این اے 125 میں انتخابی سرگرمیاں شروع ، دو بڑی پارٹیوں میں گھمسان کارن متوقع

این اے 125 میں انتخابی سرگرمیاں شروع ، دو بڑی پارٹیوں میں گھمسان کارن متوقع

آئندہ عام انتخابات کے لئے حلقہ این اے125 میں انتخابی سرگرمیوں کا آغازہو چکا ہے ۔ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے کی توقع ہے۔تاریخ کے جھروکوں سے اگر اس حلقے کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو اس حلقہ سے 2008 میں مسلم لیگ ن کے بلا ل یاسین نے حصہ لیا اور 65ہزار 9 سو 46 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر مرحوم نے 24380 ووٹ لئے تھے ۔2013کے الیکشن میں ن لیگ کے ہی امیدوار مسلم لیگ ن کے قائدمیاں محمد نواز شریف نے91ہزار 6 سو 66 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی اور ان کے مد مقابل تحریک انصاف کی راہنما ڈاکٹر یاسمین راشد 52 ہزار 3 سو اکیس ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔مگرعدالت عظمی کی جانب سے میاں نواز شریف کی نا اہلی کی وجہ سے ان کی بیگم کلثوم نواز نے اس حلقہ سے الیکشن لڑا اور 61 ہزار 7 سو 45 ووٹ حاصل کئے۔جبکہ اس بار بھی تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد مدمقابل تھیں اور وہ 47 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہیں ۔آئندہ عام انتخابات 2018میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری ہوا لیکن بعد ازاں پارٹی نے ان کا حلقہ انتخاب تبدیل کرتے ہوئے ان کو حلقہ این اے 127سے ٹکٹ جاری کر دیا جس کے بعد اب اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار قومی اسمبلی وحید عالم خان کو ٹکٹ جاری کیا گیا اور وہ اب الیکشن 2018کے لئے اس حلقے کے امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل ڈاکٹر یاسمین راشد (تحریک انصاف) کی جانب سے امیدوار ہیں ۔واضح رہے کہ یہ لاہور کا تیسراحلقہ انتخاب ہے جو کہ سب سے زیادہ دلچسپی کا حامل ہے۔حلقے میں دو صوبائی اسمبلی پی پی 149 اور پی پی 150 کی سیٹیں ہیں ۔حلقے میں کل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 1 ہزار75 ہے جن میں خواتین کے پولنگ بوتھ 481 اور مر دوں کے پولنگ بوتھ 594 ہیں ۔حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 74 ہزار 21 ہے۔جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 62 ہزار 542 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 11 ہزار 479 ہے۔حلقے کی ایک اور خاص بات تحریک انصاف کا 2017 کے ا لیکشن میں مزید مضبوط ہونا ہے۔ 2013 کے الیکشن سے 10 فیصد زائد ووٹ 2017 کے الیکشن میں حاصل کئے گئے تھے ۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے سے کچھ علاقوں کو نکالا گیا ہے جبکہ کچھ علاقوں کو شامل بھی کیا گیا ہے۔ نمایاں علاقوں میں ساندہ ،اسلام پورہ ،پرانا مزنگ ،چوہان پارک ،موہنی روڈ ،کریم پارک اور گوالمنڈی وغیرہ کا علاقہ شامل ہے۔ علاقہ کا بڑا مسئلہ سیوریج اور صاف پانی ہے۔ جبکہ ساندہ اور دوسرے علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر بھی کافی خستہ حالی کا شکار ہے۔

مزید : علاقائی


loading...