’’وکیل صاحب آپ کا نام لینے سے گناہ جھڑتے ہیں‘‘سپریم کورٹ نے یہ بات کس وکیل سے اور کیوں کہی؟ جانئے

’’وکیل صاحب آپ کا نام لینے سے گناہ جھڑتے ہیں‘‘سپریم کورٹ نے یہ بات کس وکیل ...
’’وکیل صاحب آپ کا نام لینے سے گناہ جھڑتے ہیں‘‘سپریم کورٹ نے یہ بات کس وکیل سے اور کیوں کہی؟ جانئے

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے باجوڑ میں قتل کے ملزم کی ضمانت کیخلاف درخواست خارج کردی اور ہائیکورٹ کا ضمانت کا فیصلہ برقرار رکھا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملزم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ استغفراللہ صاحب ! آپ کا نام لے کرگناہ جھڑتے ہیں،ہمیشہ اسی لیے آپ کے نام سے پکارتا ہوں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں باجوڑمیں قتل کے ملزم کی ضمانت کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ استفغراللہ صاحب!آپ کس کی طرف سے پیش ہورہے ہیں؟وکیل استغفراللہ نے جواب دیا کہ میں ملزم سلمان کی طرف سے پیش ہوا ہوں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ استغفراللہ صاحب ! آپ کا نام لے کرگناہ جھڑتے ہیں،ہمیشہ اسی لیے آپ کے نام سے پکارتا ہوں، وکیل صفائی نے کہا کہ کیس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا،ٹرائل کورٹ نے ضمانت کی درخواست خارج کی،ہائی کورٹ نے ملزم کو ضمانت پررہا کردیاتھا، سپریم کورٹ نے باجوڑمیں قتل کے ملزم کی ضمانت کیخلاف درخواست خارج کردی اورہائی کورٹ کا ضمانت کا فیصلہ برقراررکھا ،عدالت نے کہا کہ ضمانت دینے اورمنسوخی کے قوانین الگ الگ ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد