عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 19

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 19
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 19

وہ طے شدہ وقت سے قدرے تاخیرسے پہنچاتھا ۔ اسے توقع تھی کہ اکبر مارسی کا پیغام لے کر پہنچ چکا ہوگا۔وہ درواذے میں داخل ہوا تو اس کی نظر اکبر پر پڑی جو آبنوس کے درختوں کے نزدیک ایک ٹوٹی ہوئی دیوار پر چڑھ کر بیٹھا تھا ۔ اکبر کی نظریں دروازے پر ہی لگی تھیں۔ جونہی قاسم یادگار میں داخل ہوا وہ کود کر نیچے اترا اور قاسم کی طرف بڑھنے لگا۔ اتنے میں قاسم کی نظریں جھاڑیوں کے عقب میں چھپی بگھی پر پڑیں تو وہ چونک اٹھا۔ اس کا مطلب تھا کہ مارسی خود یہاں چلی آئی تھی۔ وہ مارسی کی جرأت پر حیران ہوا۔ آج کل مارتھا اور ابو جعفر اپنی سازش کے آخری مراحل میں تھے اور ابو جعفر آج ہی مارتھا کے گھر سے اٹھ کر گیا تھا ۔ مارسی کو احتیاط کرنی چاہیے تھی۔ یقیناًمارتھا اور ابوجعفر کو مارسی پر شک تھا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابوجعفر کے خفیہ آدمی مارسی کی نگرانی کرتے ہوں۔ قاسم یہی باتیں سوچتا تیز تیز قدموں سے بارہ دری کی طرف بڑھنے لگا۔ اب اکبر بھی اس کے نزدیک آپہنچا تھا ۔ قاسم نے اکبر کو مسکراکر دیکھا اور کہا:۔

’’لگتا ہے تمہاری مالکن خود آئی ہے۔ بارہ دری میں ہے شاید؟‘‘

اکبر نے پرجوش انداز میں سرہلایا اور قاسم سے ہاتھ ملا نے کے بعد کہا:۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 18پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مالکن بارہ دری میں نہیں ہیں۔ وہ بگھی میں بیٹھی ہیں۔ آپ بھی وہیں چلیے۔ آج ہمیں اپنے تعاقب کا خطرہ تھا اس لیے ہم مختلف راستوں سے چھپ چھپا کر آئے ہیں۔‘‘

قاسم مارسی کی دانشمندی پر حیران رہ گیا ۔ گویا جو کچھ اس نے سوچا تھا ، مارسی کو بھی اس کا احساس تھا ۔ مارسی کے ساتھ اپنے خیالات کی ہم آہنگی دیکھ کر قاسم کے دل میں انجانی سی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ بگھی کے قریب پہنچا اور بگھی کا عقبی پردہ اٹھا کر بگھی کے اندر بیٹھی مارسی کو سلام کیا۔ مارسی نے مسکرا کر قاسم کے سلام کا جواب دیا ور اسے اندر بلا لیا۔ اکبر دوڑ کر دوبارہ ٹوٹی ہوئی دیوار پر جا چڑھا۔ اب وہ ایک ہوشیار چیتے کی طرح چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔

مارسی اور قاسم بگھی میں نصب لکڑی کی نشستوں پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ یہ ایک چار ضرب دس فٹ کا چھوٹا ساکمرہ تھا ۔ مارسی اور قاسم ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک تھے کہ ان کے گھٹنے ایک دوسرے کو چھو سکتے تھے۔ آج مارسی سادہ لباس میں تھی اور پہلے سے بھی زیادہ حسین دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں تجسس کی رمق تھی۔ یکلخت اس کی سرسراتی زلف اس کے سر سے پھسل کر شانے پر آگری ۔ اس نے بائیں ہاتھ سے زلف کو سلجھایا اور مسکرادی۔ قاسم کو یو ں لگا جیسے کلیاں کھل اٹھی ہوں ۔ ایک لمحے کے لیے تو اسے اپنی تمام ذمہ داریاں اور ضروریات بھول گئیں۔ وہ سوچنے لگا اس لڑکی کا حسن پہلے دن سے اس کے اعصاب پر سوار ہوجاتا ہے۔ اس نے سرکو جھٹکا اور چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے کہا:۔

’’آج ابوجعفر آپ کے گھر آیا تھا ۔‘‘ مارسی، قاسم کی بات سن کر شرارت سے مسکرادی اور زور زور سے سر ہلاتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’آپ نے مجھے ابوجعفر کی جاسوسی کرنے کے لیے کہا۔ لیکن اس طرح مجھے آپ کی اصلیت معلوم ہوگئی.........جناب شاہی سراغ رساں صاحب!‘‘

قاسم پہلے تو کچھ نہ سمجھا، لیکن پھر فوراً سمجھ گیا اور شرمندگی سے مسکرادیا۔

’’اچھا، چلو اگر تمہیں پتہ چل گیا ہے تو تم یہ سمجھو کہ میں نے تمہیں سلطنت کی طرف سے ایک نیک فریضہ سونپا ہے۔ اور اب یہ بتاؤ کہ ابوجعفر اور تمہاری ماں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟‘‘

مارسی فوراً سنجیدہ ہوگئی، کہنے لگی۔ ’’مجھے آج حد سے زیادہ حیرت ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ میری ماں اور ابوجعفر قیصرِ قسطنطنیہ کے لیے کام کررہے ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری ماں اس قدر خطرناک سازش میں حصہ لے سکتی ہے.........ہاں ! وہ لوگ سازش کر رہے ہیں۔ کل ینی چری کا جو سالار قتل کیا گیا ہے، ابو جعفر کا یہ خیال ہے کہ وہ قتل شاہی سراغ رساں قاسم بن ہشام یعنی آپ نے کیا ہے۔ ینی چری کا سالار اسلم خان ، ابوجعفر کا آدمی تھا ۔ ابوجعفر کو اس کی موت کا بہت افسوس ہوا۔ وہ آپ کو نقصان پہنچانے کی بات بھی کر رہاتھا ۔ جہاں تک میں اپنی ماں اور ابوجعفر کی باتیں سمجھی ہوں تو میرا یہ خیال ہے کہ وہ سلطان کی واپسی سے پہلے ادرنہ میں کوئی خطرناک کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ اس لیے میں نے حقیقت حال بتانے کے لیے خط لکھنے کی بجائے خود آنا مناسب سمجھا۔‘‘

مارسی کی بات سن کر قاسم کو ذرا بھر حیرت نہ ہوئی۔ یہ سب باتیں اسے پہلے سے معلوم تھیں، البتہ اس کا رہا سہا شک بھی جاتا رہاتھا اور اسے یقین ہوچکاتھا کہ ادرنہ میں ابوجعفر اور اس کے ساتھی سلطان کی آمد سے پہلے پہلے بغاوت پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پر عزم لہجے میں مارسی سے کہا۔

’’تم فکر نہ کرو۔ آج رات میں ابوجعفر کو گرفتار کرلوں گا۔ اور وہ خود اپنی سازش کے سارے تانے بانے اگل دے گا۔‘‘

مارسی نے چونک کر دیکھا اور پرجوش لہجے بولی۔ ’’کیا واقعی ! تم ایسا کرسکتے ہو؟ میں نے تو سنا ہے کہ ابوجعفر کا اثر ورسوخ دربارِ شاہی تک ہے۔ وہ میری ماں کو تسلی دے رہا تھا کہ شاہی سراغ رساں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ وہ شہزادہ علاؤالدین کو اپنے اعتماد میں لے چکا ہے۔‘‘

شہزادے کا ذکر سن کر قاسم کی تیوری پر بل پڑ گئے۔ اسے ہر جگہ سے ایک ہی بات سننی پڑ رہی تھی۔ اب اس کے دل میں یہ کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں سچ مچ سلطان کا بڑا بیٹا ابوجعفر کی گرفتاری میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ وہ اسی خیال میں محو ہوگیا کہ کسی طرح شہزادے کو ابوجعفر کی حمایت سے باز رکھا جاسکے۔ مارسی نے اسے گم دیکھا تو اپنی نازک انگلی سے اس کے گھٹنے پر ٹھوکہ دیا۔ مارسی کے لمس میں برقی رو دوڑ رہی تھی۔ قاسم کو جیسے شاک لگا۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ مارسی اس کی حالت سے محظوظ ہوئی اور شرارت سے مسکرائی اور کہنے لگی۔

