وہ ایک موبائل ایپ جس کی وجہ سے جنسی زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے

وہ ایک موبائل ایپ جس کی وجہ سے جنسی زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے
وہ ایک موبائل ایپ جس کی وجہ سے جنسی زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے

  


لندن(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا ایپ ٹنڈر (Tinder) بظاہر تو ایک عام ڈیٹنگ ایپ ہے لیکن درحقیقت یہ جنسی جرائم کی راہ ہموار کرنے والی ایپ بن چکی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ایک حالیہ تحقیق میں یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ جنسی جرائم کا نشانہ بننے والی ہر چھ میں سے ایک خاتون کی ملاقات ٹنڈر یا اس جیسی کسی ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے کسی جنسی مجرم سے ہوئی۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اجنبیوں کی جانب سے خواتین کے ساتھ ٹنڈر جیسی سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے ملنے اور انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں کے پیش نظر سرکاری اداروں نے خصوصی اقدامات کا آغاز کردیا ہے تاکہ ان ویب سائٹوں اور ایپس کے ذریعے خواتین کو جنسی جرائم کا نشانہ بننے سے بچایاجاسکے۔

گزشتہ روز نیوساﺅتھ ویلز میں نئی ایمرجنسی سروس کا آغاز بھی کردیا گیا ہے جس کا نام ”آسک فار اینجلا“ رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد ریستورانوں اور کلبوں میں جانے والی ان خواتین کی حفاظت ہے جو سوشل میڈیا پر ملنے والے کسی شخص کے ساتھ ملاقات کیلئے گئی ہوں اور خود کو خطرے میں محسوس کررہی ہوں۔

خواتین سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس کریں تو فوری طور پر کلب یا ریستوران کے سٹاف سے رابطہ کریں اور ان سے ”اینجلا“ کے بارے میں پوچھیں۔ ان الفاظ سے وہ سمجھ جائیں گے کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے اور خاموشی سے ایسے اقدامات کئے جائیں گے جو آپ کو محفوظ بناسکیں۔

اس مہم کا آغاز سنٹرل میٹروپولیٹن ریجن نیو ساﺅتھ ویلز کی حالیہ تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ پولیس کی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جنسی جرائم اور آن لائن سوشل میڈیا ویب سائٹوں یا ایپس کے ذریعے ہونے والی ملاقاتوں میں گہرا تعلق سامنے آرہا ہے۔ نیوساﺅتھ ویلز کو ملنے والی جنسی جرائم کی شکایات میں سے آدھے سے زیادہ کیسوں میں متاثرہ خاتون کے ساتھ جنسی مجرم کی ملاقات کسی سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...