت کے اس فیصلے کو خوشی کے طور پر منایا کیونکہ ان کے سیاسی حریف سخت مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں سیاسی مخالفین کے بارے میں اس قسم کا رویہ قابل تحسین نہیں سمجھا جاتا قبل ازیں بھی پاکستان کی سیاست میں ایسے مواقع آئے ہیں کہ کسی ایک سیاسی فریق کی حکومت ختم ہوئی تو دوسرے فریق نے اس پر بھر پور خوشی کا اظہار ، مٹھائی تقسیم کر کے کیا مگر اب اس میں رقص بھی شامل ہو گیا ہے لیکن ان عاقبت نا اندیش سیاسی رہنماؤں کو شاید ماضی یاد نہیں کہ اس قسم کا رویہ اختیار کرنے والے خود ہی ایسے حالات سے دو چار ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی یہی حالات دہرائے جا سکتے ہیں اس لئے سیاست میں میانہ روی اور ذاتی جنگ شامل نہیں ہونی چاہیے اب یہ بات ہمارے سیاسی وڈیروں کو سمجھ کب آئے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئر مین مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کے خلاف کرپشن کے اتنے حقائق سامنے آچکے ہیں کہ اب قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا مشن عوام کی خدمت کبھی نہیں رہا، اور اپنے کارنامے چھپانے کے لئے قوم کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہو گا انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ تحریک انصاف آئندہ حکومت سازی کرے گی اب اگر وہ عوام کا اعتماد حاصل کر لیتے ہیں تو جمہوری روایات کے مطابق انہیں حکومت بنانے کا حق حاصل ہو گا ان کی یہ بات بھی مانی جا سکتی ہے کہ شریف فیملی کرپشن کرتی رہی ہے لیکن کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ وہ اپنی جماعت کی صفوں میں موجود کرپٹ لوگوں کی نشاندھی بھی کر دیتے تو ان کی بات میں وزن بڑھ جاتا کیونکہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ انہوں نے کرپشن کے کن شہنشاہوں کو ’’گنگا نہلا‘‘ کر اپنی جماعت میں شامل کیا ہے جن میں مسلم لیگ ن کے وہ کرپٹ بھی شامل ہیں جو بقول ان کے شریف خاندان کی کرپشن میں معاون رہے ہیں ۔

دوسری طرف تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ کے نعرے کو بھی اپنے آفیشل منشور میں محدود کر دیا ہے اور اب ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنوں پر مشتمل آبادی کو الگ صوبے کا حق دینے کا مبہم وعدہ کیا ہے اس پر سرائیکی قوم پرست نالاں ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ تحریک انصاف اپنے منشور میں سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ لے کر آئے گی کیونکہ انہوں نے قبل ازیں پہلے 100 دن کے منشور میں اس کو اہمیت دی تھی مگر اب بوجوہ اس کی اہمیت کم ہو چکی ہے جس سے سرائیکی قوم پرستوں کا بھی تحریک انصاف اور اس کی قیادت پر اعتماد ختم ہو رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ ابھی تو وہ اقتدار میں نہیں آئے اور اتنا بڑا سیاسی ’’یوٹرن‘‘ لے لیا ہے جب اقتدار میں آئیں گے تو کیا ہو گا۔ اس کے لئے انہیں وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔

ادھر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کراچی سے اندرون سندھ کا دورہ کرتے ہوئے جنوبی پنجاب پہنچ چکے ہیں راستے میں انہوں نے ان تمام حلقوں میں جلسہ عام منعقد کئے جن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں مختلف شہروں میں اپنی تقریر میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے ایک نیا سیاسی بیانیہ اپنایا ہے کہ وہ اس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو برابری کا موقع ملے جہاں قانون کی حکمرانی ہو ان کا کہنا تھا کہ میرا کسی فرد یا سیاسی جماعت سے مقابلہ نہیں ہے بلکہ میرا مقابلہ بیروز گاری، بھوک اور معاشی نا انصافی سے ہے ہم جدوجہد جاری رکھیں گے عوام کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے اور ملک کو بچائیں گے، انہوں نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے بیانیے کو بھی دہرایا اب عوام ان کے اس بیانیہ کو کس طرح لیتے ہیں یہ تو انتخابات کے نتائج سے معلوم ہو سکے گا لیکن ادھر پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کا بیانیہ اس حوالے سے مختلف ہے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو کے دوران انہوں نے بڑی نخوت سے کہا تھا کہ کس کی مجال ہے کہ وہ ہم پر مقدمات درج کرائے چیئر مین نیب کی کیا جرات ہے کہ میرے بارے میں کوئی مقدمہ درج کرنے کا حکم دے اب ان کے بیانیے سے تو قانون کی حکمرانی یا بالادستی کے حوالے سے کوئی مثبت بات نظر نہیں آرہی ہے ہاں البتہ یہ ضرور ہوا کہ ان کے اس انٹرویو کے بعد نہ صرف ان پر بلکہ ان کی سیاسی طور پر متحرک بہن فریال تالپور سمیت بیسیوں افراد پر نہ صرف مقدمات درج ہو گئے بلکہ حسین لوائی سمیت متعدد گرفتار بھی ہو چکے اور موصوف سمیت متعدد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی ڈال دئیے گئے ہیں اب اس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے اس کے لئے پھر انتظار کرنا ہو گا اب 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل پکڑ دھکڑ، سزائیں اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام تو ظاہر کر رہا ہے کہ

گلیاں ہو جاں سنجیاں

تے وچ مرزا یار پھرے

مگر کیا ایسا ہو پائے گا یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، ادھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کالا باغ ڈیم کو ایک مرتبہ پھر پس پشت ڈال کر دیا۔

دیامیربھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ دونوں ڈیم محض پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے کام تو ضرور آسکتے ہیں لیکن آبپاشی سمیت انسانوں اور دوسری حیات کے لئے یہ ڈیم کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ کالا باغ ڈیم میں ذخیرہ کیے جانے والے پانی سے نہ صرف آبپاشی بلکہ متعدد علاقوں کو پینے کے لئے پانی مہیا ہونا تھا جبکہ باقی حیات بھی اس سے مستفید ہوتی لیکن لگتا ہے کہ اتنی موٹی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی اور آئندہ پانچ سے دس سالوں میں پانی کی کمی کا شکار رہنے والے ممالک میں ہمارا نمبر مزید اوپر جا سکتا ہے اس کے باوجود کہ ہمارے پاس میٹھے پانی کے بڑے ذریعے موجود ہیں مگر بد قسمتی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو ہمارے ساتھ ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...