شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 56

11 جولائی 2018 (14:05)

قمر نقوی

زخمی شیر ..... یا زخمی چیتے کی تلاش ..... دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک اور انتہائی تجربے وہمت کا کام ہے ..... یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ بلی بھی زخمی ہو کر انتہائی دلیری کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنے دشمن سے سخت مقابلے پر آمادہ ہوجاتی ہے ..... شیر اور چیتا تو بہت طاقتور اور انتہائی خطرناک درندے ہیں ..... ان کا کام ہی کشت و خون ہے ..... اور عام عالم مین ان دونوں سے بہتر جان لینے کا کام عزرائیل کے سوا اور کوئی انجام نہیں دے سکتا .....

زخمی شیر یا چیتے کی تلاش میں اکثر لوگوں کے ساتھ نہ صرف نا خوشگوار واقعات پیش آئے ہیں بلکہ جانیں تلف ہونے کے سانحے بھی ہوتے ہیں تھے .....

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 55پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرے بچپن کے زمانے میں ایک با رمیرا ہاتھ ٹوٹ گیا ..... الٹے ہاتھ کی ہڈی عین کہنی کے اوپر سے ٹوٹی ..... مجھے دس روز بھوپال کے حمد یہ ہاسٹیل کے ایک خصوصی کوارٹر میں رکھا گیا ..... جو دو کمروں کا نہایت صاف ستھرا کوارٹر تھا ..... میری نانی اماں اور ایک اور کوئی خاتون میرے ساتھ رہتی تھیں .....

والدہ ماجدہ اور والد صاحب دو تین چکر لگاتے اس لیے کہ گھر میں بھی کسی نہ کسی کا رہنا ضروری تھا ..... میرے نانا .....حضرت ضیاء الدینؒ صاحب نقوی بخاری نقشبندی ..... اپنے وقت کے عظیم روحانی پیشوا ..... بھوپال کے مشہور ولی اور نواب بھوپال کے مرشد تھے ..... وہ بھی روزانہ کسی نہ کسی وقت مجھے دیکھنے آتے تھے ..... ڈاکٹر خان ان دنوں ہاسٹیل کے مشہور سرجن تھے ..... ان صاحب کی مہارت کا یہ کمال تھا ..... کہ ہڈی صحیح جگہ نہیں بٹھا پائے تھے ..... بار بار مجھے بے ہوش کرتے ،جوڑ کو اکھاڑتے اور ازسر نوجماتے ..... اور پھر غلط بیٹھتی ..... نو مرتبہ انہوں نے نا چیز کو کلو روفارم کے ذریعے سے بے ہوش کیا اور نو مرتبہ ٹوٹی ہوئی ہڈی کو اکھاڑ کر پھر سے بٹھا یا ..... اس کے باوجد ہڈی جڑی تو اس طرح کہ اس کی نوک ایک طرف سے محسوس کی جاسکتی ہے ..... غالباً بے سبب ماہر مشہور ہو گئے ہوں گے ..... ورنہ معمولی جراح ان سے بہتر نتیجہ دکھا سکتے ہیں ..... انتی بار کلو رو فارم دینے کے خراب اثرات بھی ہوسکتے تھے ..... جس کا ان ڈاکٹر کی دم نے خیال نہیں کیا ..... نیم حکیم خطرہ جان .....

میرے کوارٹر سے ذرا ہی فاصلے پر ایک کوارٹر میں نواب صاحب کے ایک مصاحب زیر علاج تھے ..... ان کے دونوں بازو اور کلائیاں چیتے نے چپا ڈالی تھیں ..... روزانہ ڈاکٹر اور نرسیں ان کے ہاتھوں کی پٹیاں بدلتے ..... ڈاکٹر یا تو وہی نیم حکیم خطرہ جان ڈاکٹر خان ہوتے ہوں گے ..... یا ان ہی جیسا نا اہل کوئی اور ..... جب پٹیاں بدلی جاتیں تو وہ بے چارے اس درد ناک آواز سے چیختے کہ سننے والوں کے دل دہل جاتے تھے .....

ان کے دونوں ہاتھ ..... نواب بھوپال کے زخمی کردہ چیتے نے چبائے تھے جس کو تلاش کر کے ہلاک کر نے کا کام نواب نے ان کے سپرد کیا تھا ..... خود نواب کو کیا پڑی تھی کہ وہ چیتے کو تلاش کرتے اور مارنے کی کوشش کرنے ..... وہ نواب ہی کیا جو عام لوگوں کے کام کرنے لگے .....

بہرحال پندرہ روز بعد میں گھر لے آیا گیا ..... ٹوٹے ہاتھ کی پٹی بھی اسی ناہنجار ڈاکٹر نے کھولی اور جس روز پٹی کھلی اس روز مجھے اپنے ہاتھ سے نام نہاد ڈاکٹر کو پھولوں کا ہار بھی پہنانا پڑا ..... چہ عجیب ..... !

