چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے

  


مریم نواز کی ہفتہ کے روز والی لینڈ مارک پریس کانفرنس نے بزعمِ خود انتقامی سیاست کا واویلا مچا کر جوابی انتقامی سیاست کے کئی فلڈ گیٹ کھول دیئے ہیں۔مثلاً:

1۔عدلیہ پر عوام کا اعتماد ڈانواں ڈول ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جج ارشد ملک کے اپنے بیان کے مطابق ناصر بٹ کے ساتھ ان کے دیرینہ دوستانہ مراسم تھے (اور ہیں) ان مراسم کی نوعیت کیا تھی اور یہ نوازشریف کیس کے فیصلے پر اثر انداز ہوئے یا نہیں ان نکات پر حکومت نے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے اور فردوس عاشق اعوان کا وہ پہلا موقف کہ اس مبینہ ویڈیو ٹیپ کا فرانزک معائنہ کروایا جائے گا اچانک دم توڑ گیا ہے۔ نون لیگ کا یہ استدلال قابلِ غور ہے کہ حکومت کے اس اچانک یوٹرن کا مطلب یہ ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے…… اب کہا جا رہاہے کہ یہ معاملہ عدلیہ کا ہے، وہ جانے اور ویڈیو ٹیپ جانے! ……

اگر یہ ویڈیو ٹیپ ڈاکٹرڈ نہیں بھی کی گئی تو بھی اس کا منظرِ عام پر آنا حکومت کے لئے ایک دردِ سر بن گیا ہے۔ لگ رہا ہے جج صاحب کو مستعفی ہونا پڑے گا اور اگر کیس ریمانڈ ہو گیا تو نوازشریف کو رہا کرنا پڑے گا۔ اس کیس کی سماعت پھر سے شروع ہو گی اور نہ جانے کب تک چلے اور کیا فیصلہ آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ٹیپ نے عدالت ہائے عالیہ و عظمیٰ دونوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور نیب کا تو سارا ”قصرِ شیریں“ دھڑام سے نیچے آ گرا ہے۔ اس کیس کے فیصلے میں کس کا دباؤ تھا، اس پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔

2۔ مریم بی بی کی اس کانفرنس کے بعد ان کو 19جولائی کو نیب کی عدالت نے طلب کر لیا ہے۔ ایک سال پہلے ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ وہ کافی دیر تک چپ رہیں لیکن پھر یکایک چپ کا روزہ اس طمطراق سے توڑا کہ حضرت اقبال یاد آ گئے:

یہ خاموشی کہاں تک؟لذتِ فریاد پیدا کر

زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

نیب نے جج محمد بشیر کی احتساب عدالت میں ایک ریفرنس فائل کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مریم بی بی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جو ٹرسٹ ڈیڈ فائل کیا تھا وہ جعلی تھا، اس بارے میں تحقیق کی جائے۔ احتساب عدالت نے اس ڈیڈ (Deed) کا جب بغور معائنہ کیا تو اسے جعلی پایا اور اسی لئے مریم کو 19جولائی کو طلب کر لیا ہے۔ اس طلبی پر مریم کا ٹویٹ بڑا دلچسپ ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ”میں نے چونکہ اپنی پریس کانفرنس میں حکومتی سازشوں کو بے نقاب کر دیا ہے اس لئے حکومت بوکھلا اٹھی ہے اور یہ ریفرنس میرے خلاف دائر کر دیا گیا ہے۔ میں عوام سے پوچھتی ہوں کہ کیا اس صورتِ حال میں مجھے نیب کے سامنے پیش ہونا چاہیے؟“…… نون لیگ کے رہنماؤں کا یہ موقف نیا نہیں۔ پہلے بھی وہ عوام کی عدالت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔ لیکن عوام کی عدالت نے تو گزشتہ برس کے الیکشنوں میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا…… ہمارے خیال میں یہ کیس قانونی عدالت کے فیصلے کا محتاج ہے، عوامی عدالت کے فیصلے کا نہیں۔

2۔ ثناء اللہ جیل میں ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان کو کسی کال کوٹھڑی میں رکھا جا رہا ہے۔ گھر سے کوئی کھانا، کوئی بستر اور کوئی دوائی جیل نہیں جا رہی۔ حکومت نے سوال کیا ہے کہ جن پر کرپشن اور منشیات سمگلنگ کے کیس ہوں کیا وہ جیل میں کسی بی یا اے کلاس کے مستحق ہیں؟ رانا صاحب آج کل فرش پر بستر لگائے ہوئے ہیں اور جیل کی طرف سے باقی قیدیوں کو جس قسم کا کھانا دیا جاتا ہے، وہی کھانا سابق صوبائی وزیر قانون کو دیا جا رہا ہے …… ہائے یہ وہی وزیر ہیں جن کے ایک اشارۂ ابرو پر جیل حکام عمل کرنے میں لحظہ بھر کی دیر نہیں لگاتے تھے! بعض ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ثناء اللہ نے اقرارِ جرم کر لیا ہے، ان درجنوں لوگوں کے نام بتا دیئے ہیں جو اس ”منشیاتی ٹریفک“ میں ملوث تھے۔ ان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، حکومت ان کے ناموں کے بارے میں ارادتاً خاموش ہے اور وقت آنے پر سب کچھ بتا دیا جائے گا۔……واللہ اعلم!

