پشاور ، اے این پی کے جلسے میں خودکش حملہ ، ہارون بلو ر سمیت 13افراد شہید

پشاور ، اے این پی کے جلسے میں خودکش حملہ ، ہارون بلو ر سمیت 13افراد شہید

پشاور ( سٹاف رپورٹر،آئی این پی ) پشاور میں اے این پی کے انتخابی جلسے کے دوران خود کش دھماکے میں اے این پی کے مرحوم رہنما بشیر بلور کے بیٹے اور پی کے 78سے اے این پی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور سمیت 13 افراد شہید ہوگئے۔ دھماکا پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران ہوا۔دھماکے کے بعد پولیس اور امدادی ادارے جائے وقوع پہنچ گئے، تمام لاشوں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا۔۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں لائی جاچکی ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 30 کے قریب ہے جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ خود کش تھا، ہارون بلور تقریب کے مہمان خصوصی تھے ان کے پہنچنے پر حملہ آور نے ان کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ دھماکے کے بعد اے این پی کے کارکنان بڑی تعداد میں جائے وقوع اور اسپتال پہنچ گئے۔ اطلاعات ہیں کہ ہارون بلور کے ساتھ ان کے بیٹے دانیال بلور بھی موجود تھے اور وہ بھی زخمی ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ جائے وقوع سے کچھ ہی فاصلے پر 22 دسمبر 2012ء میں اے این پی کے رہنما بشیر بلور پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں بشیر بلور سمیت 9 افراد شہید ہوگئے تھے بشیر بلور کو بھی لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے اس وقت ہارون بلور بھی وہاں موجود تھے جو دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دھماکے میں کم از کم 8 کلو گرام بارود استعمال کیا گیا۔۔سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے کہا کہ 11 بجے کے قریب ہونے والے واقعے میں 12 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔قاضی جمیل نے بم ڈسپوزل یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے۔پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور اس نے دھماکا اس وقت کیا جب ہارون بلور کی آمد پر آتش بازی کی جا رہی تھی۔پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے ہارون بلور کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس پر گہرے دکھ اور غم.کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ سوگواران کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل ادا کرے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت سے ہمارے دہشت گردی کے خلاف عزم مزید پختہ ہوا ہے۔انہوں نے ہارون بلور کی شہادت کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ایسے واقعات ہمارے عزم اور حوصلہ کو متزلزل نہیں کرسکتے۔قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے بھی خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد جمہوریت کا راستہ روکنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کل بھی ناکام ہوئے تھے اور آج بھی ناکام ہوں گے، ہم سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اے این پی کی کارنر میٹنگ میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر دہشتگردی سے پاکستان اور جمہوریت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے دشمن دہشتگردی کے ذریعے ملک اور جمہوریت پر حملہ آور ہیں۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات کتنے ہی شدید ہوں گردنیں مارنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔چیئرمین پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نہتے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسان کہلانے کے مستحق نہیں، واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔نگران وزیراعظم ناصرالملک نے بھی واقعے کی مذمت کی۔چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ سیکورٹی اداروں کی کمزوری ہے۔انہوں نے کہا کہ حملہ شفاف الیکشن کے خلاف سازش ہے، تمام امیدواروں کو یکساں سیکورٹی فراہم کرنے کے احکامات دیے گیے۔سردار محمد رضا نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو امیدواروں کی فول پروف سیکورٹی کے احکامات دیے گئے۔

خود کش دھماکہ

مزید : صفحہ اول


loading...