ایک اور محمد علی جناحؒ

ایک اور محمد علی جناحؒ
ایک اور محمد علی جناحؒ

  


اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ہندوستانی فوج کے مظالم کی دوسری رپورٹ منظر عام پر آئی ہے اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ اُسی دن 8جولائی کو قابض ہندوستانی فوج کے ہاتھوں حریت پسند کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت کی تیسری برسی بھی منائی جا رہی تھی۔رپورٹ کے مطابق صرف2018ء میں وادیئ کشمیر میں 160 مسلمان شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور یہ گزشتہ دہائی میں کسی بھی برس شہید ہونے والی سب سے بڑی تعداد تھی۔85شہادتیں صرف جنوبی کشمیر کے چار قصبوں پلواما، کلگام، اننت ناگ اور شوپیاں میں ہوئیں،اسی دستاویز کے مطابق2019ء کے پہلے تین ماہ میں 21شہری شہید ہوئے،جبکہ قابض بھارتی فوج کے مظالم2008ء سے2018ء تک 1081کشمیری مسلمانوں کی جانیں لے چکے تھے۔ ہندوستان کے قبضے کے خلاف ہونے والے احتجاج پر قابو پانے کے لئے فوج بے محابا چھرے دار بندوقوں کا استعمال کرتی ہے، چنانچہ 2016ء کے وسط سے2018ء کے اواخر تک 1253 مرد، خواتین اور بچے نابینا یا معذور ہو چکے تھے۔

یہ ظلم کی انتہا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے حریت پسندوں پر قابو پانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں 1990ء سے اپنا قانون Armed Forces Special Powers ACT، یعنیAFSPA لاگو کر رکھا ہے،جو قابض ہندوستانی فوج کو کشمیریوں پر ہر طرح کا تشدد روا رکھنے کا اختیار دیتا ہے اور اس قانون کی شق7کے تحت بھارتی فوجیوں پر سویلین عدالت میں مقدمہ بھی نہیں چلایا جا سکتا۔یہ تو صرف ایک برس کے مظالم کی داستان ہے۔اس سے قبل ہندوستان نے سات دہائیوں تک انسانی حقوق کی کسی بھی تنظیم کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔صرف2018ء سے اقوام متحدہ کے دباؤ میں آ کر مودی حکومت نے اس عالمی حقوق کے کمیشن کو دورے کی دعوت دی۔ آج ہندوستان ٹوٹ رہا ہے۔صرف جموں و کشمیر ہی نہیں،بلکہ متعدد اقلیتیں اس ہندو ریاست سے علیحدگی کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔آج کم از کم 135علیحدگی پسند تحریکیں دُنیا کی اس سب سے بڑی ”جمہوریت“ کے رگ و پے میں شکستگی کا ضعف اتار رہی ہیں۔

ارونا چل پردیش میں 37گروہ علیحدگی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ میزو رام کی پانچ تنظیمیں آزادی کی طالب ہیں۔ میگا لابا میں چار تحریکیں بغاوت کو فروغ دے رہی ہیں، جبکہ تری پورہ میں 30 ایسے گروہ ہیں جو روزِ افزوں قوت حاصل کر رہے ہیں۔ہندوستانی پنجاب میں 12 جتھے ہیں، جن کا آزادی کے لئے مطالبہ شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔نکسلائٹ کی 11آزادی پسند تنظیمیں ہیں۔ خالصتان کے لئے تحریک کی جڑیں تو مشرقی پنجاب میں ہیں،لیکن ہندوستان سے باہر بیرون ملک اس کی شاخوں پر نوجوان سکھ نسل کے کھلتے پھول اب خالصتان کے قیام کو ہی اپنی زندگیوں کا ہدف سمجھے ہوئے ہیں اور ان کے مطلوبہ خالصتان میں ہریانہ،ہماچل پردیش اور راجستھان شامل ہیں۔ہندوستانی حکومت کے لئے سکھوں کے دِلوں میں اتنی نفرت نہ ہوتی اگر یکم جون سے آٹھ جون1984ء تک اندرا گاندھی فوج کشی کر کے سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹمپل میں مورچہ بند رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور ان کے 493 ساتھیوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ نہ اتروا دیتیں اور پھر اسی کے نتیجے میں 31اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم کو ان کے دو سکھ محافظوں نے ان کے گھر میں قتل کر دیا۔ سکھوں کے خلاف فسادات پھوٹ پڑے تھے اور سارے ہندوستان میں یوں پھیلے کہ ہندوؤں نے چُن چُن کر سکھ شہریوں کو قتل کیا۔ ہندوستانی تاریخ کے صفحات پر یہ خون کبھی سکھ ذہن سے محو نہیں ہو گا۔

