نوازشریف اور زرداری دونوں کا نام ای سی ایل میں شامل لیکن دراصل ای سی ایل، بلیک اور بلاک لسٹ کیا چیز ہے؟ وہ باتیں جو ہرپاکستانی کو معلوم ہونی چاہیں

نوازشریف اور زرداری دونوں کا نام ای سی ایل میں شامل لیکن دراصل ای سی ایل، ...
نوازشریف اور زرداری دونوں کا نام ای سی ایل میں شامل لیکن دراصل ای سی ایل، بلیک اور بلاک لسٹ کیا چیز ہے؟ وہ باتیں جو ہرپاکستانی کو معلوم ہونی چاہیں

  


اسلام آباد(ویب ڈیسک) آج کل ملک بھر میں الیکشن کا شور تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ای سی ایل، بلیک لسٹ اور سٹاپ لسٹ کا بھی بہت واویلا ہے، بہت سے لوگوں کے لیے شاید یہ الفاظ نئے ہوں یا پھر وہ ان کے متعلق مکمل معاملات نہ رکھتے ہوں۔آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ای سی ایل، بلیک لسٹ اور سٹاپ لسٹ اصل میں کیا ہیں اور کس طرح یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

ای سی ایل سے مراد ایگزٹ کنٹرول لسٹ ہے۔ اس فہرست میں ان افراد کا نام ڈالا جاتا ہے جنییں کسی جرم یا الزام کے باعث ملک سے باہر جانے سے روکنا مقصود ہو۔ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائی جاتی ہے جو وزیر داخلہ، وزیر قانون اور وزیر خزانہ پر مشتمل ہوتی ہے اور یہ کمیٹی سفارشات وفاقی کابینہ کو ارسال کرتی ہے جب کہ کابینہ کی منظوری کے بعد ایگزٹ فرام پاکستان کنٹرول آرڈیننس 1981 کے تحت ایسے افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالا جاتا ہے لیکن اس کے برعکس کسی کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے ایسی کمیٹی کی ضرورت نہیں۔

بلیک لسٹ کے تحت کسی بھی ملزم کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ایک مخصوص فہرست کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس فہرست میں کسی کی شمولیت کا اختیار چیئرمین نادرا اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے پاس ہوتا ہے تاہم پولیس، ایف آئی اے اور نیب سمیت دیگر ادارے بلیک لسٹ یا ای سی ایل میں نام ڈالنے کی سفارش کرتے ہیں۔

سٹاپ لسٹ وہ فہرست ہوتی جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کسی انکوائری، مقدمہ یا تفتیش میں مطلوب شخص کا نام ڈالتا ہے۔ اس فہرست میں شمولیت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملزم ملک سے باہر نہ جاسکے۔

ای سی ایل، بلیک لسٹ یا سٹاپ لسٹ میں نام ہونے کے باوجود ملک سے باہر جانے کی کوشش پر ایف آئی اے ملزمان کو گرفتار کرسکتی ہے۔ان تینوں فہرستوں میں کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال، دہشت گردی اور منشیات سمگلنگ کے الزام میں نام ڈالا جاسکتا ہے اور سفری پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...