پارلیمانی کمیٹیوں کوکام کرنے دیں!

پارلیمانی کمیٹیوں کوکام کرنے دیں!

پاکستان کی موجودہ محاذ آرائی کے دوران نئی تاریخ بھی بن رہی ہے اور پارلیمانی امور میں بھی نت نئے فیصلے ہو رہے ہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اپنا وہ حکم واپس لیں جس کے مطابق انہوں نے پارلیمینٹ میں متعین مجالس قائمہ کے اجلاس منسوخ کر کے حکم دیا ہے کہ یہ اجلاس صرف ان دِنوں ہوں گے جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو، بلاول بھٹو اور اپوزیشن نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ مجالس قائمہ ایک جمہوری حکومت میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ اندر سے جمہوریت پر حملہ ہے۔سپیکر اسد قیصر نے یہ حکم اچانک جاری کیا اور اس کے پس ِ پردہ پروڈکشن آرڈرز کے اختیارات بنائے جاتے ہیں، کہ آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق جیسے حضرات دو یا تین کمیٹیوں کے رکن ہیں اور کمیٹی کے چیئرمین کو یہ اختیار ہے کہ کسی بھی زیر حراست کو اجلاس کے لئے بُلا سکے، اس پر وزیراعظم نے برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔ بلاول کے مطابق یہ فیصلہ اسی پس منظر میں کیا گیا ہے۔جہاں تک کسی جمہوری نظام خواہ وہ پارلیمانی ہے، صدارتی یا نیم جمہوری ان سب میں پارلیمینٹ کی کمیٹیوں کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ امریکی نظام میں تو یہ کمیٹیاں بہت ہی زیادہ اختیارات کی حامل ہیں اور صدارتی احکام کی منظوری بھی یہی دیتی ہیں، اسی طرح جہاں بھی پارلیمانی نظام ہے وہاں یہ کمیٹیاں فعال ہوتی ہیں کہ ان کی وجہ سے پارلیمینٹ اور خود حکومت کے کاموں میں سہولت ہوتی ہے، ان کمیٹیوں کے اجلاس سال بھر ہوتے رہتے ہیں۔اگر اب ایسا نہ ہوا تو قانون سازی کا کام عملاً بھی رُک جائے گا، جو پہلے ہی نہیں ہو رہا، کیونکہ جو بھی مسودہ قانون پیش ہو وہ انہی کمیٹیوں کے پاس آتا ہے، جو ان پر غور کر کے بحث کے بعد اسے منظور یا نا منظور کر کے پارلیمینٹ کے حوالے کرتی ہیں۔یوں سارا کام کمیٹی میں ہو جاتاہے،اس لئے سپیکر کو بھی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے،جہاں تک پروڈکشن آرڈر کا تعلق ہے تو یہ بھی حق دیا گیا ہے اس میں تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لئے آئینی و قانونی راستہ اپنائیں، بالواسطہ روکنا درست نہیں،قوم منتظر ہے کہ پارلیمینٹ میں ان کے اور قومی مسائل زیر غور آئیں۔

مزید : رائے /اداریہ