گرفتاری کی تیاری ، نواز شریف ، مریم کی اسلام آباد منتقلی کیلئے دو ہیلی کاپٹر ز کی منظوری حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری انٹر پول کو ارسال

گرفتاری کی تیاری ، نواز شریف ، مریم کی اسلام آباد منتقلی کیلئے دو ہیلی کاپٹر ...

لاہور(جاوید اقبال )میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی لاہور آمد پر حکومت نے اپنی ا حکمت عملی تیار کر لی ہے ۔حکومت نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی لاہور آمد پر ان کی گرفتاری اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے تحت لاہور اور اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے طاقت کے مطاہرے کو روکنے کے لئے تین شہروں میں دفعہ 144نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ۔ان شہروں میں راولپنڈی بھی شامل ہے تا ہم ذرائع کا دعوی ہے کہ اگر لاہور میں امن و امان کا مسئلہ کے پیش نظر یہ بھی آپشن کھلا رکھا گیا ہے رینجرز کے دستے لاہور ائیر پورٹ کے اندر اور باہر تعینات کئے جائیں گے اور میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو ائیر پورٹ کے اندر سے حراست میں لے کر راولپنڈی اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا جائے گا ۔ذرائع کا دعوی ہے کہ صوبائی پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو تجویز دے دی ہے کہ لاہور میں احتجاج کا سخت اندیشہ ہے جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے اس لئے نیب ائیر پورٹ کے اندر سے ہی انہیں گرفتار کر لے اور اس کے لئے رینجرز سیکورٹی فراہم کرے ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے نگران حکومت نے مرکزی حکومت کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ اگر لاہور سے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو گرفتار نہیں کرنا تو مسلم لیگ ن کی ٹاپ کلاس قیادت جن میں میاں شہباز شریف ،حمزہ شہباز ،سعد رفیق ،سردار ایاز صادق ،پرویز ملک ،طلال چوہدری ،احسن اقبال ،دانیال عزیز ،سمیت دیگر راہنماوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا جائے اور صوبائی سطح کی قیادت کو حراست میں لے لیا جائے تاہم اس پر حتمی فیصلہ کرنے کے لئے مرکزی اورپنجاب حکومت کے الگ الگ اعلی سطحی اجلاس آج لاہور اور اسلام آباد میں ہوں گے جن میں موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے پلان کی حتمی منظوری دی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ تینوں شہروں میں دفعہ 144کے نفاذ کے لئے منظوری دے دی گئی ہے جبکہ اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن آئندہ 24گھنٹوں میں جاری ہونے کا امکان ہے۔اسلام آباد سے سٹاف رپور کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور ائیرپورٹ سے گرفتاری کے بعد انہیں اسلام آباد منتقلی کیلئے دو ہیلی کاپٹروں کی منظوری دے دی گئی۔ ڈی جی نیب لاہور نے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو خط لکھ کر ایون فیلڈ ریفرنس کیس کے مجرموں کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر دینے کی درخواست دی تھی جس پروفاقی حکومت نے سا کاپٹر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ سیکرٹری داخلہ کے زیرِ صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق لاہور ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ دار نگران صوبائی حکومت ہو گی اور وہیں سے ہیلی کا پٹر کے ذریعے مجرموں کو اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔امیگریشن حکام نواز شریف اور مریم کو گرفتار کر کے نیب کے حوالے کریں گے جبکہ صورتحال دیکھ کر انھیں احتساب عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ ہو گا، تاہم اگر سیکیورٹی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو جیل میں ہی جوڈیشل ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔دوسری طرف وزارت داخلہ نے نواز شریف کے صاحبزا د وں حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری انٹر پول کوارسال کردیئے ہیں۔، وارنٹ میں دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وار نٹ جاری ہونے کے بعد دونوں ملزمان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دیدیا گیا ہے۔دریں اثنا نواز شریف اور مریم کی گرفتاری کے معاملے پر وزارت داخلہ میں اہم اجلاس سیکر ٹر ی داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب ، آئی جی پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی پر گرفتاری کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ اجلاس میں لاہور میں 144 نافذ ہونے کے بعد کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش نظر رینجرز کی طلبی پر بھی غور کیا گیا