4۔کرپشن جیسے جرائم میں ملوث صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی روائت ختم کر دی گئی ہے، اب کوئی مجرم ممبر اسمبلی، اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر حکومت اور اعیانِ حکومت کو وہ دشنام طرازیاں نہیں سنا سکتا جو قبل ازیں ایک معمول بن گیاتھا۔

5۔ نون لیگ کے بعض کلیدی رہنماؤں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ خواجہ آصف ان میں پیش پیش ہیں۔ لیکن بعض دوسرے حضراتِ گرامی بھی ہیں جن میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، راجہ ظفر الحق وغیرہ کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔ وہ جلد ہی اس جال میں پھانس لئے جائیں گے۔ اور یہ خبریں آج کی نہیں، ایک عرصے سے گرم ہیں۔ علاوہ ازیں بعض ایسے حضرات بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے نام اور تصاویر میڈیر پا کم کم دکھائی جاتی ہیں۔ ان میں پرویز رشید، طلال چودھری، عرفان صدیقی وغیرہ شامل ہیں۔ ان حضرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مریم بی بی کو ان کے وکلاء کے علاوہ اُس جسٹس کی پروفیشنل اعانت بھی حاصل ہے جن کو سپریم جوڈیشل کونسل نے بیک بینی و دوگوش اعلیٰ عدلیہ سے نکال دیا تھا۔

6۔وفاقی کابینہ نے اگلے روز (منگل وار 9جولائی) اس امر پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ سزا یافتہ مجرموں کے انٹرویو بعض الیکٹرانک چینلوں پر نشر کئے جا رہے ہیں اور ان کے بیانات کی بھی ٹی وی کوریج ہو رہی ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی چینل ایسی حرکت کرے تو اسے فوراً بند کر دیا جائے۔ وزیراعظم نے اس موضوع پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا : ”جن حضرات / خواتین کو عدالتوں سے سزائیں دی جا چکی ہیں ان کو ٹی وی پر ائر ٹائم دینے کا کیا مطلب ہے؟“ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ پاکستان کا باوا آدم نرالا ہے۔ سامعین اور ناظرین حیران ہوتے ہیں کہ عدالتیں جن لوگوں کو مجرم ٹھہرا کر جیل بھیجتی ہیں، ٹی وی والے ان کو اپنی سکرینوں کی زینت بنا کر نجانے کس کا ایجنڈا پورا کرتے ہیں!

میں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں ایک مختصر فقرہ لکھا تھا جو یہ تھا: ”تھوڑا انتظار کیجئے…… میڈیا، فوج، عدلیہ اور وکلاء کی باری بھی آنے والی ہے“۔……

اب وہی کچھ شروع ہو رہا ہے……چند روز پہلے ایک چینل پر آصف زرداری کا انٹرویو چل رہا تھا جس کو تو چند لمحوں کے بعد روک دیا گیا۔ لیکن اس کے پیچھے جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، وہ بھی تھوڑا صبر کریں۔ وہ کوئی مقدس گائے نہیں۔ اگر فوج کے کسی لیفٹیننٹ جنرل کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے اور کسی بریگیڈیئر کو پھانسی کی سزا سنائی جا سکتی ہے تو کوئی میڈیا اینکر خواہ کیسا بھی Well-Connected ہو اور بزعم خود ”پھنے خانی“کے بخار میں کتنا ہی مبتلا کیوں نہ ہو، اس کو ریاست کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کا موقف ہے کہ حکومت مخالف جو کچھ کہنا ہے وہ کہو، ریاست مخالف کہنے سے گریز کرو۔

جہاں جہاں جمہوری حکومتیں قائم ہیں وہاں ان کو ”آزادی ء تحریر و تقریر“ کی اوٹ میں ریاست مخالف تحریر و تقریر کی اجازت نہیں دی جاتی…… وفاقی کابینہ کا یہ فیصلہ اسی تناظر میں آیا جس کا ذکر کالم کی ابتدائی سطور میں کیا گیا یعنی مریم بی بی کی وہ پریس کانفرنس جس میں جج ارشد ملک کی ایک ریکارڈڈ ویڈیو ٹیپ نے ریاست کے چاروں ستونوں (انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ اور میڈیا) میں زبردست ہلچل مچا دی۔ اگر وہ ٹیپ منظر عام پر نہ آتی تو بہت سا ناگفتنی مواد شائد زیرِ قالین دبا رہتا۔ لیکن جونہی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تو اس پر عملدرآمد کرنے میں کوئی دیر نہ لگی۔ پہلے لکھ آیا ہوں کہ آصف زرداری کا انٹرویو فوراً روک دیا گیا اور کئی ٹی وی چینلوں کو آف ائر کر دیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ فی الحال تین چینلوں کو آف ائر کیا گیا ہے اور باقی 18چینلوں کے جواب کا انتظار ہے۔

