پی پی 160، توصیف شاہ اور محمود الرشید میں کانٹے دار مقابلہ

پی پی 160، توصیف شاہ اور محمود الرشید میں کانٹے دار مقابلہ
پی پی 160، توصیف شاہ اور محمود الرشید میں کانٹے دار مقابلہ

  


لاہور (افضل افتخار سے) لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی160 میں انتخابی سر گرمیوں میں انتخابات کا وقت قریب آتے ہیں تیزی نظر آرہی ہے ہر امیدوار کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح سے ووٹرز کے دل جیت لے اور اس کیلئے ہر ممکن جتن کرنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔

پی پی160 میں مسلم لیگ (ن )کے توصیف شاہ ، تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شکیل احمد پاشا، ایم ایم اے کے غضنفر عزیز جبکہ ملی مسلم لیگ کی جانب سے شفیق گجر ، تحریک لبیک کے رضا مسعود مقابلہ کے لئے میدان میں اتریں گے حلقہ میں اصل مقابلہ تو پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار توصیف شاہ اور پاکستان تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید کے درمیان ہوگا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی میدان میں موجود دیگر امیدوار بھی اپنی اپنی جیت کی امید کے ساتھ بھرپور انداز میں اپنی حیثیت اور وجود کا احساس دلوانے میں مصروف ہیں اور اس کے لئے بھاری رقوم تک خرچ کررہے ہیں اور دیگر امیدواروں کی طرح کارنر میٹنگز کا اہتمام بھی ان کے پلان میں بھی شامل ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار توصیف شاہ عوام کے ساتھ بھرپور رابطوں میں ہیں اور ان کے دکھ درد میں بھی شریک نظر آتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ علاقہ میں ہونے والی کارنر میٹنگ میں بھی ان کو اس بات پر یقین دہانی کروانے میں مصروف ہیں کہ وہ کامیاب ہوکر عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور اس کے لئے اعتماد کا اظہار کیا جائے پاکستان مسلم لیگ ن نے جس قدر ترقیاتی کام کئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی اور مستقبل میں بھی یہ جماعت ہی عوام کے مسائل کو بھرپور انداز میں حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے پاکستان مسلم لیگ نے کے کارکن بھی اس کام میں ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور علاقہ کو ان کے بینرز اور فلیکس سے سجایا جارہا ہے اور گھروں میں جاکر ان کے لئے ووٹ مانگے جارہے ہیں ۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینئر لیڈر اور سابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید بھی اس وقت بھرپور انداز سے عوامی رابطوں میں مصروف ہیں اور ان کی ایک مرتبہ دوبارہ یہ کوشش ہے کہ ماضی کی طر ح ایک مرتبہ دوبارہ اس حلقہ سے وہ ایم پی اے منتخب ہوجائیں اور کارنر میٹنگ میں بھرپور انداز میں مصروف ہیں اور ان میٹنگز میں وہ عو ام کو یقین دہانی کروانے میں مصروف ہیں اور حلقہ میں بطور ایم پی اے کئے گئے کاموں کے بارے میں بھی وہ عوام کو آگاہ کررہے ہیں اس سے قبل اس حلقہ سے انہوں نے کامیابی حاصل کی تھی اور توصیف شاہ ہی ان کے مدمقابل تھے جن کو انہوں نے شکست دی تھی اس لئے اس حلقہ میں ان کو اس بات کا یقینی طور پر ان انتخابات میں فائدہ ہوگا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام ان کو ایک مرتبہ دوبارہ ووٹ دیکر کامیاب کرواتے ہیں کہ توصیف شاہ ان کے مقابلے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی حلقہ میں کمپین میں مصروف ہیں اور عوام کو اپنی جانب گامزن کرنے میں مصروف ہیں اور جلسوں اور میٹنگ میں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے مسائل سمجھے اور حل بھی کئے ہیں اور اس مرتبہ بھی اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ہم پہلے کیطرح عوام کے مسائل حل کریں گے اور اس کے لئے ہمیں ایک مرتبہ موقع ضرورملنا چاہیے۔

اس طرح سے اس حلقہ میں آزاد و دیگر امیدوار بھی عوامی توجہ حاصل کرنے کے لئے بھرپور انداز سے کمپین چلانے میں مصروف ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حوالے سے کون سب سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے اور عوام کس پر اعتماد کرتے ہوئے کس کو جیتواتی ہے اور اس کے لئے انتخابات تک کا انتظار کرنا ہوگا۔

مزید : الیکشن /پنجاب اسمبلی


loading...