ا لیکشن ملتوی ہوجائیں گے اور۔۔۔۔

ا لیکشن ملتوی ہوجائیں گے اور۔۔۔۔
ا لیکشن ملتوی ہوجائیں گے اور۔۔۔۔

پشاور میں اے این پی کے جلسہ میں خود کش حملہ الیکشن پر حملہ ہے ؟اے این پی کے رہ نما بشیر بلورشہید کے بعد ان کے صاحبزادے ہارون بشیر بلور کو ٹارگٹ بنا کر خود کش حملہ آوروں نے دہشت گردوں کی واپسی کا اعلان کردیا ہے ۔ یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اگر ایسے مزید خود کش حملے ہوئے تو انتخابی جلسے اور کارنر میٹنگز بھی بری طرح متاثر ہوجائیں گی جس سے الیکشن کا موڈ بدل جائے گا۔خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو پھر وہی ہوگاجس کی سیاسی پنڈت پیش گوئیاں کرتے آرہے ہیِں کہ الیکشن ملتوی ہوجائیں گے،ٹیکنوکریٹ کی حکومت بننے کے اسباب پیدا ہوجائیں گے ۔۔۔

2018 کے الیکشن ملتوی ہوجانے کی پیش گوئیاں کئی ماہ سے جاری ہیں اور اس کے لئے جواز پیش کیا جاتا ہے کہ حالات غیر معمولی طور خون آلود ہوجاگئے تو الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں ۔اگر چہ ہر سنجیدہ فکر ایسے تمام امکانات پیدا ہونے کی موشگافیوں کو رد کرتاہے لیکن کیا کریں کہ شیطان الفکر طبقہ کے ذہنوں میں فساد برپا ہے جو چاہتاہےکہ الیکشن ملتوی ہوجائیں تاکہ ملک میں اگلے پانچ سال تک بھی لولی لنگڑی جمہورےت کو جاری رکھ کر کٹھ پتلی سیاستدانوں کو نچا یا جاسکے ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کون ملتوی کرانا چاہتا ہے ؟ اگر الیکشن ملتوی ہوجاتے ہیں یا پھر اگر الیکشن کا بھرپور ماحول پیدا نہیں ہوپاتا اور ان حالات کے پیش نظر بعض سیاسی جماعتیں الیکشن کا بائیکاٹ کردیتی ہیں تو فائدہ کس کو ملے گا؟ ۔اگرچہ اس پر کافی تبصرے کئے جارہے ہیں اور الیکشن ملتوی ہونے یا نہ ہونے کے امکانات کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی جارہی ہے تاہم جو بنیادی بات سامنے لائی جارہی ہے اسکو مدنظر رکھ لیا جائے تو سمجھ یہ آتی ہے کہ بعض قوتوں کو دس سال تک دو جمہوری منتخب حکومتوں کا تجربہ کچھ کامیاب ہوتا نظر نہیں آیا۔یہ قوتیں ملک کے اندر بھی ہوسکتی ہیںاور ملک سے باہر بھی ۔یہ جہاں بھی ہیں انکی جڑی پاکستان کے اندر تک پھیلی ہوئی ہیں اور وہ لولی لنگڑی جمہوریت کا تسلسل بھی برداشت نہیں کرنا چاہتیں ۔شاید یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ کبھی سیاسی ہتھکنڈوں سے اور کبھی دہشت گردوں کی مدد سے ملک میں مضبوط جمہوری سیاسی تسلسل کو ختم کرنا چاہتی ہیں ۔

