ن لیگ کی پریشانیاں کس کے سبب ؟؟

11 جولائی 2018 (13:43)

ڈاکٹر رشید گِل( کینیڈا)

نواز شریف اور مریم نواز کی آمد کا انتظار عوام کو بالعموم اور مُسلم لیگ کی قیادت کو باا لخصوص شدت سے ہے۔ کیونکہ میاں نواز کی آمد سے مُسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو اُمید ہے کہ عوام میاں نواز شریف کی گرفتاری کو دیکھ کر ووٹ مُسلم لیگ(ن) کو ڈالیں گے۔ خاص طور لاہور سے مُسلم لیگ کوبہت ساری صوبائی اور وفاقی سیٹیں جیتنے کی تو قع ہے۔ مُسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف کی عد م موجودگی میں خاصے مایوس تھے۔ کیونکہ عوام میں اصل مقبولیت نوازشریف کی ہی ہے۔ شہباز اور حمزہ شریف بالکُل میدان میں موجود ہیں لیکں حقیقت یہ ہے کہ عوام نواز شریف کی وجہ سے ہی مُسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیتے ہیں۔
در اصل مُسلم لیگ (ن) کی قیادت کی سوچ اب ایک نہیں رہی بلکہ کشیدہ حالات کی وجہ سے قیادت اور ووٹروں کی سوچ بی بدل چُکی ہے۔ بعض مُسلم لیگی رہنماؤں کا خیال ہے کہ سزا یافتہ میاں نواز شریف پارٹی کے لئے ایک بھاری پتھر بن چُکا ہے۔ جس کی وجہ سے مُسلم لیگ(ن) کی کشتی انتخابات کے سمندر میں کامیابی سے تیر نہ سکی گی۔ بلکہ اس کے ڈُوبنے کے چانسز زیادہ ہیں۔ اُنکے خیال کے مُطابق میاں نواز شریف نے عدلیہ اور افواجِ پاکستان سے لڑائی مول لے کر اپنے پا ؤں پر خود کُلہاڑی ماری ہے۔ پاکستان کے عوام نواز شریف سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن وُہ اپنی افواج سے بھی بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں۔ جس طرح نواز شریف نے اپنے مُلک کی افواج کی عزت کو علیٰ اعلانیہ بد نام اور رسوا کرنے کی کو شش کی ہے اُس سے عوام کا دل کھٹا ہوا ہے۔ عوام یہ بھی جان چُکے ہیں کہ نواز شریف کو ہٹانے یا نا اہل قرار دئے جانے میں افواجِ پاکستان کا کوئی کردار نہیں۔ عدلیہ اور افواج پاکستان آئین پاکستان کی حفاظت اور سر بلندی کے لئے انصاف کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔ نواز شریف سے اُنکی کوئی ذاتی دُشمنی نہیں ہے۔ انہوں نے میاں شریف اور اُنکے بیٹوں ، بیٹی اور داماد کو عدالت میں اپنی صفٖائی پیش کرنے کے لئے پُورا وقت دیا ہے۔ لیکن ا فسوس کہ میاں صاحب شہرت حاصل کرنے کے لئے اخباری بیانات پر زیادہ توجہ دیتے رہے ہیں ۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ وُہ ایسے ثبوت فراہم کرتے جس سے قانون کی ضرورت پُوری ہو جاتی۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مُناسب ہے کہ میاں صاحب کے پاس منی ٹریل سرے سے ہی موجود نہ تھا۔ وُہ زُبانی کلامی اپنا رُعب جمانے کی سعی میں مُصروف تھے۔ اُن کو یہ زُعم تھا کہ عمراں خاں اور اُنکے ساتھی چند دن شور مچا کر چُپ ہو جا ئیں گے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنی بے گُناہی کو ثابت کرنے کے لئے غلط بیانی کا سہار ا لیا اور فرمایا کہ انہوں نے منی ٹریل اور اپنے اثاثہ جات کے تما م اثبات قومی اسمبلی کے سپیکر کو جمع کر واد ئیے ہیں۔ مزید باراں، انہوں نے خُود اپنے رضا و رغبت سے عدالت عالیہ میں احتساب کے لئے پیش کیا۔ جب کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے میاں صاحب کی پیش کش کی مخالفت کی۔ حزب اختلاف کا موقف یہ تھا کہ ایسے معاملات کو دیکھنے اور سُدھارنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جا نی چاہئے۔ لیکن نواز شیف نے اپنے مشیروں کے کہنے پر حزب اختلاف کی رائے کو در خور اعتناء نہ سمجھا اور کیس کی عدالت عالیہ میں سماعت ہوئی۔ عدلیہ کے معزز بنچ کے تین اراکین نے جے آ ئی ٹی بنانے کی سفارش کی۔ کیونکہ وُہ نواز شریف اور اُنکی فیملی کومزید وقت دینا چاہتے تھے تاکہ وُہ اپنی بے گُناہی میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر سکیں ۔ لیکن یہ بھی وقت کے زیاں کے سوا کُچھ نہ تھا۔ معزز عدالتوں کو ر سوا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ بالاخر بنچ کے باقی ججوں نے بھی ثبوت دیکھ کر فیصلہ نواز شریف کے مخالف دیا۔ اقامہ رکھنے اور اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی پاداش میں عدلیہ نے قرار دیا کہ وُہ صادق اور ا مین نہیں رہے۔ اس لیئے وُہ وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے کے بھی قا بل نہیں رہے۔ یہ میاں صاحب اور اُنکے خاندان کے لئے ایک بہت بڑا سیاسی جھٹکا تھا لیکن نواز شریف اور اُنکی بیٹی مریم نواز شرم ساری محسوس کرنے کی بجائے بڑی ڈھٹائی سے عدلیہ اور افواج پاکستان کے وقار کو نشانہ بناتے رہے۔