’’بخدا ! آپ خالص عرب مسلمان ہیں۔ آپ کے اندازو اطوار آپ کے شریف الطبع ہونے کی دلیل ہیں...........آپ کو دیکھتی ہوں تو دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ آپ سے ایک لمحے کے لیے بھی دور نہ ہو جاؤں ۔ ‘‘ آخری بات کہتے ہوئے مارسی کی آنکھیں جھک گئیں۔

اب محظوظ ہونے کی باری قاسم کی تھی۔ اس نے کچھ شرارت اور کچھ پیار کے کے لہجے میں مارسی سے کہا۔

’’ دور جانے کا خوف ہے تو ایک ہی بار نزدیک کیوں نہیں آجاتیں۔ میری والدہ محترمہ اور بھابھی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔ آپ کسی وقت ہمارے گھر آئیے۔ ‘‘

قاسم کا پہلا جملہ انتہائی واشگاف تھا ۔ مارسی کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا اور اپنی جگہ پر چھوئی موئی کی طرح سمٹ گئی۔ قاسم کو احساس ہو ا کہ اس نے بہت جلد بہت بڑی بات کہہ دی ہے۔ اس نے فوراً بات بنانے کی کوشش کی۔

’’میرا خیا ل ہے آپ کو ہمارے گھر آنا اچھا نہیں لگا۔ شاید اسی لیے آپ خاموش ہیں۔‘‘

مارسی ، قاسم کی بات سن کر سٹپٹا گئی۔ اس نے فوراً سراٹھا لیا اور وضاحت کرنے لگی۔

’’نہیں نہیں ، ایسے مت کہیے۔ میرے لیے تو آپ کا نام ہی اب زندگی کا سہارا ہے۔ آپ کو معلوم نہیں، سکندر نے مجھے کس قدر تنگ کیا ہے۔ سکندر اور میں ایک ساتھ پل کر جوان ہوئے ۔ میری ماں اس کے باپ کی کنیز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے اپنے باپ کی جاگیر سمجھتا ہے.........اس نے جانے سے پہلے مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہا لیکن میں نے یہ کہہ کر کہ میں ایک عیسائی ہوں اور وہ ایک مسلمان ہے، اس لیے میں اس سے شادی نہیں کرسکتی، وقتی طور پر اپنی جان چھڑالی ہے۔ لیکن اب تو وہ اسلام سے پھر چکا ہے اور دوبارہ عیسائی بن گیا ہے۔ میں ہر لمحہ احساسِ عدم تحفظ کا شکار ہوں۔ کیونکہ میری ماں بھی یہی چاہتی ہے کہ میں سکندر سے شادی کرلوں۔ سکندر نے جاتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وہ مجھے بہت جلد اپنے پاس بلوالے گا۔ ایسی صورت میں آپ کا وجود میرے لیے ایک پناہ گاہ کی طرح ہے۔‘‘

مارسی کی بات سے قاسم کے تن بدن میں سکندر کے خلاف غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے پہلے اسے مارسی کا دکھ معلوم نہیں تھا ۔ اسے احساس ہوا کہ مارسی ٹھیک کہتی ہے۔ سکندر جیسے کینہ پرور انسان سے کچھ بھی بعید نہیں۔ اب قاسم ، مارسی کو اپنے دل کے اور بھی قریب محسوس کررہا تھا ۔ اس نے ایک نئے عزم کے ساتھ کہا۔

’’مارسی ! آپ نے بہت اچھا کیا مجھے سکندر کے عزائم سے آگاہ کردیا۔ اب میں آپ کے سلسلے میں بھی خبردار رہنے کی کوشش کروں گا۔ آپ کچھ فکر مت کیجیے۔ آج میں نے ابوجعفر کو حراست میں لے لیا تو امید ہے ادرنہ میں موجود اس کے اور سکندر کے تمام ساتھی ہماری نظر میں آجائیں گے۔ اور پھر جلد ہی سارے دھر لیے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ کے لیے ویسے بھی پریشانی نہیں رہے گی.......۔‘‘

