عمران خان کی لڑائی نواز شریف کے ساتھ مگر جلسوں کا زور خیبر پختونخوا میں

عمران خان کی لڑائی نواز شریف کے ساتھ مگر جلسوں کا زور خیبر پختونخوا میں

خیبر پختونخوا کی انتخابی مہمات میں بلآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا بنوں میں گذشتہ روز ایک انتخابی مہم کے دوران ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں امیدوار سمیت 8افراد بری طرح زخمی ہوئے یہ دھماکہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ملک شیرین کے قافلے پر کیا گیا جس میں ملک شیرین خود بھی زخمی ہوئے دھماکے سے متاثرہ حلقہ پی کے 89کا ہے معجزانہ طور پر کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسی بات کے خدشات موجود تھے کہ انتخابی مہم کے دوران جلسے جلوسوں ریلیوں سمیت امیدواروں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے پاکستان کے خفیہ ادارے بھی اس حوالے سے الرٹ جاری کر چکے تھے اس بم دھماکے کی ایف آئی آر تحریک انصاف کے امیدوار ملک شاد محمد اور پی ٹی آئی کے ایک کونسلر کے خلاف درج کرلی گئی ہے یہ واضح نہ ہو سکا کہ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے امیدوار وں کی نامزدگی سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے یا دعویداری میں کوئی حقیقت بھی ہے تحریک انصاف کے امیدوار ملک شاد محمد سابق صوبائی حکومت میں وزیر کے مساوی مشیر بھی رہ چکے ہیں اس دھماکے کی ٹائمنگ بھی قابل غور ہے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو احتساب عدالت سے سزا سنائی جانے کے اگلے روز دہشتگروں کی یہ واردات ہوئی اس وقت میڈیا نواز شریف کے ایشو کا محور بنا ہوا تھا جسکی وجہ سے دھماکے کی خبر میڈیا میں وہ جگہ حاصل نہ کر سکی جو اسے ملنی چاہیئے تھی اس دھماکے کے اصل محرکات میں سیاسی مخالفین شامل ہیں یا یہ سرحد پار ملک دشمنوں کی کارستانی ہے ہر دو صورت میں یہ دھماکہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک خطرناک پیغام ہے اسی دھماکے میں یہ پیغام پوشیدہ ہو سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی انتخابی مہمات میں اس طرح کے مزید دھماکے ہوسکتے ہیں۔

دوسری طرف اندرون شہر مختلف سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں اور قائدین کی کارنر میٹگزجلسے اور ریلیان بالکل غیر محفوظ تصور کی جارہی ہیں ان سرگرمیوں میں پولیس کی طرف سے سیکیورٹی انتظامات تو درکنار برائے نام ہی پولیس اہلکار نظر میں آتے پولیس کی طرف سے اس معنی خیز رویئے کے باعث عوام کی اکثریت سیاسی سرگرمیوں میں شرکت سے گریز کر رہی ہے خصوصاً عوامی نیشنل پارٹی جوکہ 2013کے انتخابات میں بھی دہشتگروں کے نشانے پر تھی اس مرتبہ بھی عام ورکروں میں عدم تحفظ کا احساس باہر نکلنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکر ز بھی پس پردہ ہو کر اپنی مہم چلا رہے ہیں متحدہ مجلس عمل جوکہ ابھی تک خود کو محفوظ تصور کر رہی تھی بنوں واقعے کے بعد بری طرح چونک گئی ہے صرف تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) ایسی دو جماعتیں ہیں جو بالکل بے خوف ہوکر بغیر سیکیورٹی کے اپنی سیاسی سرگرمیاں منعقد کر رہی ہیں تحریک انصاف کے قائد عمران خان میڈیا میں آکر ہمیشہ شریف خاندان اور مسلم لیگ کے خلاف جنگ لڑتے رہے ہیں مگر اپنی ساری انتخابی مہم کا زور خیبر پختونخوا پر لگا رہے ہیں بنوں ،دیر ،سوات ، ہری پور، ایبٹ آباد ، چارسدہ اور اس طرح دیگر اضلاع میں پے در پے جلسے منعقدہ کر رہے ہیں خیبر پختونخوا کے جلسوں میں نواز شریف پر تنقید کے بعد مولانا فضل الرحمن کو اپنے نشانے پر رکھتے ہیں عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو مقناطیس کا خطاب دیا مگر اس سے اگلے جلسے میں انہیں سیاست کی مچھلی کا نام دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اس طرح مولانا فضل الرحمن اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے سوشل میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سوات کے جلسے میں پہلے کی طرح سونامی نہیں تھی روایتی تعداد میں لوگ موجود تھے ۔

