بجٹ میں 733ارب50کروڑ کے ٹیکس اور پارلیمینٹ میں غلط بیانی

بجٹ میں 733ارب50کروڑ کے ٹیکس اور پارلیمینٹ میں غلط بیانی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ چینی کے سوا کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،اگر لگایا گیا تو تاجر برادری نشاندہی کرے،کوئی بتا دے تو ابھی واپس لے لوں گا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ملکی تاریخ کا ”پہلا ٹیکس فری“ بجٹ دیا، صنعتکاروں، تاجروں کی مشاورت سے بہتر حل نکالیں گے۔ فیصل آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ٹیکس جمع کرنے کے لئے حکومت خاموشی سے18یا19فیصد ٹیکس عائد کر سکتی تھی،لیکن ہمارا مقصد خوف و ہراس پھیلانا نہیں،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس کی شرح17فیصد سے کم نہیں کی جائے گی، نئے ٹیکس لگانے کا غلط تاثر دیا جا رہا ہے۔

چونکہ حکومت ہر کام کا کریڈٹ لینے کے جنون میں اپنے کاموں کو ”ملکی تاریخ میں پہلی بار“ قرار دینے میں خاصی فراخ دِل واقع ہوئی ہے اِس لئے شبر زیدی کیوں پیچھے رہتے، اِس لئے انہوں نے ایک ایسے بجٹ کو جس میں 733 ارب50کروڑ کے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ببانگ ِ دِہل ملکی تاریخ کا پہلا ٹیکس فری بجٹ قرار دے دیا ہے،حالانکہ یہ اعزاز58ء کی فوجی حکومت سے پہلے والی سیاسی حکومتوں کو حاصل تھا کہ اُن کے بجٹ خسارے سے پاک ہوتے تھے،کیونکہ بجٹ اس اصول کے تحت بنتے تھے کہ وسائل کے اندر رہ کر زندگی گزاری جائے، ہو سکتا ہے شبر زیدی ملکی تاریخ کا آغاز ہی58ء سے کرتے ہوں،کیونکہ اس وقت بھی یہی رواج تھا کہ سیاست دانوں نے سب کچھ تباہ و برباد کر دیا، ہم اصلاح کے لئے آئے ہیں اور جب وہ گئے تو پتہ چلا کہ ملک کی بنیادوں میں ایسا بارود بھر گئے ہیں، جس نے چند ہی برس میں ملک دو ٹکڑے کر دیا۔

تاریخ کا حوالہ یہاں اِس لئے ضروری ہے کہ شبر زیدی نے اپنے بجٹ کو پہلا ٹیکس فری بجٹ قرار دے دیا ہے اور دھڑلے سے کہا ہے کہ کوئی بتائے کون سا نیا ٹیکس لگایا ہے تو ہم واپس لے لیں گے،بجٹ اس وقت جو کچھ اور جیسا کچھ بھی ہے اس پر آئی ایم ایف کی چھاپ بڑی گہری ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس معاہدے کی توثیق ہی نہ کرتا جو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول پر ہوا تھا،اس معاہدے کی منظوری ہی اس لئے ملی ہے کہ اس پر آئی ایم ایف کی گہری پرچھائیں ہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ ماہ (اگست) بجلی کے ریٹ ڈھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پارلیمینٹ کو بتایا گیا،516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں جو حقیقت میں 733 ارب50کروڑ روپے کے تھے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان ٹیکس کی شرح میں جی ڈی پی کے 4سے5فیصد تک اضافے کے لئے رضا مند ہوا ہے، سگریٹ، چینی اور سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ درآمدی گیس اور لگژری اشیا پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رئیل سٹیٹ سیکٹر اور زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے،پراپرٹی کی سرکاری قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک اور نیپرا کی خود مختاری کا بِل دسمبر2019ء میں پارلیمینٹ میں پیش کیا جائے گا، اوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل بھی پارلیمینٹ میں پیش کیا جائے گا، نیپرا 2020ء کے بجلی ٹیرف کا اعلان ستمبر 2019ء میں طے کرے گا، پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا۔ گیس واجبات کی وصولی کا پلان ستمبر2019ء میں پیش کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں مہنگائی کا خصوصی تذکرہ بھی آیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح 13فیصد تک جائے گی اور بجٹ خسارہ7.3 فیصد رہے گا، پاکستان آئندہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں دے گا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر تک پاکستان سٹیل ملز اور پی آئی اے کا کسی نامور عالمی ادارے سے آڈٹ کرایا جائے گا۔ ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں 1071 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنا ہے،آئی ایم ایف ستمبر میں اہداف پر عملدرآمد کا جائزہ لے کر قرضے کی اگلی قسط جاری کرے گا۔

اگرچہ رپورٹ میں ابھی اور بھی بہت سی قابلِ ذکر باتیں موجود ہیں،لیکن ان کالموں کی تنگ دامنی آڑے آ رہی ہے،اِس لئے یہاں آئی ایم ایف کی رپورٹ کی مزید تفصیلات درج نہیں کی جا رہیں تاہم ایسی رپورٹیں اب وقتاً فوقتاً آتی ہی رہیں گی اور قسط وار انکشافات بھی ہوتے رہیں گے اس پر بھی پاکستان کے عوام کو آئی ایم ایف کا ممنون ہونا چاہئے،جس کی رپورٹ میں انہیں اطلاع کی جا رہی ہے کہ اس عالمی ادارے نے پاکستان کی حکومت سے کیا کیا شرائط منوائی ہیں اور کیا کیا اقدامات اٹھانے کو کہا ہے اور یہ وعدے وعید لے کر آئی ایم ایف خاموش ہو کر بیٹھ نہیں رہے گا،بلکہ ہر قسط کے اجرا سے پہلے یہ جائزہ لیا جائے گا کہ کون سا عمل کر لیا گیا ہے اور کون سا باقی ہے،لیکن اس رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت نے ٹیکس تو733 ارب 50کروڑ کے لگائے ہیں،لیکن پارلیمینٹ کو بتایا گیا ہے کہ516 ارب کے ٹیکس لگائے گئے ہیں،اب جو حکومت اپنی پارلیمینٹ سے حقائق چھپا رہی ہے اور ملک کے مقتدر ترین ادارے کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے، اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس سلسلے میں کوئی سرگرمی شاید اِس لئے نہیں دکھائی کہ اس کے بعض اہم ارکان تو گرفتار ہیں، جو نہیں ہیں،اُن پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اپوزیشن اب تک کہہ رہی ہے کہ حکومت نے فنانس بِل بلڈوز کرایا،لیکن اب تو خود آئی ایم ایف انکشاف کر رہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس زیادہ لگائے اور پارلیمینٹ میں کم ظاہر کئے، ایسے میں ایف بی آر کے چیئرمین کے حوصلے کی داد دینی چاہئے جو ہتھیلی پر چراغ لے کر تاجروں کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے چینی پر سیلز ٹیکس کے سوا کوئی ٹیکس لگایا ہی نہیں،جو بات آئی ایم ایف نے کہی یہ کسی اپوزیشن رکن نے کہی ہوتی تو شاید اب تک کسی نہ کسی پرانے کیس میں دھر لیا جاتا،لیکن اب آئی ایم ایف کا حکومت کیا بگاڑ لے گی،جس نے اس کے جھوٹ سے پردہ اٹھانے میں ذرا لحاظ سے بھی کام نہیں لیا،اور اپنی شرائط سے بھی پاکستانی قوم کو باخبر کر دیا، اپوزیشن مطالبہ کرتی تو یہ شرائط کبھی سامنے نہ لائی جاتیں جو آئی ایم ایف لے آئی۔ چیئرمین ایف بی آر کے لئے بہتر ہے کہ وہ تاجروں کی بجائے آئی ایم ایف سے پوچھ لیں کہ بجٹ میں 733 ارب کے ٹیکس کون کون سے ہیں اور پھر اپنے وعدے کے مطابق واپس لینے کا اعلان کر دیں۔

مزید : رائے /اداریہ