ملک کا مستقبل فنی ہنرمندی سے وابسطہ، سیاسی جماعتیں اسے اولین ترجیح بنائیں: ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیو ٹیک ذوالفقار چیمہ

ملک کا مستقبل فنی ہنرمندی سے وابسطہ، سیاسی جماعتیں اسے اولین ترجیح بنائیں: ...
ملک کا مستقبل فنی ہنرمندی سے وابسطہ، سیاسی جماعتیں اسے اولین ترجیح بنائیں: ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیو ٹیک ذوالفقار چیمہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) نوجوانوں کو فنی تربیت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے دوررس اقدامات کرنے والے ادارے ’نیو ٹیک‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالفقار چیمہ کا کہنا ہے کہ ملک کا مستقبل فنی ہنرمندی سے وابسطہ ہے اس لئے سیاسی جماعتیں اسے اولین ترجیح بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ نیشنل ٹی ویٹ (TVET) پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، صنعتی شعبے کے ساتھ اشتراک مضبوط کیاہے،سیکٹر سکل کونسلزقائم کی گئی ہیں۔اس سیکٹر کوسپیشل پیکیج دیا جائے کیونکہ یہ ملکی معیشت کو مستحکم کرے گا اور غربت کاخاتمہ کر دے گا۔ نیوٹیک نے فنی تربیت کے شعبے کو جدیدخطوط پر استوار کرنے کیلئے دُوررس اقدامات کئے ہیں، بڑی تعداد میں نوجوان اپنے پاﺅں پر کھڑے ہورہے ہیں۔

سٹی اینڈ گلڈز ، یوکے نیرک اور TAFEآسٹریلیاکے تعاون سے پاکستان کے سرٹیفیکیٹ کاعالمی سطح پر تسلیم کئے جانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیںجبکہ پاکستان کے اعلیٰ فنی اداروں کی یورپ اور آسٹریلیا کے اداروں کے ساتھ Affiliation کرائی جارہی ہے۔ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، میکاٹرانکس، انڈسٹریل آٹومیشن، ریسٹورنٹ مینجمنٹ جیسے جدید ٹیکنالوجی کے کورس بھی متعارف کرائے جارہے ہیں۔

ملکی اور عالمی مانگ کے پیش نظر ہزاروں کی تعداد میں نرسیں اور پیرامیڈکس تیار کئے جائینگے جبکہ تربیت کا معیار بلند کرنے کیلئے پانچوں صوبوں میں سات سینٹرآف ایکسی لینس بنائے جارہے ہیں ،ترکی کی مدد سے جدید ترین انسٹیٹیوٹ فارہاسپٹیلیٹی قائم کیا جا رہا ہے۔فنی ہنرمندی کے مقابلوں سے نوجوان اس شعبے کی طرف راغب ہوئے ہیں اور تربیت کا معیار بلند ہونے کے باعث نوجوانوں کو تیزی سے روزگار مل رہا ہے۔

تربیت یافتہ نوجوان 20 ہزار سے ایک لاکھ روپے مہینہ کمارہے ہیں جبکہ ہمارے ہنر مند نوجوان 2019ءمیں روس میں منعقد ہونے والے عالمی مقابلے میں بھی حصہ لیں گے ۔ بی اے ، ایم اے کرنے والے نوجوانوں اور خواتین کیلئے خصوصی کورسز کااہتمام کیاگیاہے۔ نیوٹیک کے اقدامات سے TVETسیکٹر کی اہمیت اجاگر ہو رہی ہے، صوبائی ٹیوٹاز کی مدد اور رہنمائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی بدولت اس قیمتی سرمائے کی افادیت مزید کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک منصوبوں کی کامیاب تکمیل صرف اور صرف اعلیٰ تربیت یافتہ نوجوان ہی ممکن بناسکتے ہیں۔ اسی طرح فنی مہارت سے آراستہ نوجوان غیر ملکی ترسیلات ِزر (Foreign remittances) میں کئی گنا اضافہ ممکن بناکر ملک کی معیشت کو مو¿ثرسہارا دے سکتے ہیں۔

