ہارون بلور کی شہادت لیکن اس سے قبل ہی حاجی غلام احمد بلور انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیا کچھ کہتے رہے؟ جان کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

ہارون بلور کی شہادت لیکن اس سے قبل ہی حاجی غلام احمد بلور انتخابی مہم کے ...
ہارون بلور کی شہادت لیکن اس سے قبل ہی حاجی غلام احمد بلور انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیا کچھ کہتے رہے؟ جان کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

  


پشاور (ویب ڈیسک) وطن عزیز میں پرانے سیاستدان رفتہ رفتہ سیا ست سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں،سردار شیرباز مزاری کی طرح کئی سیاستدان ایسے ہیں جو موجودہ طرز سیاست میں خود کو ان فٹ تصور کرتے ہوئے گوشہ نشین ہوچکے ہیں۔خیر دہر کا قانون بھی ہے کہ پرانے کی جگہ نئے نے لینا ہے۔البتہ پاکستانی سیاستدانوں کے موجودہ ، کردار،لہجے، روش اور طرز تکلم کو دیکھتے ہوئےاکثر پرانے سیاستدانوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ 2018کے انتخابات کے بعد کئی ایسے سیاستدان ہونگے ، جو شاید ہی آئندہ کے انتخابا ت کا حصہ بن پائے۔ان میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور این 31 پشاورسے امیدوار حاجی غلام احمد بلور بھی شامل ہیں جو عوام کو اپنا آخری الیکشن ہونے کا یقین دلا رہے ہیں جبکہ گزشتہ شام بلور کا خاندان کا ایک اور سپوت انتخابی مہم کے دوران دہشتگردی کا شکار ہوگئے۔ 

روزنامہ جنگ کے مطابق حاجی غلام احمد بلور باقاعدہ اپنے رابطہ عوام مہم میں یہ کہتے ہوئے سنے جارہے تھے کہ یہ اُن کے آخری انتخابات ہیں، آئندہ وہ انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہیں اس کا زبردست فائدہ بھی ہورہاہے اور ووٹرزاُن سے اظہار یکجہتی کررہےہیں، بعض مقامات پر تو پارٹی کارکن آبدیدہ ہوجاتےہیں، اور وہ ان سے خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں،وہ آج ماضی سے بھی زیادہ حلقے میں ہر دلعزیز ہیں۔حاحی بلور طویل سیاسی کیریئر رکھتے ہیں ۔ وہ 25 دسمبر 1939کو پیدا ہوئے ، اس طر ح وہ 80 برس کے قریب ہیں۔ آپ تین مختلف حکومتوں میں وفاقی وزیررہ چکے ہیں۔ 2012ء میں امریکا میں مقیم ایک قبطی گستاخ رسول کے سر کی قیمت مقرر کرنے کی پاداشمیں ان کے مغربی ممالک میں داخلے پر پابندی لگ گئی۔ ا یوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی انتخابی مہم میں انہوں نے حصہ لیا اور1970 میں نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے اور اب تک یہ رفاقت قائم ہے،بلور صاحب کا تعلق ایک معروف متمولگھرانے سے ہے ،وہ لوگوں میں حاجی صاحب کے نام سے معروف ہیں۔ اپنے سیاسی سفر میں انہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔

1997کے انتخابی مہم کے دوران بلور صاحب کےاکلوتے بیٹے کو قتل کردیا گیا۔بشیر بلور شہید ، حاجی صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔اُن کی جدائی کے بعد حاحی صاحب خود کو تنہا تنہا محسوس کرنے لگے، اور شاید وہ اسی باعث پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئے۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر بلورصاحب کا انتخابی حلقہ خبروں میں ہے۔ایک بات جو ان کے مخالفین بھی کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ بلور صاحب سے سیاسی اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی شخصیت کے سب ہی گرویدہ ہیں ، اور یہ کہ وہ ان چند سیاستدانوں میں شامل ہیں جو بے داغ کردار رکھتےہیں۔یادرہےکہ گزشتہ شام بھی عوامی نیشنل پارٹی کی کارنرمیٹنگ میں خودکش حملہ ہوا جس میں بلور خاندان کے ایک اور سپوت ہارون بلور سمیت کم از کم 21 افراد شہید ہوگئے اور درجنوں زخمی ہیں ۔ 

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /سیالکوٹ


loading...