گھماں زمین بھی دیکھتا ..... جھاڑیوں اور گھاس پر بھی خون کے نشان دیکھتا ..... کوئی نہ کوئی نشان ملتان ہی جاتا تھا ..... کہ نصف میل چل کر چیتا پھر ایک جگہ جھاڑی میں بیٹھا رہا تھا ..... لیکن اس بار خون کے نشانات کم تھے ..... یا تو خون بند ہوگیا یا بہت کم نکل رہا تھا.....

یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ چیتے کی حالت ٹھیک نہیں ..... اس لیے کہ آگے چل کر وہ صرف پچاس چالیس گز چل کر ہی بیٹھ گیا تھا ..... اس کے آگے بیس پچیس گز پر وہ ٹھہرا رہا ..... جہاں کہیں نشانات تھے وہ تین پیروں کے تھے ..... چوتھا زمین پر لٹک کر گھسیٹا جاتا تھا اور غالباً وہ پاؤں جھاڑیوں سے ٹکرا کر چلنے میں بھی ہارج ہوتا ہوگا اور تکلیف کا باعث بھی .....

وہ سیدھا پہاڑ کے دامن میں غول پیکر چٹانوں کے درمیان ایک تنگ درے میں گھس گیا تھا ..... اس درے میں بمشکل ایک آدمی ہی جا سکتا تھا ..... میں نے گھماں کو اشارا کیا کہ وہ ہر طرف کی زمین جھاڑیاں اور پتھروں کو دیکھ کر اطمینان کر لے کہ چیتا اسی طرف گیا ہے ..... اس نے ہر طرف دیکھ کر مجھے بتایا کہ خون کی کئی چھینٹیں ہیں ..... اور چونکہ چٹانوں کے نزدیک مٹی نرم تھی اس لیے اس پر پیر کے گھسٹنے کا واضح نشان بھی تھا ..... اب میں نے ان نشانات کو دیکھا ..... اور یہ اطمینان کر لیا کہ .....

چیتا اسی طرف گیا تھا ..... غالباً ان چٹانوں کے درمیان اس کی پناہ گاہ تھی ..... یا کچھار ..... !

اس مقام پر ہر طرف سنگلاخ چٹانیں ..... اور چھدرے درخت تھے ..... کناروں کی طرف بہت ہی تناور درخت جنہوں نے سارے علاقے پر سایہ کر رکھا تھا .....

اس وقت گیارہ بج گئے تھے ..... گویا ہم دونوں کو وہاں تک پہنچنے میں دو گھنٹے سے زیادہ لگے تھے جو زیادہ وقت نہیں اس لیے کہ نشانات کی تلاش میں نہایت آہستہ پیش قدمی ہوئی تھی .....

میں نے گھماں کو ہدایت کی کہ وہ کسی نزدیکی بلند ترین درخت پر چڑھ کر اطراف میں دیکھے کہ چیتا کہیں سے نظر آتا ہے کہ نہیں ..... تھوڑی ہی دور پر ایک بڑی پیپل کے درخت پر گھماں بندر کی طرح چڑھ گیا ..... اور چٹانوں کو ہر ممکن زاویے سے دیکھتا جہاں تک بلند ہو سکتا تھا ہوتا گیا ..... لیکن ..... چیتا نظر تو نہیں آیا البتہ ..... ’’صاحب ..... چٹانوں کے ادھر جنگل ہے ..... گھنا بہت گھنا ..... اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک غار میں بھی ہیں ..... ‘‘’’غار ..... بڑے غار ہیں ..... ؟‘‘ میں نے پوچھا

’’دہانہ تو اونچا نہیں ..... لیکن ایسے غار ہیں کہ شیر چیتا رہ سکتا ہے ..... ‘‘

’’ہوں ..... ‘‘غالباً ہم چیتے کی کچھار تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ..... !

ہم گاؤں سے بمشکل ڈیڑھ میل پر تھے ..... جس قسم کا زخم چیتے کو آیا تھا اس کے پیش نظر اس کا اتنے فاصلے تک آنا ہی بڑا تعجب خیز تھا ..... لیکن شیر اور چیتے جس طرح کی قوت برداشت ‘ اور ہمت رکھتے ہیں ان کے تحت یہ کچھ نا ممکن نہیں تھا .....

سرنگ نما راستوں پر چاروں ہاتھوں پیروں سے چلنے والے جانور ہی جا سکتے تھے ..... میں چیتے کے کچھار میں ..... یا اس علاقے میں جہاں زخمی چیتا موجود ہے ‘ چاروں ہاتھوں پیروں سے چل کر اس سرنگ میں گھسنے کا خیال بھی نہیں کر سکتا تھا ..... پھر یہ کہ چٹانیں ..... یاٹول ..... اتنی دیو پیکر تھیں کہ ان کے اوپر چڑھنا بھی آسان معلوم نہیں ہوا ..... الایہ کہ کسی سیڑھی یا درخت کی شاخ کی مدد سے میں اوپر چڑھوں .....

