اسلام آباد ہائیکورٹ نے بنی گالہ اور سیکٹر ای الیون میں تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بنی گالہ اور سیکٹر ای الیون میں تعمیرات کو غیر قانونی ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بنی گالہ میں تعمیرات کوغیر قانونی قراردیتے ہو ئے 72 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ماسٹر پلان کو نقصان پہنچاکر مراعات یافتہ طبقے کو فائدہ پہنچایا گیا ،ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کے تحت تعمیر ات قابل مسمار ہیں ۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بنی گالہ اورسیکٹرای الیون میں تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی پرمشتمل لارجربنچ نے فیصلہ سنایا جس میں بنی گالہ اورسیکٹرای الیون میں تعمیرات کوغیرقانونی قراردے دیا گیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ماسٹرپلان کی خلاف ورزی کے تحت کی گئی تعمیرات قابل مسمار ہیں، نظریہ ضرورت قانون کی حکمرانی کے لیے اجنبی ہے، قانون کی حکمرانی کے بجائے افراد کی حکمرانی کی یہ بہترین مثال ہے جب کہ انصاف میں تاخیرانصاف سے انکارہے۔اس سے قبل شہزادہ سکندرالملک اوردیگرشہریوں نے بنی گالہ اورای الیون میں تعمیرات کوچیلنج کیا تھا۔ درخواست میں موقف اختیارکیا گیا تھا کہ بنی گالہ میں کمرشل اورای الیون میں طویل المنزلہ عمارات کی تعمیرماسٹرپلان کی خلاف ورزی ہے اورماسٹر پلان کو نقصان پہنچا کرمراعات یافتہ طبقے کوفائدہ پہنچایا گیا۔

بنی گالہ تعمیرات

مزید : صفحہ اول


loading...