متعدد سرکاری دفاتر کے اے سی مرمت میں 1ارب کا غبن، اینٹی کرپشن کی تحقیقات وسیع

متعدد سرکاری دفاتر کے اے سی مرمت میں 1ارب کا غبن، اینٹی کرپشن کی تحقیقات وسیع

لاہور (ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر)چیف انجینئر کی ناک تلے ایکسیئن سیکنڈ بلڈنگ ڈویژن2 لاہور کمیو نی کیشن ورکس ڈیپارٹمنٹ کا ایئر کنڈ یشنر زمینٹیننس کی مد میں قومی خزانہ کے ایک ارب روپے خورد برد کر نے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ایکسیئن عبدالخالق اورسب انجینئر مظفر کی جانب سے کروڑوں روپے کے اثاثے بنانے کے خلاف اینٹی کرپشن نے بھی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے ۔ چیف انجینئرنوید رشید،ایکسیئن عبدالخالق اور سب انجینئر مظفر کی مبینہ ملی بھگت سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ،سول سیکرٹریٹ ،پی اینڈ ڈی ،جی او آر زاورسی اینڈ ڈبلیو کے دفاترکے ایئرکنڈیشنر ز کی مینٹیننس کی آڑ میں قومی خزانے کے کروڑوں روپے نکلوا کر آپس میں بندر بانٹ کرلی ۔بعدازاں آڈٹ رپورٹس کو بھی اعلیٰ افسران کے ساتھ مل چھپا لیاجبکہ 2کروڑ روپے 22جون 2018ء کو چیف انجینئر نوید رشید نے ایکسیئن سیکنڈ بلڈنگ ڈویژن 2 لاہور ٹرانسفر کرکے ایکسیئن عبدالخالق اور سب انجینئر مظفر کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے قومی خزانے سے مینیٹننس کے نام پر پڑی رقم نکلوا کر آپس میں بندر بانٹ کرنے کی نیت سے ایک ایک لاکھ روپے کی کوٹیشنز بنا کر اپنے من پسند فرضی کنٹریکٹرز کے نام چیک جاری کرکے کروڑوں روپے خوربرد کرلئے ۔یاد رہے کہ ٹی او آفس نے ان کے کئی چیک جمع کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ ٹی او آفس نے باقاعدہ طور پر 22جون 2018ء تک ادائیگی کیلئے چیک جمع کرانے کا نوٹس لگا رکھا تھا۔ ذرا ئع کے مطابق یہ فنڈز استعمال نہ ہونے کی بنا ء پر قومی خزانے میں واپس چلے جانے کی بجائے مذکورہ افسران نے مبینہ طو پرخورد برد کرنے کی نیت سے 22جو ن کو ہی رقم ٹرانسفر کرکے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ،سول سیکرٹریٹ ،پی اینڈ ڈی ،جی او آر زاورسی اینڈ ڈبلیو کے دفاترکے ایئرکنڈیشنر ز کی مینٹیننس کی آڑ میں2کروڑ روپے کی بندر بانٹ کرلی ہے ۔ذرائع کے مطابق سب انجینئر مظفر سب ڈویژن ایئر کنڈیشنر میں عرصہ دراز سے اس سیٹ پر روب جمائے بیٹھا ہے جو عرصہ تقریباً 8سال سے ایئر کنڈیشنرکی مد میں اعلیٰ افسروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانے سے کروڑوں روپے نکلوا کرخورد برد کرچکا ہے۔اس حوالے سے چیف انجینئر نوید رشید کاکہنا ہے کہ فنڈز کا استعمال کرنا میرے صوابدیدی اختیارات میں آتا ہے اور اپنے اختیارات کا استعمال کرکے فنڈٹرانسفر کئے ہیں ، کرپشن کے الزامات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔

کرپشن تحقیقات

مزید : صفحہ آخر


loading...