مشرقی پنجاب خالصتان بننے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ کینیڈا، اٹلی اور برطانیہ میں بیٹھے سکھ ہندوستان میں خالصتان کی تجسیم کرنے کے لئے پنجاب میں بیٹھے اپنے بھائیوں کی جدوجہد میں ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں اور مضحکہ خیز طور پر جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی نریندر مودی کی حکومت غیر ہندو نسل کشی کی طرف سے آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ اقلیتوں کی زندگی عذاب ہو چکی ہے اس عید الفطر کے موقع پر بہار کے ایک قصبے کے چند مناظر دکھائے گئے۔ نماز کے لئے صفیں لگی تھیں۔ نمازی قطاروں میں بیٹھے اقامت کے انتظار میں تھے کہ ہندو غنڈوں کا ایک گردہ ”بولو جے شری رام“ کے نعرے لگاتا حملہ آور ہو گیا۔ نمازی ششدرا درمتوحش ہوگئے۔ وشوا ہندو پریشد کے غنڈوں نے مسلمانوں کو اٹھایا اور نماز کے سارے انتظامات ابتر کر دیئے۔ ان کا نعرہ تھا کہ نماز عید ادا نہیں کی جائے گی، مسلمان عاجزی اور بیکسی میں میدان خالی کر گئے،جو صفیں اس لئے لگی تھیں کہ ان پر بیٹھ کر سارے مہینے کے روزہ دار ہاتھ اُٹھا کر قبولیت و رحمت کے طلب گار ہوں وہاں ہندو لفنگے نعرے لگاتے بھنگڑا ڈالتے رہے۔

جانے ان بے بس مومنوں نے کہاں جبین ِ نیاز جھکائی ہو گی۔ پھر مجھے تقریباً دو برس پیشتر کا ہولناک واقعہ یاد آتا ہے۔ ہندوستانی قصبے نرودھا کی پٹیا نامی ایک بستی کا منظر تھا۔ ہندوغنڈوں نے حملہ کر کے مسجد کو نذر آتش کر دیا تھا اور مسلمان آبادی پر حملہ آور ہو گئے تھے۔ رضیہ نامی ایک ادھیڑ عمر عورت ننگے سر لُٹی پُٹی کھڑی بلک رہی تھی۔ اردگرد کھڑے مختصر ہجوم سے روداد کہہ رہی تھی ”انہوں نے ہمارے مردوں کو مار دیا“ دو عورتیں حاملہ تھیں۔ انہوں نے رحم کی بھیک مانگی تو غنڈوں نے نیچے سے سریا ڈال دیا۔ وہ مری گِر پڑیں۔ رات تھی، مائیں آڑ لئے چھپی تھیں۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بچوں کے گلے دبا کر اُنہیں مار دیا کہ ان کی آواز پر غنڈے آ کر انہیں تلاش کر لیتے۔ اُمت محمدؐ کی مدد کرو اے مسلمانو!“ وہ روتی گڑ گڑا رہی تھی،کچھ مناظر دکھائے گئے جن میں مسلمانوں کی لاشوں کی حملہ آور بے حرمتی کر رہے تھے۔ ہر طرف آگ تھی، موت تھی۔

اگلے دن مَیں ریاض کی جامعہ الملک سعود میں اپنے لیکچر سے فارغ ہوا تو باہر چھ ہندوستانی پروفیسر سہمے کھڑے تھے۔ مجھ سے انہوں نے درخواست کی کہ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے حالات یوں ہی ابتر رہے تو مَیں پاکستانی سفارت خانے سے بات کر کے ان کے لئے اپنے وطن میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کروں۔ مَیں نے انہیں تسلی دی کہ اگر ہندوستان میں حالات بہتر نہ ہوئے تو یقینا پاکستان کی بانہیں ان کے لئے کھلی ہوں گی۔مَیں نے انہیں بتایا کہ کراچی تو ایک بین الاقوامی شہر بن چکا ہے۔ دُنیا کے ہر کونے سے آئے لوگ اسے اپنا مسکن بنائے ہیں۔ ہر ایک اُردو مادری زبان کی طرح بولتا ہے اور مادری زبان بھولتا جا رہا ہے۔ہر ایک پاکستان کا شناختی کارڈ جیب میں ڈالے گھومتا ہے۔ سیاہ، سفید،بھوری، زرد، کراچی، ہر رنگ کی جلد کا ”مائی باپ“ ہے۔ وہ مطمئن ہو کر چلے گئے،لیکن آج کے ہندوستان میں نسل کشی کی جو ستمگر لہر پھیل رہی ہے اور ہندو جس طرح دوسرے عقائد کا قلع قمع دہشت گردی سے کر رہے ہیں، میری ہندوستان کی اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کو نصیحت ہے کہ ”ہجرت مت کرو۔اپنا ایک محمد علی جناح پیدا کرو“۔

مزید : رائے /کالم