والدین کا قرض ادا کرنے کا تین نکاتی فارمولا

والدین کا قرض ادا کرنے کا تین نکاتی فارمولا
والدین کا قرض ادا کرنے کا تین نکاتی فارمولا

مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ ان کی خدمت کا موقع نہ پا سکے یا انہیں راضی نہ کرسکے ، وہ اس کی تلافی کے لیے کیا کریں؟ میں ایسے لوگوں کے لیے ایک سہہ نکاتی فارمولا بیان کرتا ہوں۔ اپنے اور اپنے والدین کے لیے استغفار و دعا، بزرگوں کا احترام اور دوسروں کو اپنے والدین سے حسنِ سلوک کی تلقین۔

حقیقت یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک خدا کی بندگی کے بعد دین کا سب سے بڑ ا مطالبہ ہے۔ قرآنِ کریم نے کئی مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے۔ احادیث میں بار بار والدین کی فضیلت کئی پہلوؤں سے بیان ہوئی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ (نسائی) ایک دوسری حدیث میں باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ (ترمذی)۔

والدین کی اس اہمیت کا سبب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جو کچھ پاتا ہے ، اس میں سے بیشتر، عالم اسباب میں ، والدین کی مہربانیوں سے انسان کو ملتا ہے۔ زندگی جیسی قیمتی چیز انسان کو والدین کے ذریعے سے ملتی ہے۔ بچپن کے کمزور ترین لمحات میں جب انسان اپنے اوپر سے مکھی تک نہیں اڑ ا سکتا، ماں اور باپ اس کی پرورش کی انتہائی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ ماں اسے دکھ جھیل کر پیٹ میں رکھتی اور دکھ جھیل کر ہی جنم دیتی ہے۔ وہ اپنا آرام قربان کر کے اسے غذا فراہم کرتی اور اس کی گندگیوں کو بغیر کسی کراہت کے اس کے وجود سے دور کرتی ہے۔ جبکہ باپ اپنا سارا مال اور ساری محبت اولاد پر نچھاور کر دیتا ہے۔ وہ ساری زندگی مشقت جھیل کر اولاد کے سر پر تحفظ اور سکھ کی چادر تانے رکھتا ہے۔

اسی لیے قرآن و حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔ مگر اکثر لوگوں کی بدقسمتی ہے کہ والدین کی اس اہمیت کا انہیں احساس نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ والدین دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور جنت کا یہ دروازہ ان پر ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...