ایک معروف انگریزی معاصر نے اپنے اداریئے میں ان چینلوں کی بندش کی مذمت کی ہے اور لکھا ہے:

”میڈیا کو توپ کے دہانے پر رکھنا کچھ زیادہ ہی بے باکانہ اور بے شرمانہ (Brazon) ہوتا جا رہا ہے اور معاملہ دن بدن آمریت کی طرف جا رہا ہے۔ میڈیا کے اداروں کو کھیلنے کے لئے کوئی ہموار پلے گراؤنڈ کا بہانہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ مریم نواز کی ہفتہ کے روز والی دھماکہ خیز کانفرنس کو ابھی چند ہی ساعتیں گزری تھیں جس میں مریم نے کہا تھا کہ وہ جج جس نے نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنائی تھی اس کا کہنا ہے کہ اسے ایسا کرنے کے لئے بلیک میل کیا گیا کہ پیمرا (Pemra) نے 21ٹی وی چینلوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے اور پوچھا کہ انہوں نے اس کانفرنس کو بغیر ایڈٹ کئے اپنے چینل پر کیوں دکھایا۔ اس سے اگلے روز تین نیوز چینلوں کو آف ائر کر دیا گیا جس پر ”پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA) نے فوراً ہی ایک سخت بیان جاری کیا اور اس یک طرفہ ایکشن کی مذمت کی کہ پیمرا نے ان چینلوں کو بغیر کوئی وجہ بتائے اور ان کا موقف سنے یہ ایکشن لیا۔ PBA نے مطالبہ کیا کہ ان چینلوں کو فی الفور آن ائر کیا جائے“۔

”یہ عجیب تماشا ہے کہ ایک ریگولیٹری تنظیم نے اپنے ہی طریقہ ہائے کار (SOPs) کی نفی کی ہے۔ اور ان چینلوں پر نہایت بودے اور کم حیثیت الزام لگائے ہیں کہ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ ء اخلاق کی نفی کی ہے۔ درحقیقت یہ کہنا زیادہ موزوں ہو گا کہ پیمرا نے خود اپنے ہی مینڈیٹ کو توڑنے کا ارتکاب کیا ہے…… معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریگولیٹر (پیمرا) ایک کٹھ پتلی یعنی Handmaiden ادارہ بن چکا ہے اور ان جابرانہ فورسز کا آلہ ء کار بن گیا ہے جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مائیکر مینیج (Micro-manage) کرنا چاہ رہی ہیں …… ماضیء قریب میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ بغیر کوئی وجہ بتائے چینلوں کی لائیو نشریات یکدم روک لی گئیں یا کاٹ دی گئیں۔ یہ پریس کی آزادی کے خلاف ایک شرمناک اور مذموم مہم ہے۔ گزشتہ روز (سوموار)PFUJ کہ جو صحافیوں کی ایک قومی تنظیم ہے اس نے ایک زور دار ڈکلیریشن پاس کیا ہے کہ بعض میڈیا مالکان اپنے مالی مفادات کے تحفظ کی خاطر حکومت سے ملے ہوئے ہیں۔ اگر میڈیا منقسم رہا تو اس طرح کے جابرانہ ہتھکنڈوں کا صیدِ زبوں بن جائے گا لہٰذا آج میڈیا کو یک جہتی کی زیادہ ضرورت ہے اور سرنڈر کرنا کوئی آپشن نہیں“۔

یہ اداریہ اس بات کا غماز ہے کہ ریاست کے دو ستون(انتظامیہ اور میڈیا) ایک دوسرے سے 180ڈگری مخالف سمت میں چل رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ملک کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اور عوامی خوشحالی کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟ حکومتی بھینسے کو سرخ کپڑا دکھا کر کوئی خیر کی خبر تونہیں سنی جا سکتی۔ یوں معلوم ہو رہا ہے کہ دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں کارکنانِ قضا و قدر بھی اسی طرف جاتے معلوم ہوتے ہیں جس طرف تیز ہواؤں اور جھکڑوں کا رخ ہے…… چنانچہ مشتری کو ہوشیار رہنے کی از بس ضرورت ہے:

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے

عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں، آشیانوں میں

مزید : رائے /کالم