آئی ایم ایف کا نیا شکنجہ

آئی ایم ایف کا نیا شکنجہ
آئی ایم ایف کا نیا شکنجہ

  


گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے تو ایک نئی قسم کا بم گرا دیا ہے۔ یہ ویڈیو سکینڈل سے بھی بڑا بم ہے، لیکن سیاست میں اُلجھی ہوئی حکومت یا اپوزیشن کو اس کی کوئی پروا نہیں۔گورنر سٹیٹ بینک کے بیان سے واضح ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے اس بار پروگرام اتنی کڑی شرائط پر دیا ہے کہ اُس کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعے آئی ایم ایف نے ہمارے گرد جو گھیرا تنگ کیا ہے، اُس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رکھا گیا۔ گورنر رضا باقر نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ان شرائط پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو آئی ایم ایف کا پروگرام معطل ہو سکتا ہے،جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے جو ڈھول گلے میں ڈالا ہے،

وہ اب اسے بجانا ہی پڑے گا۔آئندہ ماہ بجلی کی قیمت اڑھائی روپے یونٹ بڑھانا ہی پڑے گی۔ آئی ایم ایف کی شرائط 27 نکات پر مشتمل ہیں اور ہر شرط عوام کا خون نچوڑنے کے مترادف ہے۔گیس کی قیمتیں بھی بڑھیں گی اور ڈالر بھی حکومت یا اسٹیٹ بینک کے کنٹرول میں نہیں رہے گا۔ اب تو یہ بات بھی سچ ہوتی جا رہی ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی سفارش پر لگایا گیا، کیونکہ باقر رضا اُن کے بااعتماد ورکر رہے ہیں،اب وہ ایک ایسے مخبر ہیں جو پورے نظام کو دیکھ رہے ہیں، جہاں حکومت نے آئی ایم ایف کے معاہدے سے روگردانی کی، اُس کی فوری خبر وہاں پہنچ جائے گی۔ گویا اب آئی ایم ایف پروگرام پر حرف بہ حرف عمل کرنا ہو گا اور عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ اجیرن ہو جائے گی۔

پاکستان کے معاشی محاذ پر خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں،مگر ہماری سیاست کہیں وڈیو سکینڈل، کہیں، ”چیئرمین سینٹ ہٹاؤ“ مہم اور کہیں احتساب کے نام پر سیاست اشرافیہ کے گرد گھوم رہی ہے۔یہ سارا شور شرابہ غالباً اس لئے ہو رہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ظالمانہ پروگرام پر کسی کی نظر نہ جائے۔ آئی ایم ایف پہلے بھی پاکستان کو قرضے دے چکا ہے،لیکن ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ آئی ایم ایف نے باقاعدہ پورے نظام پر قبضہ کر لیا ہو۔ اب گورنر اسٹیٹ بینک جیسا ذمہ دار عہدیدار یہ انکشاف کر رہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل نہ کیا گیا تو پروگرام رُک جائے گا؟ پروگرام رُک جائے گا، مطلب یہ ہو گا کہ قرضے کی مزید قسطیں بند اور نتیجے میں یک دم معیشت زمین پر آ جائے گی۔

ہم دُنیا بھر سے جو قرضے لے رہے ہیں وہ بھی رُک جائیں گے۔ معاملہ دیوالیہ ہونے کی حد تک چلا جائے گا۔ یہ آخر اس بار ہوا کیا ہے کہ آئی ایم ایف خونخوار بھیڑیا بن گیا ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی معیشت تو لازم و ملزوم رہی ہیں،کوئی حکومت بھی آئی ایم ایف سے قرض لئے بغیر ملک نہیں چلا سکی، مگر اتنا خوف و ہراس کبھی نہیں پھیلا اور نہ ہی اتنی کڑی شرائط لگائی گئیں۔ اس بار تو لگتاہے آئی ایم ایف نے ڈریکولا بن کر ہمیں دبوچ لیا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بڑھک مار بیٹھی۔ اسد عمر اپنی کاغذ کی کشتی چلاتے رہے اور عمران خان اپنا زور آزماتے رہے، وقت ضائع کیا گیا، آئی ایم ایف کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوششوں نے طول کھینچا تو معیشت ڈانواڈول ہونے لگی۔ڈالر کو ناقابل ِ تصور چھلانگیں لگانا پڑیں۔گویا ہم نے آئی ایم ایف کے سامنے اپنے سارے پتے شو کر دیئے۔ عوامی لفظوں میں ہم نے انہیں اوقات بتا دی،جب کسی کی ساری مجبوریاں عیاں ہو جائیں، تو قرض دینے والا بھی شیر ہو جاتا ہے۔

