نواز شریف حبس بے جا میں ہیں؟

نواز شریف حبس بے جا میں ہیں؟
نواز شریف حبس بے جا میں ہیں؟

  


سابق وزیراعظم نواز شریف حبس بے جا میں ہیں؟ جی ہاں اگر آئرن لیڈی مریم نواز کی سنیں تو!…… جس نے وکالت کے پیشے کو ایک نئی جہت دے دی ہے اورعوام کی عدالت میں پاکستان کے جملہ وزرائے اعظم کا مقدمہ جس طرح لڑا ہے کیا کسی بیرسٹر اعتزاز احسن نے ساری عمر کسی قانون کی عدالت میں کوئی مقدمہ لڑا ہوگا۔ ہفتے کی شام ماڈل ٹاؤن میں ان کی پریس کانفرنس کا حاصل کلام فقرہ یہ تھا کہ نواز شریف کوسزا دینے والا جج خود بول اٹھا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ جج ارشد ملک کب دیگر تین یا چار ٹیپوں کی تردید ی پریس ریلیز جاری کرتے یا نہیں!

جس طرح رانا ثناء اللہ پر منشیات ڈال کر گرفتاری کو کسی نے قبول نہیں کیا ہے اسی طرح منڈی بہاء الدین کا جلسہ بتاتا ہے کہ لوگوں تک سول جج ارشد ملک کے ضمیر کی آواز ضرور گئی ہے اور نواز شریف بے قصور کا غلغلہ بلند ہوگیا ہے۔

تبھی تو موٹروے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مریم نواز کی ریلی میں موٹر وے جی ٹی روڈ میں تبدیل ہو گیا، وہ جہاں سے گزری جلسہ ہوتا چلا گیا۔ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ اگر مریم نواز منڈی بہاء الدین سے اسلام آباد کی طرف چل پڑتیں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور عدلیہ بچاؤ تحریک بپا ہو جاتی اور بیرسٹر اعتزاز احسن ضرور بھاگ کر مریم کی گاڑی میں بھی سوار ہوتے نظر آتے کہ شائد اس مرتبہ بھی انہیں کسی کا فون سننے کی سعادت حاصل ہو سکے!

مریم نواز نے اپنی پہلی باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دیں گی، زنداں کی کال کوٹھڑی میں سسک سسک کر مرنے نہیں دیں گی۔ اپنی دوسری پریس کانفرنس میں اس نے ثابت کردیا کہ وہ خالی زبانی جمع خرچ نہیں کر رہی ہیں، وہ ایک بیٹی بن کر اپنے باپ کا مقدمہ لڑ رہی ہیں جسے ملزم اور مجرم بنا کر پیش کیا گیا۔

وہ حضرات جن کا وکالت کے پیشے سے تعلق ہے وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جب کسی خاندان کے مردوں کو طاقتور مخالفین قتل کردیتے ہیں تو اس خاندان کی خواتین اتنی بڑی مرد ثابت ہوتی ہیں کہ بڑے بڑے مرد ان کے سامنے مخنس نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

مریم کا دُکھ تو اور بھی گہرا ہے کہ اس کے باپ کو اس وقت اس کی ماں سے جدا کیا گیا جب وہ بستر مرگ پر پڑی تھی اور جس کے جنازے میں شرکت کے لئے اسے پیرول پر رہا کیا گیا تھا، اور وہ بھی ایک ایسے جرم کی پاداش میں جو کبھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوا تھا۔

وکالت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے ہم جیسے دل جلے جانتے ہیں کہ عدالتوں میں انصاف کے ساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہے، ہمارے استاد ڈاکٹر اے باسط کبھی کبھی ہائی کورٹ کے برجوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کرتے ہیں کہ یہ نیلام گھر ہے، جس میں واشنگ مشین کسی کی ہوئی تو الیکٹرا کسی کا ہوا۔

سیاست کی طرح عدالت کا بھی خانہ خراب ہو چکا ہے، جس طرح بیوروکریسی کا جنازہ نکل چکا ہے، تعلیم اور صحت کی لٹیا ڈوب چکی ہے اور کاروبار سوائے لوٹ مار کے کچھ نہیں، ان سب کا سبب ایک ہے کہ جس طرح گھر میں ماں اپنے کماؤ پوت کے مقابلے میں باقی سارے خاندان کو کونے سے لگائے رکھتی ہے اور کسی کو کسکنے نہیں دیتی اسی طرح ہم نے بھی ایک کے سوا باقی ہر ادارے، ہر شعبہ ہائے حیات کا ٹھٹھہ لگایا، ہر بڑے شخص کو بے توقیر کیا، بلیک میل کیا، اس کی عزت کا جنازہ نکالا، اس کے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر لگائی بالکل اسی طرح، فقیر اعجازالدین نے ڈان اخبار میں اپنے کالم میں ایک مرتبہ لکھا تھا کہ پاکستانی جھنڈے کا تیسرا رنگ خاکی ہے!

آخر میں تازہ غزل کے تین اشعار

حرف کو تنگئی اظہار مقابل ہے یہاں

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

جھوٹ اور جھوٹ کی تکرار مقابل ہے یہاں

اس کھلے شہر کی سڑکوں کی طوالت پہ نہ جا

پسِ دیوار بھی دیوار مقابل ہے یہاں

دوڑ کر پار کروں کیسے لق و دق صحرا

اپنے ہی سانس کی رفتار مقابل ہے یہاں

مزید : رائے /کالم