آپ کس پر بھاری ہیں؟

آپ کس پر بھاری ہیں؟
آپ کس پر بھاری ہیں؟

سابق صدر مملکت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ جناب آصف علی زرداری کے بارے نعرہ لگتا رہا ہے کہ وہ سب پر بھاری ہیں۔ بہت سارے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نعرہ ان کی سیاست میں جوڑ توڑ اور راستے نکالنے کی صلاحیت کا اعتراف ہے محض قافیہ ملاتے ہوئے تُک بندی نہیں ہے کہ اگر نعرے کا قافیہ ملانے پر ہی آئیں تو بہت سارے اورقافیے بھی مل جاتے ہیں۔ یہ نعرہ ماضی میں اس وقت بھی لگا جب بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جناب آصف علی زرداری نے وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم کی، یہ نعرہ ابھی حال ہی میں اس وقت بھی لگا جب سیینٹ کے انتخابات ہوئے اور جناب آصف علی زرداری نے تحریک انصاف کے ساتھ ملتے ہوئے سینیٹ کی چیئرمین شپ جناب سنجرانی کو پیش کر دی جو سینیٹ کے بہت سارے ارکان کے لئے اجنبی تھے۔ ڈپٹی چیئرمین کا تعلق پیپلزپارٹی سے تھا لہٰذا اسے پارٹی کی کامیابی سمجھا گیا کہ تحریک انصاف کو عملی طور پر اپنے ووٹ پیپلزپارٹی کے سامنے سرنڈر کرنے کے باوجود کچھ نہیں ملا۔

مجھے یاد کرنے دیجئے کہ یہ نعرہ اس وقت بھی لگا تھاجب آصف علی زرداری اپنی دوبئی کی وہ جلاوطنی ختم کر کے واپس لوٹے تھے جو انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کانعرہ لگانے کے بعد از خود اختیار کی تھی۔ یہ ایک حیرت انگیز منظرنامہ تھا کہ جناب زرداری کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی مقدمات سے بری ہوتے چلے جار ہے تھے یا کم از کم ان کی ضمانتیں ضرور منظور ہو رہی تھیں اور نیب کی انکوائریاں بند ہورہی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب میاں نواز شریف سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے الگ کر دئیے گئے تھے اور صاف نظر آ رہا تھا کہ آنے والے دن مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کے لئے دشوار سے دشوار تر ہوتے چلے جائیں گے۔ میاں نواز شریف نے یہ ڈیوٹی خواجہ آصف کی لگائی تھی کہ وہ سیاست کے گرو سمجھے جانے والے آصف علی زرداری سے رابطہ کریں۔ خواجہ آصف نے ایک نہیں بلکہ تین سے چار مرتبہ کوشش کی مگرپھر یوں ہوا کہ ان کے فون اٹینڈ ہونا ہی بند ہوگئے اور زرداری صاحب نے ایک انٹرویو میں میاں نواز شریف سے کسی بھی قسم کے رابطے سے دوٹوک انکار کر دیا۔ ہماری سیاست کولہو کے بیل کی طرح سفر طے کرتی ہے، بیل کبھی دھوپ میں او رکبھی چھاؤں میں ہوتا ہے۔

کیا مجھے یہ کہنا چاہیے کہ جب میں پیپلزپارٹی کی گذشتہ دو سے تین برس کی سیاست دیکھتا ہوں بلاول بھٹو زرداری اپنے والد آصف زرداری سے کہیں زیادہ پختہ کار اور دُور اندیش نظر آتے ہیں۔ وہ شہباز شریف کی طرح نہیں جو نواز شریف کی پالیسیوں سے بسااوقات کھلی ڈلی لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے ہیں بلکہ حمزہ شہباز شریف کا وہ انٹرویو اب بھی ٹکڑوں میں سننے کو ملتا ہے جس میں وہ اپنے تایاجان کو سمجھانے کا ارادہ واضح الفاظ میں ظاہر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے والد کے باغی نظر نہیں آتے مگر ایسی خبریں تواتر سے آتی ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کے بطور جماعت فیصلوں اور حکمت عملی پر اثرانداز ہوتے ہیں جیسے کہ مردم شماری کے بعد جناب آصف زرداری کی آشیر باد سے قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کا قانون پھنس کے رہ گیا تھا، کہتے ہیں کہ ایوان اور جمہوریت کو اس نازک موقعے پر بلاول بھٹو نے ہی مشکل سے نکالا تھا ۔ یہ وہی آصف زرداری ہیں جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ بازی جیت چکے ہیں بلکہ ان کے ایک دوسرے انٹرویو سے تاثر ملا تھا کہ سینیٹ کی طرح عام انتخابات میں تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی کی بی ٹیم کی حیثیت حاصل ہو گی مگر پیپلزپارٹی کا بیل بہت جلد چھاؤں سے پھر دھوپ میں آ گیا ہے۔