آئی ایم ایف نے نخرے شروع کر دیئے۔ کئی ہفتوں تک ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا۔ پہلے اپنی صفوں میں سے مشیر خزانہ بھیجا پھر اسٹیٹ بینک کا گورنر بھیجا، پھر کڑی شرائط کا پلندہ، جب حکومت نے پوری طرح گھٹنے ٹیک دیئے تو آئی ایم ایف نے پروگرام پر مذاکرات شروع کئے، صرف اتنا ہی نہیں،بلکہ جب پروگرام کو فائنل کر دیا گیا تو منظوری دینے سے پہلے بجٹ کے نفاذ کا انتظار کیا گیا،کیونکہ آئی ایم ایف کو شبہ تھا کہ حکومت آخر وقت پر کوئی تبدیلی کر سکتی ہے۔ سب کچھ حاصل کرنے کے بعد ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کی گئی، مگر ساتھ ہی خبردار بھی کر دیا کہ بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں میں ردوبدل کیا گیا یا کوئی رعایت دی گئی تو پروگرام معطل ہو جائے گا، سو اب حکومت کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا۔

اس وقت ملک بھر میں صورتِ حال یہ ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعتیں بند ہیں، تاجروں نے ہڑتالیں کر رکھی ہیں، ٹرانسپورٹرز اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ حکومت بجٹ کے ذریعے ہر شعبے کو مطمئن نہیں کر سکی،بلکہ اُلٹا اس نے مختلف طبقوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر شبر رضا راتوں رات خزانہ بھرنا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں پہلے نئے ٹیکس گزاروں کی تلاش اور ٹیکسوں کی وصولی کے ضمن میں اپنا ہوم ورک مکمل کرنا چاہئے تھا۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ایف بی آر کے خوف و ہراس پھیلانے اور ٹیکسوں کے لئے ڈرانے دھمکانے والے سرکاری اہلکاروں کو نہیں چھوڑیں گے۔ دوسری طرف وہ خود یہ کہتے آ رہے ہیں کہ اب ہر شخص کو ٹیکس دینا ہو گا، کوئی بھی نہیں بچے گا۔ آئی ایم ایف کو تو علم نہیں، حکومت اور اُس کے عمال کو اس کا علم ہے کہ پاکستان میں تاجر طبقہ ٹیکسوں سے سخت الرجک رہتا ہے،وہ بندھا ٹکا ٹیکس دینے کو تو تیار ہے،لیکن ٹیکسوں کی آمدنی کے لحاظ سے وصولی، اس کا دستاویزی ثبوت، شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ کاروبار اور اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنا انہیں ہر گز گوارا نہیں۔

وہ مادرپدر آزادی چاہتے ہیں، سیلز ٹیکس وہ خریدار سے لیتے ہیں،لیکن اب اس میں دو فیصد اضافہ انہیں چبھ رہا ہے،چبھ اس لئے رہا ہے کہ اس کے ساتھ اُس سے حساب رکھنے کو بھی کہا گیا ہے، جس سے اُن کی جان جاتی ہے۔یہ ضد حکومت کے آگے تو چل سکتی ہے، آئی ایم ایف کے آگے نہیں۔ آئی ایم ایف نے یہ شرط بھی عائد کر رکھی ہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ ایف بی آر نے ہر ماہ ایک لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لئے رکھا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو جب ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جائے تو بے چینی تو جنم لے گی، ہلچل تو مچے گی۔کیا حکومت اس کا مقابلہ کر سکے گی۔ کیا اس وقت ہڑتالوں، جلوسوں اور تالا بندیوں کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اُسے کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے؟ اُسے ایک طرف آئی ایم ایف نے اپنے آہنی ہاتھوں میں جکڑ رکھا ہے اور دوسری طرف معاشرے میں بے چینی ایک بحرانی کیفیت کو جنم دے رہی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میثاق معیشت کی بات ہوئی تھی،لیکن سیاست نے اُسے ممکن نہیں ہونے دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں اکیلی حکومت آج کے حالات سے نہیں نمٹ سکتی۔ اُسے خود بہت سے دیگر چیلنجوں کا سامناہے۔اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی میثاق جمہوریت ہو جاتا تو کم از کم آج تاجروں کے اندر جو بے چینی ہے، صنعت کاروں میں جو ہلچل مچی ہوئی ہے، اُسے حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر کنٹرول کر لیتے۔ اب تو اپوزیشن اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہے۔ اپوزیشن کے لئے تو یہ بڑا اچھا موقع ہے کہ حکومت کو ناکام ثابت کرے،اُس کی تو یہ خواہش بھی ہے کہ آئی ایم ایف اپنا پروگرام معطل کر دے، یہاں قومی حوالے سے توکوئی سوچتا نہیں، سب کو اپنے مفادات کی پڑی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ارادوں سے لگتا ہے کہ وہ اس بار کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ وہ اگر مگر سننے کی بجائے اپنی شرائط پر عمل چاہتا ہے۔

ایسے میں حالات معاشی لحاظ سے ایک ایسی سمت میں جا رہے ہیں،جس میں غریب عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر بجلی اور گیس ہر ماہ مہنگی کرنے کی شرط پوری ہوتی رہی تو سمجھ میں پوری معیشت یرغمال بن گئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب تو عمران خان سے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہ کریں۔یہاں تو سب کچھ پہلے مان لیا گیا ہے قرضہ بعد میں ملا اور آئی ایم ایف اپنی شرائط پر عمل کروا رہا ہے۔ خان صاحب تو یہی کہیں گے: ”آپ نے گھبرانا نہیں ہے“……لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام اب گھبرا بھی رہے ہیں اور آئی ایم ایف سے پناہ بھی مانگ رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم