ٹیکس لیں، خوف و ہراس نہ پھیلائیں

ٹیکس لیں، خوف و ہراس نہ پھیلائیں
ٹیکس لیں، خوف و ہراس نہ پھیلائیں

  


حکومت نے موجودہ بجٹ میں تمام دعوؤں کے برعکس غریب اور متوسط طبقے پر ہر طرح کی زیادتیاں کرنے کے بعد ایف بی آر اور دوسرے متعلقہ اداروں کو کھلی چھٹی دے دی ہے،کیا ستر ستر سال اور90،80 سال کا آدمی اپنی فیملی اور آل اولاد کے لئے دس لاکھ جمع پونجی بینک میں نہیں رکھ سکتا۔ خوف و دہشت کیوں پھیلائی جا رہی ہے، پانچ لاکھ کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ایف بی آر منگوا رہا ہے،چینی پر ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ گھی پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے، آٹا، گندم، مرچیں، نمک، مصالحے سب کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ یہ تمام غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے استعمال کی اشیاء ہیں، کوئی بھی امیر آدمی نہ چینی کھاتے ہیں، شوگر کی پرابلم کے ڈر سے اور نہ ہی وہ گھی استعمال کرتے ہیں، دل کے امراض کے خوف سے اور نہ ہی مرچ مصالحے کھاتے ہیں،مشیر خزانہ اور ٹیکس لگانے والے عمران خان کے خلاف سازش کر رہے ہیں،

عوام کو ریلیف درکار ہے، قرضے آئی ایم ایف سے ملیں، زیادہ سود پر ملیں، عوام کو اس سے کوئی سرو کار نہیں، کیا800 یا 1000سی سی کی گاڑیاں امیر لوگ استعمال کرتے ہیں،کیا موٹر سائیکلیں یا سائیکلیں امیر لوگ استعمال کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے جو تقریر کی تھی، وہ حکومت کے لئے سیدھی راہ دکھانے کے لئے کافی ہے۔ پانچ مرلے کے مکان والے ٹیکس دیں،کیا پانچ مرلے کے مکانوں میں کروڑ پتی رہتے ہیں؟بجٹ میں کئے گئے اقدامات پر عوام کی اکثریت حکومت کے ساتھ نہیں۔ بے شمار لوگ، محکمے، ادارے، قومی خزانے سے عیش و عشرت کر رہے ہیں۔ پرانی عادتیں اور قانون عمران خان کو ہر طرح بدنام کر رہے ہیں،انہی شہریوں نے ممبران کو الیکٹ کیا ہوتا ہے،لیکن عوام تمام سہولتوں سے محروم ہیں۔ عوامی نمائندے لاکھوں، کروڑوں خرچ کر کے وکلاء کے ذریعے وی آئی پی پوزیشن حاصل کر لیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندر بھی ٹانگ کھینچ پروگرام شروع ہو چکا ہے،پارٹی عہدوں پر کام کرنے والے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ یہ تمام اقدامات اور حرکات عمران خان کے خلاف جا رہی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ مہنگائی کی انتہا برپا کرنے والا بجٹ ایک ننگی لٹکتی تلوار کی مانند ہے،اس سے اصل قربانی کا بکرا عوام بنیں گے،جو اس بجٹ کا شکار ہو کر ہر روز کٹتے بھی رہیں گے۔دُنیا میں سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے،مگر ہمارے ہاں سیاست کا منفی مفہوم مروج ہے،وفاقی حکومت نے عوام کو جو نئے پاکستان کی جھلک دکھائی ہے، اس نے یکدم عوام کو پریشان کر دیا ہے اور مفاد پرست قوتیں اپنے مفاد کے لئے حکومت کے خلاف برسر بیکار ہونے کی کوشش میں عوام کی خیر خواہ بن کر سامنے آنے کی کوشش میں لگ گئی ہیں، چونکہ موجودہ حالات میں حکومت مخالف لوگ صرف مہنگائی کے ایشو کو سامنے لانے کی کوشش کر کے عوام کو ساتھ ملانے کی کوشش میں ہیں۔

40ہزار کے پانچ بانڈ،5مرلہ کا گھر، 800/1000 سی سی گاڑی پر ٹیکس اور روزمرہ اشیائے صرف پر بہت زیادہ ٹیکس مہنگائی کا سبب بن گیا، تنخواہیں زیادہ ہوئی نہیں،لیکن دکانداروں نے اور اشیائے صرف تیار کرنے والوں نے ریٹ زیادہ کر دیئے ہیں، جبکہ حکومتی ادارے خاموش، بالکل خاموش صرف چند لوگ ڈنگ ٹپانے اور اخباروں میں خبریں لگانے کی حد تک عوام کو خوش کر رہے ہیں۔حیران کن بات ہے کہ حکومتی ترجمانی کرنے والے دو تین لوگوں کے سوا باقی کیا سوچ رہے ہیں،کیوں نہیں عوام کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کر رہے۔

بہرحال عمران خان صاحب! ٹیکس لیں، کالا دھن باہر نکلوائیں، سخت ایکشن لیں، لیکن غریب اور متوسط طبقے کے لئے آسانیاں پیدا کریں،اپنے بجٹ پر دوبارہ غور کرنے کا عوام سے وعدہ کریں، سارے عوام لٹیرے نہیں ہیں۔ 40ہزار والے پرائز بانڈ کو بند کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ جن لوگوں کے پاس کالا دھن ہے،اس کو باہر نکالا جائے، لیکن حیران کن حالات ہیں کہ لوگوں نے 40ہزار والے پرائز بانڈ38ہزار میں فروخت کر دیئے ہیں، یہ تمام پرائز بانڈزسٹیٹ بینک اور دوسرے بینکوں کے باہر قطاروں میں فروخت ہوئے، کہا ں تھے وہ ادارے جو پرائز بانڈ پر پابندی لگانے کا مشورہ دے رہے تھے۔بہرحال حکومت کو کالا دھن رکھنے والے چند افراد کے ساتھ عوام کو ہراساں کرنے سے اداروں کو باز رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم