نواز شریف، مریم نواز کی آمد، مسلم لیگ (ن) عبوری انتظامیہ آمنے سامنے، سخت انتظامات

نواز شریف، مریم نواز کی آمد، مسلم لیگ (ن) عبوری انتظامیہ آمنے سامنے، سخت ...

ایسا دور یاد داشت میں نہیں، جب ہمارا پیارا ملک بحران کی بجائے استحکام کا منظر پیش کرے، آمریت ہو یا جمہوریت ہر زمانے میں ملک کوخطرات ہی درپیش رہے اور ایسے خطرات اور بحرانوں ہی کے دیکھتے دیکھتے ایک ملک سے دو ملک ہوگئے، آج بھی معاشیات اور اقتصادیات کے علاوہ امن و امان کے حوالے سے بھی شدید خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے، اسی بحران اور درپیش مشکلات کے دوران ہی دو بارپارلیمنٹ نے اپنی مدت پوری کی اور اب تیسری بار جولائی کے لئے تیاریاں مکمل ہیں، کاغذات نامزدگی کے مراحل پورے ہوچکے، امیدوار حضرات کو انتخابی نشان بھی الاٹ ہوچکے ہیں اور سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم بھی شروع کررکھی ہے، اپنے اعزاز کا دفاع(پھر سے اقتدار کے لئے) کرنے والی مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کی قیادت مرکزی صدر محمد شہباز شریف نے اپنے ذمہ لی اور وہ روزانہ جلسوں سے خطاب کرتے ہیں، تحریک انصاف کے عمران خان جارحانہ انداز میں خطاب کررہے اور فتح کے نشے میں ابھی سے سرشار ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی پرانی ساکھ بحال کرنے کی بھرپور جدوجہد شروع کر رکھی ہے، وہ کراچی سے چل کر سندھ کا دورہ کرکے پنجاب میں داخل ہوئے اور اب خیبرپختونخوا سے ہو کر واپسی میں وسطی پنجاب میں اجتماعات سے خطاب کریں گے، متحدہ مجلس عمل کی طرف سے خود مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق سرگرم عمل ہیں، نیا موڑ دوسری دینی جماعتوں ک طرف سے انتخابی دنگل میں آمد ہے، فیض آباد دھرنا فیم مولانا خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک زور شور سے میدان میں کودی، (یہ اہل سنت و الجماعت بریلوی مکتبہ فکر کی ترجمان ہے) ان کے علاوہ ملی مسلم لیگ کی حمائت یافتہ اللہ ہواکبر تحریک اور بعض دوسری جماعتیں بھی شامل ہیں۔

اس سیاسی مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سباق وزیر اعظم کے خلاف مقدمات اور ان کو ہونے والی سزا بھی زیر بحث و عمل ہے اور اس کے فوائد و نقصانات پر بحث ہورہی ہے، احتساب عدالت کی طرف سے یہ سزا محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدم موجودگی میں سنائی گئی، جبکہ کیپٹن(ر) صفدر فیصلہ سننے عدالت ہی نہ گئے اور انہوں نے مانسہرہ کے حلقہ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور پھر راولپنڈی آکر مسلم لیگ (ن) کی انتخابی ریلی میں شرکت اور خطاب کے بعد گرفتاری دی، ادھر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی واپسی پر ابہام پیدا کیا گیا، تاہم ان کی طرف سے واپسی کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم مسلم لیگ (ن)کے قائد ہیں، ان کا عمل سیاسی ہے اور وہ حق بجانب سمجھتے ہیں کہ سیاسی عمل جاری رکھیں، چنانچہ وہ باقاعدہ اعلان کرکے مریم نواز کے ساتھ پرسوں جمعہ المبارک کو لاہور ائرپورٹ پر چھہ بجے شام کے بعد پہنچ رہے ہیں عدالت سے سزا ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد کی بجائے لاہور آنے اور یہاں سے اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا ہے کہ گرفتاری برقرار رہے تو جی، ٹی، روڈ استعمال کی جاسکے، ان کی جماعت نے لاہور ائرپورٹ پر ان کے استقبال کا پروگرام بنالیا اور پارٹی امیدواروں، ٹکٹ ہولڈروں، عہدیداروں کو ائرپورٹ پہنچنے کی ہدائت کی ہے، جبکہ استقبالیہ انتظامی امور کے لئے سرگرم حمزہ شہباز نے پوری قوم کو پکار لیا ہے، یوں جمعہ(13، جولائی)ایک معرکے کا دن بن کر سامنے آرہا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ نیب نے احتساب عدالت سے باقاعدہ وارنٹ حاصل کرلئے۔کیپٹن صفدر انہی وارنٹوں کی بنا پر اڈیالہ جیل میں ہیں، جبکہ نواز شریف اور مریم نواز کو ائر پورٹ پر ہی گرفتار کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں، اگر سزا یافتہ حضرات کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اپیلوں سے ان کوریلیف نہ ملا،( ضمانت یا ہائی کورٹ پہنچنے تک کے تحفظ کی اجازت) تو نیب کو یہ گرفتاری ائیر پورٹ پر کرنا ہوگی اور اس کے لئے کافی پریشانی ہوگی۔ خبر یہ ہے کہ عبوری انتظامیہ نے والد اور صاحبزادی کی آمد پر ان کی حفاظت اور نیب کو گرفتاری کی سہولت مہیا کرنے کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کا منصوبہ بنایا ہے اور ائر پورٹ کو ’’سیل‘‘ کردیا جائے گا، دوسرے معنوں میں ائر پورٹ میں داخل ہونے کے راستے بند ہوں گے، اجازت نامے اور سفری ٹکٹ والے حضرات ہی آگے جاسکیں گے اور یوں کارکنوں سے ٹکراؤ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لئے یہ نازک مرحلہ ہوگا اور اگر اس عرصہ میں سزا معطل ہوگئی اور اپیل کی سماعت منظور کرلی گئی تو پھر فتح کا جلوس ہوگا اور انتظامیہ کے لئے نیا دور سر ہوگا، بہر حال گھڑی کا پنڈولم چل رہا ہے، باقی سب پس منظر میں جاتا نظر آرہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...