میں اس مقام سے تقریباً دس گزر دور ہٹ گیا ..... یہ تو تحقیق ہوگیا تھا کہ چیتا اسی کچھار میں گیا ..... یہ بھی میں جانتا تھا کہ جس قسم کا زخم اس کو آیا وہ مہلک نہیں ہے ..... خون اب تک بالکل رک گیا ہوگا ..... اور غالباً چیتا اب اپنے زخم چاٹ رہا ہوگا ..... لیکن اسی معذوری کے حال میں چیتا شکار کرنے اور پیٹ بھرنے کے لیے کسی جدوجہد کے قابل قطعاً نہیں تھا ..... تاہم اس کے فاقوں سے مرنے کے امکانات کم تھے ..... بلی کے خاندان کے جانوروں کی قوت برداشت کا اندازہ بہت مشکل ہے ..... بعض واقعات ایسے سننے میں آئے ہیں جن میں شیر یا چیتے نے زخمی اور ناکارہ ہونے کے باوجود ایک رات شکار کیے بغیر گزاردی .....

ایک بلی میرے گاؤں کے ایک اندھے کنویں میں گری ..... اور تین ہفتے اس کنویں میں گرفتاری ہی تاآنیکہ میں گاؤں آیا تو مجھے معلوم ہوا ..... میں نے بتانے والوں کو شرمندہ کیا کہ اتنے دن سے وہ بھوکی پیاسی وہاں پڑی ہے نہ کسی نے اس کو نکالنے کی کوشش کی نہ کھانے پینے کو کچھ دیا ..... اس کنویں میں پانی بھی نہیں تھا ..... میں نے رسی میں ٹوکری بندھوا کر کنویں میں لٹکوائی اور کوئی گھنٹے کی کوشش کے باوجود جب بلی نہ نکلی تو میں نے ایک آدمی سے کہا کہ وہ رسوں میں لٹک کر کنویں میں اترے اور بلی کو پکڑ کر لائے ..... آخر کار اس کو نجات دی گئی ..... یہ بلی نقاہت کی وجہ سے اپنے پیروں پر کھڑی بھی نہیں ہوسکتی تھی ..... لیکن زندہ تھی .. اس کو دودھ پلایا گیا ..... جو وہ بڑی مشکل سے ہی پی سکی ..... ایک گھنٹہ بعد پھر دودھ دیا گیا ..... جو اس نے پی لیا ..... دو ہفتے بعد بلی پہنچانی نہیں جاتی تھی.....

پچھلے پیر کا ٹوٹنا چیتے کے لیے بہت تکلیف دہ صورت حال تھی ..... وہ بھی سیدھی جانب کا اور اس کے صحیح جڑجانے کے امکانات قطعاً نہیں تھے .....

میں اگر کسی طرح ٹول پر چڑھ جاتا تو غالباً امکان روشن تر ہوسکتے تھے ..... لیکن یہ میں بھی جانتا تھا کہ چیتا باہر سامنے تو بیٹھا نہیں ہوگا ..... اگر غار تھا تو وہ غار میں اندر گھس کی بیٹھا ہوگا .....

’’یہ ٹول جو سامنے ہیں ..... ان کے پیچھے بھی ٹول ہیں ..... ‘‘

’’ہاں جناب ..... دو تین اور بھی ہیں ..... ‘‘

’’اتنے ہی بڑے ..... ‘‘

’’ ان سے بھی بڑے ..... ‘‘ اس نے جواب دیا .....

اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں سامنے والے ٹول پر چڑھ جاؤں ..... تو پھر اس کے بعد والے بلند تر ٹول پر کس طرح چڑھوں گا .....

سامنے جو تین دیو پیکر ٹول تھے وہ کم از کم سات فٹ اونچے تو تھے ہی .....

’’اچھا ..... ایسا کرتے ہیں ..... ‘‘میں نے گھماں سے کہا

’’گھماں خاں ..... تم مجھ کو سامنے والے ٹول پر کسی طرح جڑھا دو ..... ‘‘

’’میرے کندھے پر پیر رکھ کر آپ اوپر چڑھ جائیے..... ‘‘

’’ہاں ..... لیکن تم کو بہت احتیاط کرنا ہوں گی ..... مجھے چڑھانے کے بعد تم فوراً قریب کے درخت پر چڑھ جانا ..... ‘‘

’’اچھا جناب ..... ‘‘

میں نے ایک بار پھر اطراف کا فائزہ لیا ..... ان جنگلوں میں کسی لمحہ بھی غافل ہونا یا کسی سمت کو نظر انداز کرنا یقینی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ..... چیتے کے بارے میں تو یقین تھا کہ وہ ان چٹانوں کے پیچھے گیا اور جس حالت میں وہ تھا اس کے پیش نظر یہ بھی گمان نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ کسی اور سمتی سے نکل کر حملہ کرے گا ..... لیکن ..... ان تمام مفروضات کے باوجود احتیاط کے فوائد اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں ...

(جاری ہے)

مزیدخبریں