طلال چودھری توہین عدالت کیس،عدالت فیصلہ پیمرا نہیں،قانون کے تحت کرے گی،جسٹس گلزار احمد

طلال چودھری توہین عدالت کیس،عدالت فیصلہ پیمرا نہیں،قانون کے تحت کرے گی،جسٹس ...
طلال چودھری توہین عدالت کیس،عدالت فیصلہ پیمرا نہیں،قانون کے تحت کرے گی،جسٹس گلزار احمد

  


اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)طلال چودھری توہین عدالت کیس میں جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت نے پیمرا کو دیکھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرنا، عدالت اپنے قانون کے تحت فیصلہ کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے طلال چودھری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

طلال چودھری کے وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ صرف تین تین منٹس کی دو تقاریر پر کارروائی شروع کی گئی، جس موادپرسوموٹو لیااس میں طلال نے کہا عدالتی مینڈیٹ کی توہین سب سے بڑی توہین ہے،آرٹیکل204 کے تحت طلال چودھری کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونی چاہیے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نوٹ میں لکھا طلال چودھری کا کلپ توہین آمیز اور عدالتی کارروائی میں مداخلت ہے،یکم فروری2018کو رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کو نوٹ لکھا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت نے دو تقاریر پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی، کن دستاویزات کی آپ بات کر رہے ہیں ہمیں معلوم نہیں یہ دستاویز کہاں سے آئیں۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ وہ دستاویز ہیں جو رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کوبذریعہ نوٹ بھیجیں، چیف جسٹس کے حکم کے بعد 22تقاریر جمع کی گئیں ۔

وکیل صفائی نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹس میں وجوہات کا تعین نہیں کیا گیا، 117 ٹی وی چینلز میں سے صرف دو چینلز کی مانیٹرنگ کی گئی،انہوں نے کہا کہ پیمرا کے ڈی جی کے مطابق تمام 117 ٹی وی چینلز کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے، پاکستان میں تو کوئی ایسا فرد نہیں جو اتنا کام کرسکے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کوئی نہ کوئی تو ایسا ہے جس کی وجہ سے ملک چل رہا ہے، دونوں ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی تقریر کا فوری نوٹس پیمرا نے بھی نہیں لیا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت نے پیمرا کو دیکھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرنا، عدالت اپنے قانون کے تحت فیصلہ کرے گی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...