تیاریاں مکمل

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے پاکستان واپسی کے لئے ٹکٹ بک کرالئے ہیں، اتحاد ائیر لائنز کی پرواز ای وائے 18 سے جمعہ شام چھ بج کر 15 منٹ پر لاہور پہنچیں گے۔ نوازشریف اور مریم نواز نے وطن واپسی کی تیاری مکمل کرلی ہے اور ٹکٹ بھی بک کرالئے ہیں۔ نوازشریف اور مریم نواز 12 جولائی کو لندن سے اتحاد ائیر لائن کی پرواز ای وائے 18 سے رات 8:45 پر روانہ ہوں گے اور 13 جولائی بروز جمعہ شام چھ بج کر 15 منٹ پر لاہور پہنچیں گے۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے، اس سے الیکشن کو نقصان پہنچ چکا ہے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کامینڈیٹ ہے کسی اور کا کام نہیں، الیکشن میں کسی اور ادارے کی مداخلت تسلیم نہیں کریں گے،ہماری برداشت کا مزید امتحان نہ لیا جائے، دیکھ رہے ہیں کس پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری بھی خدمات ہیں ،دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے جوانوں کو سیلوٹ کرتا ہوں۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد وسابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری بھی خدمات ہیں اور اس جنگ میں دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے جوانوں کو سیلوٹ کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ آج ہورہا ہے، اس سے الیکشن کو نقصان پہنچ چکا ہے، لہٰذا الیکشن کمیشن تمام انتظامات اپنے ہاتھ میں لے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کامینڈیٹ ہے کسی اور کا کام نہیں، الیکشن میں کسی اور ادارے کی مداخلت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری برداشت کا مزید امتحان نہ لیا جائے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ محمد نواز شریف نے کہا کہ کسی پارٹی کے خلاف کچھ کیا جارہا ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے بندے توڑ کر عمران خان کی پارٹی سے جوڑا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) اور قوم کسی طور پر بھی ان چیزوں کو قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کون سا کوئی گناہ کیا ہے؟ ،پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ہے اور ہم محب وطن لوگ ہیں، مجھ سے بڑا محب وطن اور کون ہوسکتا ہے؟ ،میرے اندر پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نے پاکستان کو بنایا اور آج اسی پارٹی کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔مریم نواز نے کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنا پاکستان آنے سے روکنے کی ایک اور چال ہے۔ مریم نواز نے ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا غلطیوں پر غلطیاں کی جارہی ہیں۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 70 سال سے جاری لڑائی اب اپنے اختتام تک پہنچنے کے قریب ہے ٗ ہمارے ارادے متزلزل نہیں ہونگے۔ میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ مخالفین نے دباؤ کے تمام حربے استعمال کر لیے ٗنواز شریف کو عوام سے دور رکھنا ایک سطحی سوچ ہے، مخالفین جو حاصل کرنا چاہتے ہیں، نتائج اس کے برعکس آ رہے ہیں کیونکہ عوام کو پتہ ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ ستر برس سے جو لڑائی جاری تھی، اب اس کے اختتام کا وقت آ گیا ہے۔ اب یہ 70ء اور 80ء کی دہائی کا ماحول نہیں ہے جس میں سب کو اپنی مرضی سے چلایا جاتا تھا ٗجتنی زیادہ وضاحتیں آئیں گی، لوگ اتنے زیادہ ایکسپوز ہو جائیں گے، گرفتاری جیسے ہتھکنڈوں سے (ن )لیگ کے ارادے متزلزل نہیں ہوں گے، سازش کے منصوبہ سازوں کو پتہ ہے کہ نواز شریف کو سب سے بڑی عوامی حمایت حاصل ہے، وہ عوامی طاقت سے وقت کا رخ موڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری واپسی کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے، ہم بھاگنے کیلئے نہیں بلکہ پاکستان گرفتاری دینے جا رہے ہیں ٗہم ایئرپورٹ سے باہر جائیں گے اور کارکنوں سے خطاب بھی کریں گے

نواز شریف

لاہور(جنرل رپورٹر) مسلم لیگ ن نے نواز شریف اور مریم نواز کے استقبال کے حوالے سے حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے تحت لاہور ،اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے قائدین کا استقبال کرنے کے لئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ۔لاہور میں استقبال روکنے کے لئے اگر میاں نواز شریف اور مریم نواز کو ائیر پورٹ کے اندر سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا گیا تو وہاں بھی مسلم لیگ ن کی سیکنڈ لائن قیادت کی سربراہی میں ہزاروں لیگی کارکن استقبال کے لئے موجود ہوں گے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی بجائے چک لالہ ائیر بیس پنڈی کی طرف منتقل کیا گیا تو وہاں بھی ن لیگ بھرپور طریقے سے استقبال کرے گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف لاہور میں کارکنوں کی قیادت کریں گے ،داتا دربار ،مال روڈسے ایک بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے ائیر پورٹ پہنچیں گے جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی،اور حنیف عباسی سمیت دیگر راہنما قائدین کے استقبال کے لئے موجود ہوں گے تا ہم استقبال کے پلان میں رد وبدل بھی ہو سکتا ہے ۔ استقبال سے روکے جانے اور راستوں کی بندش کی صورت میں مختلف آپشنز پر بھی غور کیا جارہا ہے ،مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کارکن پر امن رہ کر اپنے قائد محمد نوازشریف سے اظہار یکجہتی کریں گے اور اس دوران ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کا اہم اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا ۔ جس میں خواجہ سعد رفیق ،سردار ایاز صادق، حمزہ شہباز، مشاہد حسین سید، رانا محمد اقبال، رانا ثنا اللہ خان، انجینئر خرم دستگیر ، طلال چوہدری، پرویز ملک،بلال یاسین ،خواجہ محمد حسان، مہر اشتیاق سمیت صوبائی صدور،ٹکٹ ہولڈرزاورڈویژنل سطح کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں رہنماؤں اور عہدیداروں کو پارٹی قائد محمد نوازشریف سے اظہار یکجہتی او ران کے استقبال کیلئے کارکنوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے لائحہ عمل دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نوازشریف کی وطن واپسی پر استقبال سے روکے جانے اور راستوں کی بندش کی صورت میں مختلف آپشنز زیر غور آئے ۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) پر امن رہ کر اپنے قائد کا استقبال کرے گی اس لئے کارکنوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ (ن )لیگ کا کارکن بہت آرگنائزڈہے اوروہ پرامن طورپر اپنے لیڈر کا استقبال کرے گا۔کارکن کو واضح ہدایت ہے کہ وہ کسی صورت بھی اشتعال میں نہ آئیں ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کروڑوں دلوں کی دھڑکن اور قوم کے لیڈر ہیں ان کی محبت کو دلوں سے نہیں نکالاجاسکتا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے کئی دہائیوں تک پاکستان کی خدمت کی ہے اور وہ پاکستانی عوام کے لئے وطن واپس آرہے ہیں ۔نوازشریف نے دلیرانہ فیصلہ کیا ہے اب رہنماؤں ، عہدیداروں اور کارکنوں کا فرض ہے کہ نوازشریف کے استقبال کیلئے ہر صورت لاکھوں کی تعداد میں ائیر پورٹ پہنچیں۔ذرائع کے مطابق لیگی کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ داتا صاحب کے باہر اکٹھے ہوں جہاں سے شہباز شریف کی قیادت میں قافلہ ائیرپورٹ جائے گا۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے چیئر مین راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا13جولائی کو تاریخی استقبال کریں گے۔ پر امن طریقے سے پورے ملک سے قافلے لاہور پہنچیں گے، قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے ۔ رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو رکاوٹیں عبور کر کے لاہور پہنچیں گے۔ نواز شریف قومی مجرم نہیں ہیں کہ ان کا استقبال نہ کیا جائے وہ تین بار اس ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا آئین اور قانون ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم پر امن جدو جہد کریں۔ اداروں سے ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ ہم ووٹ کو عزت دو کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ ملک یہاں کی عوام کا ہے ۔ انہیں انکا حق ملنا چاہیئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ملک مشکلات میں ہے اور یہ سب سے مل کر ملک کو اس دلدل سے نکالنا ہے۔ جمہوریت میں ہی اس ملک کی بقاء مضمر ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...