نشتر ہسپتال کرپشن کیس مزید ریکارڈ نیب کے حوالے

نشتر ہسپتال کرپشن کیس مزید ریکارڈ نیب کے حوالے

ملتان( وقائع نگار) نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کرپشن کیس میں انتظامیہ نے نیب کو مزید ریکارڈ فراہم کر دیا،اس حوالے سے(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

بتایا گیا ہے کہ سابق ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے دور کا ریکارڈ نیب کوجمع کرا دیا گیا،نیب نے نشتر ہسپتال انتظامیہ سے سابقہ دور میں بھرتیوں کا ریکارڈ مانگا تھاجس پر نیب کو نشتر انتظامیہ کی جانب سے ریکاردڈ میں ریکروٹمنٹ پالیسی، اہلیت کا معیار، اور اشتہار بھی فراہم کیا گیا ہے۔ نشتر انتظامیہ نے امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ، ٹیسٹ اور انٹرویو رزلٹ سمیت سلیکشن کمیٹی کی تفصیلات بھی فراہم کر دیں،نیب کو ان تعیناتیوں کے لیے طے شدہ طریقہ کاربارے بھی تفصیلی ریکارڈ فراہم کر دیاگیا ہے،جس میں پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ریکروٹمنٹ رولز 2003 بھی تمام ترامیم کے ساتھ جمع کرائیے گئے ہیں۔نیب کی جانب سے جنوری2017 سے گزشتہ روز تک نرسز ڈیوٹی روسٹر بھی مانگا گیا تھااورمختلف وارڈز میں روزانہ کی ادویات سمیت دیگر چیزوں کی لوکل خریداری کا بھی مکمل ریکارڈ جمع کرایا گیا ہے،اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات میں ادویات کی کمی کی بھی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ وارڈز کی صفائی پر معمور عملے کی حاضری شیٹ بھی جمع کرائی گئی ہیں، نیب نینشتر انتظامیہ سے ٹھیکیداران کو ادائیگیوں کی رسیدیں اور بلز بھی رپورٹ کا حصہ بنایاہے نیب ملتان نے 10 جولائی تک تمام مطلوبہ ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دیا تھاجس پرنیب پہلے بھی نشتر ہسپتال سے کچھ ریکارڈ حاصل کر چکی ہے اس ریکارڈ کو نشتر انتظامیہ کو واپس بھی کر دیا گیا تھا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...