بیرونی قرضوں کی تفصیلات کی عدم فراہمی پر سپریم کورٹ سے رجوع

بیرونی قرضوں کی تفصیلات کی عدم فراہمی پر سپریم کورٹ سے رجوع

لاہور(نامہ نگارخصوصی) بیرونی قرضوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے ۔مقامی شہری منیر احمد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی ہے جس میں بیرونی قرضوں کے لئے مقرر حد کو تبدیل کرنے کے اقدام کو بھی چیلنج کیا گیاہے۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے نشاندہی کی کہ 2015 ء میں میاں محمدنواز شریف کی حکومت نے بیرونی قرضے لینے کے لئے قانون میں مقررہ حد کو بڑھا دیا اور اس طرح ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لئے گئے، وکیل نے دعوی کیا کہ نواز شریف حکومت نے سب سے زیادہ بیرونی قرضے حاصل کئے جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمتی میں اضافہ ہوا، درخواست میں اورنج لائن ٹرین کے لئے قرضے کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس منصوبے کو سفید ہاتھی قرار دیا گیاہے، وکیل کے مطابق نہ بیرونی قرضوں کی تفصیلات فراہم کی جا رہی ہے اور نہ اس کی ادائیگی کی شرائط کے بارے میں بتایا جا رہا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے بیرونی قرضوں اور اس کی واپسی کی شرائط کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ قرضے لینے کی حد میں اضافہ کرنے کی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے ۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک ہر ایک بچہ ایک لاکھ 30ہزار روپے کا مقروض ہے ۔

بیرونی قرضے

مزید : صفحہ آخر


loading...