ورلڈکپ سیمی فائنل میں آج برطانیہ اور کروشیا کا مقابلہ، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کروشیا کہاں واقع ہے اور اس کے شہریوں کا اوسط قد کتنا ہوتا ہے؟ انتہائی دلچسپ معلومات جانئے

ورلڈکپ سیمی فائنل میں آج برطانیہ اور کروشیا کا مقابلہ، لیکن کیا آپ کو معلوم ...
ورلڈکپ سیمی فائنل میں آج برطانیہ اور کروشیا کا مقابلہ، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کروشیا کہاں واقع ہے اور اس کے شہریوں کا اوسط قد کتنا ہوتا ہے؟ انتہائی دلچسپ معلومات جانئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زغرب(مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں جاری فٹ بال ورلڈ کے سیمی فائنل میں آج برطانیہ اور کروشیامدمقابل ہوں گے۔ کروشین ٹیم کی شاندار کارکردگی نے مداحوں کے دل تو جیت رکھے ہیں لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جو کروشیا کے بارے میں کچھ زیادہ جانتے ہوں، حالانکہ یہ ملک انتہائی دلچسپ معلومات کا حامل ہے۔ میل آن لائن کے مطابق کروشیا مشرقی یورپ میں واقع ہے جس نے 1991ءمیں یوگوسلاویہ سے آزادی حاصل کی اور آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اس کے مردوں کا اوسط قد5فٹ 11انچ ہوتا ہے جو باقی دنیا کی نسبت بہت زیادہ ہے، قد کے حوالے سے کروشیا کی علاقائی اوسط دیکھیں تو بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں یہ اوسط 6.1فٹ تک ہے۔

دنیا کا سب سے چھوٹا قصبہ بھی کروشیا ہی میں واقع ہے، جس کا نام ’ہم‘ (Hum)ہے۔ اس قصبے میں صرف20عمارتیں ہیں اور اس کی آبادی صرف17نفوس پر مشتمل ہے، اس کے باوجود قصبے میں ایک مرکزی سکوائر، ڈاک خانہ، قبرستان، سووینیئر شاپ، عجائب گھر اور دو گرجا گھر موجود ہیں۔آج دنیا بھر میں لوگوں کی شناخت ان کی انگلیوں کے نشانات سے کی جا رہی ہے لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ طریقہ کار 1890ءمیں کروشیاہی کے ماہر جرمیات اور ماہربشریات جوآن ووسیچ (Juan Vucetich)نے ایجاد کیا تھا۔

آج ٹائی دنیا بھر میں پہنی جارہی ہے۔ یہ بھی 17ویں صدی عیسوی میں اسی علاقے کے باشندوں نے ہی پہلی بار متعارف کروائی تھی۔ پہلی بار ٹائی 1618ءسے 1648ءتک جاری رہنے والی 30سالہ جنگ کے دوران فوجیوں کے لیے بنائی گئی جو بعدازاں اس قدر مقبول ہوئی کہ دنیا بھر میں پہنی جانے لگی۔ کروشیاءمیں گرمی کے موسم میں درجہ حرارت 39ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی چلا جاتا ہے لیکن یہ بات بھی آپ کے لیے حیرت کا باعث ہو گی کہ کروشیا کے شہری ایئرکنڈیشنر سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ کسی کو سردی لگ جائے، کمردرد ہو، دردِ شقیقہ یا کوئی اور بیماری، یہ اس کا سبب ایئرکنڈیشنر کو قرار دیتے ہیں۔ کروشیا کے شہری کافی پینے کے بہت شوقین ہیں لیکن یہ عام دکانوں اور ڈھابوں میں بیٹھ کر کافی پیتے ہیں۔ وہاں سٹاربکس یا کوسٹا کافی جیسے بین الاقوامی برانڈز کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ لوگ مکڈونلڈز اور دیگر ایسی فوڈریسٹورنٹس کے پیشگی تیار شدہ کھانوں کو بھی بالکل پسند نہیں کرتے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کروشیا کے معروف سیاحتی شہر ڈیوبروونک میں مکڈونلڈز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔1991ءمیں آزادی حاصل کرنے کے بعد کروشیاءیکم جولائی 2013ءمیں یورپی یونین کا 28واں اور سب سے آخری رکن بنا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /کھیل