جہاں تک سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن ملتوی کرانے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے تو اس حوالہ سے پہلی نظر اُس نظریہ کی جانب اٹھ جاتی ہے جو ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کے لئے عرصہ سے پنپ رہا ہے ۔ماہرین کے مطابق الیکشن ملتوی ہونے کے بعد آئین کے مطابق اسکی راہ پیدا کرلی جائے گی اور اڑھائی سال تک ٹیکنوکریٹ کی مدد سے ملک کو چلایا جاسکتا ہے ۔ قو م کو اسکے ثمرات مل گئے تو ان کا سیاسی نظریہ تبدیل کردیا جائے گا ۔جو قوتیں پاکستان میں ٹیکنوکریٹ کے ذریعہ نظام حکومت سنبھالنا چاہتی ہیں ،ان کے مقاصد کیا ہیں ،کیا وہ پورے ملک کا قبلہ درست کرنا چاہتی ہیں،ان کا مقصد اصلاحات پر عمل کرانا ہے؟؟ ۔ٹیکنوکریٹ کی حکومت آجاتی ہے تو اسکے اہداف کیا ہوں گے ،یہ سوال زیر بحث لانا چاہئے تاکہ اگر پاکستان کو ایک مضبوط ملک بنانے میں یہی نظام کارآمد ہے تو ملک کوتوانا زندگی دینے کے لئے اسکو آزمانے میں کیاحرج ہوسکتا ہے ؟؟؟ تاہم یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ الیکشن ملتوی کس صورت میں ہوں گے ۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ کردیں گی ،دہشت گردی بڑھ جانے اور ہائی پروفائل شخصیات کی زندگیاں داو پر لگ جائیں گی،ان حالات میں الیکشن کمیشن خود سنگین حالات کے پیش نظر الیکشن کے لئے ساز گار ماحول کا انتظار کرنے کا اعلان کرسکتا ہے ۔

ٹیکنو کریٹ کے علاوہ فیورٹ ٹیم کو بھی انتخابات میں آگے لایا جاسکتا ہے ۔اس کا طریقہ کار کیا ہوسکتا ہے ؟ اگرچہ اب ان امکانات کے پورا ہونے کے مواقع کم ہوگئے ہیں تاہم سیکنڈ آپش کہ دہشت گردی بڑھنے سے الیکشن ملتوی ہوجانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔فیورٹ ٹیم کو آگے لانے کے لئے جو نظریاتی فارمولا بروئے کار لایا جاسکتا ہے اسکے تحت دہشت گردی کے ماحول میں بھی بڑی سیاسی جماعتیں بائیکات کے اعلانات کرسکتی ہیں کیونکہ انہیں الیکشن منصفانہ ،شفاف ہوتے نظر نہیں آئیں گے ۔لیکن ان کا یہ فیصلہ انکے الیکٹیبلز کو قبلو نہیں ہوگا ۔یہ الیکٹیبلز اپنی جماعتوں کے فیصلے کے خلاف بغاوت کردیں گے ۔وہ الیکشن کمیشن سے کہیں گے کہ وہ الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور اسکے لئے وہ اپنی جماعتوں کے انتخابی نشانات واپس کردیں گے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے لئے آئین و قانون کے تحت گنجائش پیدا کردی جائے گی کہ وہ پارٹی کے نشان پر الیکشن کی بجائے عام انتخابی نشان پر الیکشن لڑکر پارلینٹ میں پہنچ جائیں ۔ان کی تعداد پارلیمنٹ میں بھاری ثابت ہوتی ہے تو ان کا وزیر اعظم فیورٹ ٹیم کا سربراہ ہوسکتا ہے ۔ان حالات میں ہونے والے الیکشنز میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی بطور جماعت پیچھے رہ جائیں گی اور پارلمینٹ میں الیکٹیبلز کی ایک نئی سیاسی جماعت طلوع ہوجائے گی ۔یہ پارٹی تحریک انصاف کے سامنے کھڑی ہوگی ۔اگر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو حزب اقتدار ،نہیں تو دوسری صورت میں حزب اختلاف کی قیادت اسکے ہاتھوں میں ہوگی اور اگلے پانچ سال تک پارلیمانی سیاست ان دو جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے کو لتاڑتی ہوئی نظر آئے گی۔

خیال ہے کہ الیکشن ہوتے ہیں یا نہیں ،ملک کی تقدیر کے لئے بازار سیاست میں دو نظریئے پروان چڑھائے جاسکتے ہیں،ٹیکنوکریٹ یا فیورٹ ٹیم جو الیکٹیبلز پر مشتمل ہوگی ۔خدا کرے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بدترین حالات میں بھی اپنا سیاسی صبر قائم رکھتے ہوئے ہر صورت میں عام انتخابات کا پل صراط پار کرکے پارلیمان تک پہنچ جائیں اور کوئی بھی کمزور جمہوری نظام کامیاب نہ ہوسکے ۔

.

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...