ملک میں نوجوانوں کی توانائی کو مثبت انداز سے بروئے کار لانے اور نوجوان نسل کی قومی ترقی کے دھارے میں بھرپور شرکت ممکن بنانے کیلئے فنی تربیت کی اہمیت واضح اور تسلیم شدہ ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں منصوبہ بندی اور پالیسی ساز ی کے تمام ادارے فنی تربیت کے فروغ پر بھرپور توجہ دیں۔ اس موقع پر میں تمام سیاسی پارٹیوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ نوجوانوں کی فنی ہنرمندی (Skill Development) کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اس مقصد کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کرکے اس شعبے کیلئے زیادہ سے زیادہ رقوم مختص کی جائے اور سی پیک اور بیرون ملک ملازمت کیلئے ہنر مند نوجوانوں کو تیار کرنے کیلئے اگلی دہائی کو ”TVET DECADE“ کے طور پر منانے کا اعلان کریں۔

اسی میں نہ صرف ہماری تیز تر معاشی اور معاشرتی ترقی کا راز پوشیدہ ہے بلکہ دراصل ملک میں پائیدار قیام امن کا حصول بھی ممکن ہوسکے گا۔اس کے علاوہ مناسب ہنر حاصل کرکے نوجوان اپنی اور اپنے خاندان کے کفالت کے قابل بھی ہوسکیں گے۔ نوجوانوں کی فنی تربیت کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان میں فنی تربیت کے مرکزی ادارے نیوٹیک نے اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے دوررس اقدامات کئے ہیں جن کی بدولت یہ شعبہ اب نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تربیت فراہم کررہا ہے اور نوجوانوں کو تیزی سے روزگار مل رہا ہے اوروہ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہورہے ہیں۔

نیوٹیک نے (National TVET Policy) منظور کرائی ہے جس میں فنی تربیت کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے، ملک میں فنی تربیت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے، فنی تعلیم کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے، تربیت کے جدید ترین نظام (Competency Based Training) اپنانے، نجی اور صنعتی شعبے کے کردار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق فنی تربیت کے ذریعے بیرون ملک روزگار کے قابل بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ نیوٹیک نے پچھلے دو سالوں میں فنی مہارت میں نجی اور صنعتی شعبے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اشتراک قائم کرنے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں اس سلسلے میں تمام چیمبر آف کامرس کے دورے کرکے معروف صنعتکاروں کو دعوت دی گئی ہے۔

نجی شعبے کے منظم تعاون کو یقینی بنانے کیلئے Sector Skills Councilsکا قیام عمل میں لایا گیاہے جو نوجوانوں کی فنی تربیت میں نجی شعبے کے تعاون اور رہنمائی کو ممکن بنارہی ہیں۔ اسی طرح فنی تربیت کے اداروں کو مو¿ثر اور جدید طرز پر چلانے کیلئےInstitute Management Committeesقائم کی گئی ہیں جن میں صنعتی شعبے کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے ۔ مزید برآں نصاب کی تشکیل ،آن جاب ٹریننگ ، ملازمت کے حصول اور امتحانات کے انعقاد میں بھی نجی اور صنعتی شعبے کے کردار کو مو¿ثر بنایا گیاہے۔

غیر ملکی ترسیلات ِ زر ہماری معیشت کا بنیادی ستون ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی نوجوان مناسب فنی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بیرون ملک غیر ہنر مند مزدور کے طور پر ملازمت کرنے پر مجبورہیں۔ یہ نوجوان مناسب فنی مہارت کے ساتھ پیشہ ور ہنر مند کے طور پر ملازمت حاصل کرکے تین گناہ زیادہ تنخواہ حاصل کرسکتے ہیں جس سے ہماری ترسیلاتِ زر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

اس مقصد کے حصول کیلئے نیوٹیک نہ صرف پاکستانی فنی تربیت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کررہا ہے بلکہ پاکستان کے تربیتی سرٹیفکیٹس کے عالمی سطح پر تسلیم کرنے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کررہا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی سطح کی تنظیم City & Guildsبرطانیہ کی تنظیم UK-NARICاور آسٹریلیا کی تنظیم TAFE Australiaکے ساتھ کام کا آغاز ہوچکا ہے جس سے پاکستانی سرٹیفکیٹس کو عالمی سطح پر تسلیم کئے جانے کی راہ ہموار ہوگی ۔ پاکستان کے کچھ اداروں کی یورپ اور آسٹریلیا کے اداروں کے ساتھ Affiliationبھی کرائی جارہی ہے۔

جدید دور کی ضروریات پوری کرنے کیلئے نیوٹیک High-endاور جدید ٹیکنالوجی کے ایسے کورسز متعارف کروارہا ہے جن کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدید طلب پائی جاتی ہے ۔ ان جدید فنی مہارتوں میں میکا ٹرانکس، روبوٹکس ، انڈسٹریل آٹو میشن ، ریسٹورنٹ مینجمنٹ اور ہیوی مشینری آپریٹر جیسے کورسز شامل ہیں۔