انگریزی کے اخبار ڈان کو مخصوص انداز میں خبر لیک کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ افواج پاکستان کی قیادت کی وجہ سے سول حکومت کامیابی سے نہیں چل سکتی۔ حکومت کے ہر کام میں فوج ٹا نگ اُڑاتی ہے۔ پاکستان کی سول حکومت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے مستعد ہے لیکین افواج پاکستان اپنے مُفادات کی وجہ سے کشمیر کے مسئلہ کو حل نہیں کر نا چاہتی۔ در اصل، بھارت کی خُوشنودی حاصل کرنے کے لئے فوج کو بین الاقوامی سطح پر بد نام کر نا اور اُس کو عوام کی نظروں میں بے توقیر کرنا نواز شریف کا نصب العین تھا۔ نواز شریف کی یہ بھی خواہش تھی کہ فوج عدلیہ پر دباؤ ڈال کر اُنکی نا اہلی کو ختم کر دے۔ لیکن فوج کی اعلیٰ قیادت نے قانون کی بالادستی کے لئے عدالتی کاروائی میں کسی قسم کی مداخلت کرنا مُنا سب نہ سمجھا۔ فوجی قیادت کے غیر جانبدارنہ رو ئیے سے ما یوس ہو کر اور نا خواندہ عوام میں مُقبولیت حاصل کرنے کے لئے یہ پراپیگنڈا کیا گیا کہ فوجی قیادت کے دباؤ سے متاثر ہو کے عدلیہ نے حقائق کے مُنافی فیصلہ دیا ہے۔
مُسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کا ایک گروہ میاں نواز شریف کو خرابی حالات کا زمہ دار قرار دیتا ہے۔ یہ حلقہ احباب نہیں چاہتا تھا کہ نواز شریف جذبات کی رو میں بیٹھ کر ایسے احمقانہ بیانات دیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے اُنکی سیاسی ساکھ کو خاطر خوا نقُصان پہنچے گا۔ لیکن وُہ اپنی ہٹ دھرمی پر قایم رہے اور اب سزا پانے کے باوجود بھی وُہ اپنے بیانیہ کو سچا ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
مُسلم لیگ(ن) کی قیادت کا دوسرا گروہ مریم نواز کو تمام خرابی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ وُہ عدم تجربہ کاری کی بنا پر میاں صاحب سے ایسے بیانات دلوا رہے ہیں جو مُسلم لیگ ن کی قیادت کے لئے منفی اثرات لئے ہوئے ہیں۔ عوام مُسلم لیگ کی قیاد ت سے متُنفر ہو چُکے ہیں۔ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ میاں صاحب کے ذاتی اور کارو باری مُفادات کی وجہ سے وُہ بھارت کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی فوجی قیادت بھارت کے ساتھ اُنکے ذاتی تعلقات کو پاکستان کے لئے مُضر خیال کر تی ہے۔ فوج نے نواز شریف کی بھارت نواز پالیسیوں کی ہمیشہ ہی مخا لفت کی۔ عوام نواز شریف سے اس لئے بد ظن ہیں کہ انہوں نے بھارت جیسے دُشمن کو فائد ہ پہچانے اور اپنے مُفادات کو حاصل کرنے کے لئے فوج اور عوام کے وقار کو داؤ پر لگا دیا۔ ایسے شخص پر بھر وسہ کرنا، مُلک اور قوم کے لئے گھاٹے کا سودا ہے۔
نواز شریف کو سزا ملنے کی وجہ سے سیاسی پارٹیوں کا ردِ عمل خاصہ مُبہم ہے۔ کُچھ پارٹیاں خوش ہیں کہ وُہ نا اہل قرار پائے اور اب مجرم بن کر کال کو ٹھری میں رہیں گے۔ لیکن بعض پار ٹیوں کو خدشہ ہے کہ اُنکی گرفتاری کی وجہ سے عوام کو ہمدردکا ووٹ مل سکتا ہے۔مُسلم لیگ ن عجیب مخمصے کے عالم ہے۔ نواز شریف کی پالسیوں کی وجہ سے مسلم لیگ عوام میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھو رہی ہے۔ مُسلم لیگ کے رہنماء پارٹی کو چھوڑ کر دوسری سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ مُسلم لیگ کے الیکٹیبلز پارٹی سے باغی ہو چُکے ہیں۔ بہت سارے مُسلم لگی تحریک انصاف میں شامل ہو چُکے ہیں۔ ان حالات میں ن لیگ کو انتہائی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے ۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں