پاکستان پانی کے شعبہ میں آسٹریلوی مہارت سے فائدہ اٹھائے،ڈیوپریسٹن

پاکستان پانی کے شعبہ میں آسٹریلوی مہارت سے فائدہ اٹھائے،ڈیوپریسٹن

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آسٹریلین ہائی کمیشن کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنرڈیو پریسٹن نے پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیا ہے کہ وہ پانی کے شعبے میں کام کرنے والی آسٹریلوی کمپنیوں کے ساتھ باہمی اشتراک کے مواقع تلاش کریں کیونکہ آسٹریلیا کی ایک ہزارسے زائد کمپنیاں پانی سے متعلق مختلف شعبوں میں کام کررہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی کمپنیاں پانی کی شعبے میں آسٹریلوی مہارت سے فائدہ اٹھا تے ہوئے شہروں میں پانی کی سپلائی، پانی کی ری سائیکلنگ اور زراعت کے شعبے میں پانی کے استعمال اور اس کی تقسیم جیسے معاملات کو بہتر بناسکتی ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں آسٹریلوی حکومت ، ایشیا فاؤنڈیشن اور حصار فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سمینار کا موضوع سندھ میں پانی، انرجی اور غذا کے موضوع کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ کانفرنس میں سول سوسائٹی کے نمائندے، پالیسی ساز، شعبہ تعلیم کے ماہرین اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین واٹرانوائرمنٹ فورم پاکستان نثار میمن نے کہاکہ عالمی سطح پر پانی، غذا اورانرجی کا موضوع بہت اہمیت اختیار کرچکا ہے اور پاکستان میں بھی اداروں کے درمیان ان اہم معاملات کی سمجھ اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔حکومتِ سندھ کے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے چیف اکنامسٹ اورپراجیکٹ کو آرڈینیٹر ڈاکٹر فتح مرّی نے پینل ڈسکشن کے دوران کہاکہ حکومتِ سندھ اور اس کے ڈپارٹمنٹس پانی، غذا اور انرجی جیسے باہمی مربوط شعبوں پر بہتر انداز میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ماحولیاتی صحافی عافیہ سلام نے کہاکہ اس اہم ترین موضوع پر میڈیا تحقیقاتی کام کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کرسکتا ہے۔ سندھ آباد گار بورڑ کے نائب صدر سیّد محمود نواز شاہ نے کہاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں میں پانی، غذا اور انرجی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے منظم کوششیں کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کسان تنظیموں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اینگرو فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر فواد سومرو نے پانی، غذا اور انرجی کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر کے ممکنہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پرائیویٹ سیکٹر جدّت اپناتے ہوئے ایسی مصنوعات اور خدمات فراہم کرسکتا ہے جس سے ملک میں پانی، غذا اور انرجی جیسے ذرائع بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔آئی سی یو این کے کنٹری نمائندے ڈاکٹر محمود اختر چیمہ نے کہاکہ پانی، غذا اور انرجی کے شعبے میں ہونے والی بین الاقوامی پیش رفت اور پریکٹسز پر مقامی سطح پر عمل درآمد کرنے کیلئے مقامی یونیورسٹیز کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگاسمینار کے اختتامی کلمات میں فرید عالم نے کہاکہ Nexusسوچ اپنا کر ہی ملک میں پائیدار ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہ کہاکہ ایشیاء فاؤنڈیشن صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کے تعاون سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرے گی تاکہ پانی، غذا اور انرجی کے شعبوں کو بہتر بنایا جاسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...