مزیدبرآں قومی اور بین الاقوامی سطح پر (Paramedics) کے شعبے میں مانگ کے پیش نظر، اس شعبے میں بھی فنی تربیت دینے کا اہتمام کیا جارہا ہے اور ہزارو ں کی تعداد میں Paramedicsتیار کئے جارہے ہیںجن میں نرسیں اور صحت کے مختلف شعبوں کیلئے ٹیکنیشن شامل ہیں۔

ملک میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان مدارس میں زیر تعلیم ہیں ان نوجوانوں کو فنی تربیت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے نیوٹیک اپنے فنی تربیت کے پروگرامز کا دائرہ کار مدارس تک بڑھاکررہا ہے ۔ اس اقدام سے مدارس میں زیر تعلیم نوجوان فنی تعلیم سے آراستہ ہوکر ملک کے مفید شہری بنیں گے اورقومی معیشت میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

نیوٹیک پاکستان میں فنی مہارت کے فرسودہ نظام کی تبدیلی اور اس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عالمی معیار کے تربیتی اداروں کا قیام عمل میں لارہا ہے اس سلسلے میں اسلام آباد میں دو سنٹرز آف ایکسی لینس Centres of Exellenceاور ملک کے 13اضلاع میں ہیوی مشینری آپریٹر زکی ٹریننگ کی سہولیات مہیا کرنے کی منظوری لی جاچکی ہے ۔اسی کے ساتھ 50سے زیادہ فنی تربیت کے اداروں کی استعداد کو بہتر بنایا جارہا ہے اور اساتذہ کی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔

پاکستان میں فنی تربیت کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے نیوٹیک نے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مو¿ثراشتراک قائم کیاہے جس کے نتیجے میں ترکی اسلام آباد میں پچپن کروڑ کی لاگت سے Training Instiute for Hospitality قائم کررہا ہے ۔

اسی طرح چین کے تعاون سے CPECکیلئے خصوصی سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کیا جارہا ہے جبکہ یورپی ممالک کے اشتراک سے ملک بھر میں پانچ سنٹر ز آف ایکسی لینس قائم کئے جارہے ہیں جہاں پر جدید ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور ریسرچ کی بھی سہولیات دستیاب ہوں گی۔

صنعتی شعبے کی بھرپور شرکت ممکن بنانے کیلئے ان سنٹرز میں خصوصی (Incubation Centers) قائم کئے جارہے ہیں جو صنعتی شعبے کی فنی تربیت کے ہر پہلو میں تعاون اور رہنمائی کو یقینی بنائیں گے ۔

پاکستانی فنی تربیت کو عالمی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم پیش رفت پاکستان کا World Skillکی رکنیت حاصل کرنا ہے ۔فنی تربیت کے اگلے عالمی مقابلے 2019ءمیں روس کے شہرقازان میں منعقد ہونگے جس میں پاکستان کے نوجوان شرکت کرکے اپنے ملک کا نام روشن کریں گے ۔

پاکستان میں فنی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے نیوٹیک نے جو دیگر اقدامات کئے ہیں ان میں سے قابل ذکر درج ذیل ہیں:

1۔ فنی تعلیم کا قومی معیار (National Vocational & Qualification Framework) کا رائج کرنا ۔

2۔ فنی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے Accreditation کا نظام ۔

3۔ تربیت کے مواقعوں میں چار گنا اضافہ ۔

4۔ امتحانات کا جدید عملی نظام جس میں صنعتی شعبے کی موجودگی میں نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے دکھاتے ہیں۔

5۔ نوجوانوں کے درمیان فنی تربیت کے مقابلوں (Skill Competitions) کا انعقاد ۔

6۔ تربیت کے اختتام پر نوجوانوں کی سہولت کیلئے ملازمتوں کے مراکز(Job Placement Centres) کا قیام۔

7۔ ملک کے دور دراز اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے نوجوانوں کی بہترین تربیت کیلئے مفت قیام و طعام (Boarding & Lodging) کی سہولت ۔

8۔ ملک میں فنی تعلیم کی وسیع تر اور دوررس ترقی کیلئے تمام صوبائی اداروں (TEVTAs) کے ساتھ بھرپور تعاون۔

ان اقدامات سے نہ صرف پاکستان میں فنی تربیت کے شعبے کو تقویت ملی ہے بلکہ وافر تعداد میں نوجوان اس شعبے کی طرف راغب ہوئے ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور