زرداری اور نواز شریف کے سیاسی وارث خطرے میں

زرداری اور نواز شریف کے سیاسی وارث خطرے میں

تجزیاتی رپورٹ / نعیم الدین

زرداری اور شریف فیملی کی اپنی سیاست نئی نسل کو منتقل کرنے کی کوشش بظاہر ناکام نظر آرہی ہے ۔ (ن) لیگ ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس ہی طرح پیپلزپارٹی بھی ملک کی بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے کئی مرتبہ برسراقتدار رہی ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں احتساب عدالت کے فیصلہ کے بعد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کی سزاؤں کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں اور مزید آئیں گی۔ جبکہ نواز شریف اوران کی صاحبزادی کیلئے پارٹی بنیاد پر استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہیں جبکہ سیاسی حلقے یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ استقبال تو نہیں ہوسکے گا البتہ لوگ جمع ضرور ہونگے ۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ انہیں منتشر کیا جاسکتا ہے اور انہیں ایک جگہ جمع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ دن بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اس بات پر عوام کی جانب سے چہ مگوئیاں کی جارہی ہیں کہ شیڈول کے مطابق دونوں رہنما پاکستان ایک ساتھ اور ایک ہی دن میں آئیں گے یا نہیں ۔1986 کا بے نظیر بھٹو کا عوام کو لاہور کا استقبال آج تک یاد ہے جس میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا تھا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہور کی کم آبادی کے لحاظ سے وہ ایک عظیم الشان استقبال کہلایا تھا۔ لیکن اب لاہور ایک کروڑ سے زائد آبادی والا شہر ہے اگر نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کا استقبال مناسب طریقے سے نہیں ہوا اور عوام نے اس میں بڑی تعداد میں شرکت نہیں کی تو یہ مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک دھچکا ہوگا کیونکہ نواز شریف اور مریم کوسزا ملنے کی وجہ سے کارکنوں کے حوصلے پہلے ہی پست ہیں اور جبکہ انتخابات میں صرف 14دن باقی رہ گئے ہیں ایک فلاپ سیاسی شو مسلم لیگ (ن) کو مزید پیچھے لے جاسکتا ہے ۔ادھر بلاول بھٹو زرداری کے لیے بھی صورت حال کو مثالی نہیں قرار دیا جاسکتا ہے ۔ الیکشن سے قبل ان کے والد آصف علی زرداری اور پھوپھی فریال تالپورکے خلاف منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات نے پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم پر اثر ڈالا ہے ۔اگر اس کیس میں مزید پیش رفت ہوتی ہے تو بلاول کو فرنٹ سے پارٹی کی قیادت کرنا ہوگی اور یہی ان کی سیاسی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا ۔سندھ میں جس طرح پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو عوام کی طرف سے سوالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیپلزپارٹی کے لیے سندھ میں بھی سب کچھ اچھا نہیں ہے ۔انتخابات میں کامیابی کے لیے اسے سخت محنت کی ضرورت ہے ۔الزامات کی زد میں آئی ہوئی پیپلزپارٹی قیادت کے لیے صرف بلاول بھٹو ہی ایک ایسا چہرہ ہے جسے وہ عوام کے سامنے پیش کرکے ان کو ووٹ دینے کے لیے راغب کرسکتے ہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...