تحریک انصاف کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف نیب نے کرپشن کی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے انتخابات کے بعد تحقیقات میں تیزی آنے کا قوی امکان ہے پرویز خٹک کا بی آر ٹی منصوبہ ابھی اپنی تکمیل کی منزل سے خاصا دور ہے مگر اربوں روپے کی کرپشن کے حوالے سے نیب نے تحقیقات شروع کر دی ہے یہ تحقیقات آنے والے وقتوں میں کیا رخ اختیار کرنی ہے اسکا اندازہ مرکز اور صوبے میں حکومت سازی کے بعد لگایا جا سکے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم فی الحال اسفندیار ولی خان کے آبائی علاقہ چارسدہ تک محدود ہے اسفندیار ولی خان پشاور سمیت صوبے کے کسی بھی ضلع میں ابھی تک کوئی جلسہ منعقد نہ کر سکے علاقائی اُمیدوار اپنے اپنے حلقوں میں کارنر میٹنگز اور چھوٹے چھوٹے اجتماعات مین مصروف ہیں مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف این اے3سوات سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک سوات میں جلسہ نہ کر سکے تاہم امکان ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں وہ سوات کا دورہ کرینگے مسلم لیگ کے اُمیدوار چند ایک حلقوں کے علاوہ غیر مستحکم مہم چلا رہے ہیں متحدہ مجلس عمل نے اکا دکا جلسے منعقد کئے اور 2001کے انتخابات والے نعرہ نفاذ شریعت کو ہی اپنی سیاست کا ایک ماہ کیلئے محور بنا رکھا ہے مجلس عمل کے رہنماؤں کی انتخابی تقاریر سن کر ایسا لگتا ہے کہ ایم ایم اے کی کامیابی کے ساتھ ہی ملک بھر یا کم سے کم صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک دم سے شریعت نافذ ہو جائے گی اور عوام کے تمام مسائل فوری طور پر حل ہو جائینگے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا انداز سیاست ہمیشہ کی طرح سمجھ سے بالاتر ہے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ یا اتحاد کا کوئی یا ضابطہ اعلان کئے بغیر آپس میں حلقہ تقسیم کر کے ایکدوسرے کے خلاف کمزور ترین اُمیدوار کھڑے کئے ہین دونوں پارٹیاں اپنی مہم کے دوران جس کسی پر بھی تنقید کریں کم سے کم ایکدوسرے کے خلاف ہر گز تنقید نہیں کرتیںیوں سیاست کے نام پر ذاتی مفادات اور اقتدار تک رسائی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے نگراں حکومت انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے بیورو کریسی میں غیر جانبدار تقرریاں کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہے تحریک انصاف حکومت کے مقرر کردہ کم و پیش تمام افسران اپنی اپنی جگہ پر بدستور کام کر رہے ہیں دو ہفتے قبل چند ایک افسران کے تبادلے ہوئے مگر اس میں سے بھی کئی افسران نے احکامات کو تسلیم نہیں کیا اور سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ایک مشیر بھی ایک محکمے کے ایم ڈی کے طور پر مسلسل کام جاری رکھے ہوئے ہیں سوشل میڈیا کے مطابق محکمے کے ملازمین کسی بھی وقت سڑکوں پر نکل کر بھر پور احتجاجی کرینگے خیبر پختونخوا کی نگراں حکومت پنجاب حکومت کی طرح زیادہ متحرک دکھائی نہیں دے رہی اس خدشتہ کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مختلف سیاسی جماعتیں اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر نگران حکومت پر تنقید شروع کر دیں۔

فاٹا انضمام کے بعد تمام فاٹا کی قبائلی حیثیت ختم ہو گئی جس کے بعد یہاں کسٹم ایکٹ سمیت تمام ملکی قوانین اور ٹیکسز کا نفاذ یقینی عمل ہے مگر ملاکنڈ ایجنسی کی تاجر برادری نے بغاوت کرتے ہوئے کسی بھی قسم کاٹیکس دینے سے انکار کر دیا اور حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ملاکنڈ بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جو کہ کامیاب رہی سوات سمیت طول و عرض سمیت تمام دکانین مارکیٹس اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے اس موقع پر تاجر رہنماؤں نے واضح الفاظ میں حکومت کو پیغام دیا کہ وہ ملاکنڈ ایجنسی میں ٹیکسوں کے نفاذ سے گریز کرے بصورت دیگر امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہو گی ملاکنڈ سمیت سوات بھر میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال ایسے وقت میں کی گئی جب انتخابات کیلئے چند دن رہ گئے ہیں ایسے ہیں کسی بھی سیاسی و مذہبی پارٹی کیلئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ تاجروں کے مطابق کی مخالفت کرتی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...