بات ابھی قاسم کے منہ میں تھی کہ بگھی کے باہر دھپ کی آواز سنائی دی۔ قاسم کسی چیتے کی طرح چوکنا ہوگا اور فوراً بگھی کا عقبی پردہ اٹھا کر دیکھا۔ اکبر تیز قدموں سے بگھی کی جانب آرہا تھا ۔ قاسم کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئیں۔ ضرور کو ئی ایسی ویسی با ت تھی۔ وہ ذراسی دیر کئے بغیر بگھی سے نکل آیا۔ اتنے میں اکبر بھی پہنچ چکا تھا ۔اکبر نے آتے ہیں کہا:۔

’’میں نے ایک گھڑ سوار کو یادگار کے گرد چکر لگاتے دیکھا ہے۔ وہ کنکھیوں سے یادگار کے اندر کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ‘‘

ایک دم قاسم کے اعصاب تن گئے۔ اس کا ہاتھ اپنی تلوار کے قبضے میں چلا گیا۔ قاسم نے اکبر سے کہاں:۔

’’تم بگھی میں تیار بیٹھو، میں باہر کا جائزہ لیتا ہوں۔ اب ہمیں چلنا ہوگا۔‘‘

قاسم یہ کہتا ہوا اپنے گھوڑے کی جانب بڑھ گیا ۔ مارسی نے بھی اکبر کی بات سن لی تھی۔ اس کا دل نئی صورتحال پر زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اور اس نے بھی اپنی چادر میں چھپا خنجر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔ قاسم گھوڑے پر سوار ہوکر یاد گار کے درواذے سے باہر نکل آیا۔ وہ گھوڑے کی پشت پر ہر قسم کی صورتحال کے لیے مستعد بیٹھا تھا ۔ اس کا ایک ہاتھ تلوار کے قبضے پر تھا اور دوسرے میں لگام تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو دلکی چال سے چلاتا ہوا یادگار کے گرد چکرانے لگا۔ اس کی آنکھیں انتہائی باریکی سے گرد وپیش کا جائزہ لے رہی تھیں اور کان ہر قسم کی آہٹ سننے کے لیے تیار تھا ۔ اس نے پے درپے یادگار کے تین چکر لگائے۔ وہ چاروں طرف کچھ دور تک بھی گیا لیکن اسے کہیں بھی کوئی انسان نظر نہ آیا ۔ بالآخر کافی دیر بعد وہ واپس لوٹا اور اکبر کے سامنے آکر اسے بگھی نکال لانے کا اشارہ کیا۔ قاسم گھوڑے پر سوار تھا ۔ بگھی اس کے قریب سے گزری تو ساتھ ساتھ ہولیا۔ مارسی نے پردہ اٹھا کر استفہامیہ لہجے میں قاسم کی جانب دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔ قاسم نے قدرے ہلکی آواز میں کہا:۔

’’پریشانی کی کوئی بات نہیں ہوسکتا ہے کہ اکبر کو غلط فہمی ہوئی ہو۔ بہرحال اب آپ لوگوں کو چلنا چاہیے ۔ راستے میں کوئی خطرہ نہیں ۔ تھوڑی دیر میں شام ہونے والی ہے۔ اندھیرا ہونے سے پہلے پہلے آپ گھر پہنچ جائیں گی۔‘‘

وہ یاد گار کے قریب پہنچے تو اکبر نے بگھی کے گھوڑوں کو چابک رسید کردی ۔ اگلے لمحے بگھی دھول اڑاتی ہوئی شہر کی جانب بڑھ رہی تھی۔

قاسم نے ابوجعفر کے گرد دھاوا بولنے کا وقت نصف شب کے بعد کا طے کیا تھا ۔ آج کا سارا دن قاسم کے لیے انتہائی مصروفیت کا رہا تھا ۔ اب اس کے پاس رات تک کافی وقت تھا۔ چنانچہ وہ شہر میں کرائے کے اصطبل سے فارغ ہوکر گھر کی جانب چل دیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...