صادق اور امین بن جانے والے آصف علی زرداری اربوں روپوں کی منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے میں ملوث ہو چکے، ان کے ایک ساتھی گرفتار ہو چکے، جناب زرداری اور ان کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جاچکے ، نیب کی طرف سے طلبی کے احکامات بھی سامنے آچکے۔ ٹھیک ہوتے ہوئے معاملات ایک مرتبہ پھر خراب ہو گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کو سندھ کی سیاست سے فی الحال نہیں نکالا جا سکتا مگر کیا آصف زرداری کچھ دنوں بعد اپنا یہ دعویٰ پورے یقین کے ساتھ دہرا سکیں گے کہ ان کی مدد کے بغیر کوئی حکومت بنانے کے قابل نہیں ہو گا، شائد نہیں۔آصف زرداری کریڈٹ لیتے ہیں کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کی قیادت ایسے انداز میں کی کہ انتخابات کا میدان مار لیا مگر کہنے دیجئے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کی فاتح ہوں گی ، اچھی سیاست کہیں یا بری کہ این آر او کے بعد پیپلزپارٹی ہی اقتدار کا گھوڑا سمجھی جا رہی تھی ، بی بی کی شہادت سے پیدا ہمدردی کی لہر نے پیپلزپارٹی کو اقتدارکے ایوانوں میں پہنچا دیا اور یہیں سے آصف علی زرداری کا امتحان شروع ہوتا تھا کہ وہ اگلے انتخابات کی تیاری کرتے۔ ان کی عمران خان کو نواز شریف کا ووٹ بنک کاٹنے کے لئے تیار کرنے والی حکمت عملی اتنی بری طرح پٹی کہ وہ خود اپنے ووٹ بنک کا صفایا کروا بیٹھے اور اس میں ان کی ناقص سیاسی سرپرستی اور بدترین ایڈمنسٹریشن نے بھی اہم کردارادا کیا۔

کیا یہ کہا جائے کہ آصف علی زرداری پیپلزپارٹی کو تین دوسرے صوبوں میں ختم کرنے کے بعد اب ایک مرتبہ پھر( سادہ ترین الفاظ میں) انتہائی بھولپن کے ساتھ استعمال ہو گئے ہیں ۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ سندھ کے علاوہ پورے ملک میں ان دو دہائیوں میں سامنے آنے والے ووٹر کے لئے اب پیپلزپارٹی میں کوئی چارم نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی امید وابستہ کرتا ہے۔ جناب آصف علی زرداری کا مستقبل کیا ہے اور کیا وہ ایک مرتبہ پھر جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے لئے راستہ نکال سکتے ہیں یا وہ انتخابات کے بعد جتنی بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ان کے پاس آئیں، ان کو اپنی ڈھال بناتے اور جناب اعتزا ز احسن کے مشوروں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے میاں نواز شریف کے ساتھ جدوجہد میں شریک ہو سکتے ہیں، ان دونوں سوالوں کے جواب آنے والے چند دنوں میں مل جائیں گے لیکن ابھی جیالے اگر ایک زرداری سب پر بھاری کا نعرہ لگائیں تو اپنے ارد گرد ضرور دیکھ لیں کہ ابھی تک آصف علی زرداری صرف پیپلزپارٹی پر بھاری ثابت ہوئے ہیں اور بلاول بھٹو زرداری کے لئے یہ بہت ہی مناسب موقع ہے کہ وہ اس سیاسی بوجھ سے نجات حاصل کر لیں بالکل اسی طرح جیسے ایک موقعے پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی میں دھڑے بندی دیکھتے ہوئے اپنی علیل اور بوڑھی والدہ نصرت بھٹو کو پارٹی کی تمام تر ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا تھا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...