پاک چین تعلقات دوستی سے اور آگے

پاک چین تعلقات دوستی سے اور آگے
پاک چین تعلقات دوستی سے اور آگے

  


چینی قونصلیٹ کی جانب سے بیجنگ میں ایک طویل اور تھکا دینے والا مصروفیت کا شیڈول ہے،ہماری آرام دہ بس ہے اور ہم ہیں۔ہمارے وفد کے اکثر ارکان جلدی سونے اور جلدی اٹھنے والے والے نہیں مگر یاسر حبیب خان جو ہمارے ٹور کوارڈینیٹر بھی ہیں ،ہمیں صبح سویرے اٹھا ہی دیتے ہیں جو ہمارے لئے آسان تو نہ تھا مگر کرتے کیا نہ کرتے نو بجے تک بس میں پہنچ ہی جاتے،کچھ ناشتہ کرتے کچھ نہ کر پاتے ۔مظہر برلاس ،اپنے رنگین کرتوں اور واسکٹوں کے سبب منفرد کھائی دیتے رہے۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ چائینہ ریلوے کمپنی،چائینہ پاور کمپنی،بیجنگ کلچرل ڈائیرکٹوریٹ ،چائینہ سٹیٹ قونصل آف انفرمیشن ،چائینہ اکنامک نیٹ ، عظیم دیوار چین ، فوڈ نمائیش اور مختلف بریفنگز ہمارے بیجنگ وزٹ کا حصہ ہیں۔ ہر جگہ پاک چین دوستی ہمیں عاشقی سے بڑھ کر لگی،بہت پیار اور محبت ملی ۔ دوستی اور عاشقی کے حوالے سے شعیب بن عزیز اور ان کا یہ شعربار بار یاد آتا رہا۔

دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب

میں ترے فقیروں میں ،میں ترے غلاموں میں

ہماری شاہراہ ریشم جسے شاہراہ قراقرم بھی کہا جاتا ہے،چین میں اسے شاہراہ دوستی بھی کہتے ہیں۔ دشوار گزار راستوں، طوالت، طویل پہاڑی سلسلہ، خطرناک گھاٹیوں کی بناء پر دُنیا اسے ایک عجوبہ بھی قرار دیتی ہے، ابتدائی مرحلہ میں وادی ہنزہ کو چینی صوبہ سنکیانگ سے بذریعہ سڑک ملانے کا منصوبہ تھا، اس شاہراہ پر 1969ء میں کام کا آغاز ہوا، 15 ہزار کے قریب چینی اور پاکستانی مزدوروں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ شاہراہ کی لمبائی ایک ہزار 300 کلو میٹر ہے، جس کا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان اور 413 کلو میٹر حصہ چین میں ہے، یہ شاہراہ جو درہ خنجراب سے گزر کر کاشغر سے ہوتے سنکیانگ تک جاتی ہے یہ 1979ء میں مکمل ہوئی اور اسے 1986ء میں عام شہریوں کے لئے کھول دیا گیا، یہ سڑک شمالی علاقہ جات کو حسن ابدال سے ملاتی ہے جس کے ذریعے ٹریفک جی ٹی روڈ کے ذریعہ ملک بھر میں پھیل جاتی ہے، شاہراہ ریشم ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹ گرام، بشام، پتن، داسو، چلاس، گلگت سمیت کئی اہم پاکستانی شہروں کو بھی آپس میں ملاتی ہے۔ہم نے اب یہاں موٹر وے بھی ملا دی ہے۔

ہمارے وفد کے روح رواں ڈاکٹر ظفر محمود کو پاک چین دوستی کے حوالے سے باہمی معاملات کی تاریخ ازبر ہے۔وہ بتا رہے تھے کہ  شاہراہ ریشم دنیا کی بلند ترین عالمی شاہراہ ہے جو سطح سمندر سے 15 ہزار 397 فٹ بلند ہے، اس کی تعمیر کے دوران متعدد چینی اور پاکستانی مزدور اپنی جان سے گئے، دوستی کی لازوال مثال اس شاہراہ دوستی کی تعمیر 27 سال میں مکمل ہوئی، بلدار اور نشیب و فراز کی وجہسے یہ شاہراہ ڈرائیورز کے لئے بھی ایک چیلنج ہے، قراقرم پہاڑی سلسلہ سے گزرتی یہ سڑک چینی اور پاکستانی انجینئرز کی محنت شاقہ کا عظیم نمونہ ہے، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ البتہ اس عظیم شاہراہ کے لئے مستقل خطرہ ہیں جس کے باعث مختلف سیکشنوں پر ٹریفک بلاک ہو جاتی ہے، کے ٹو پہاڑ کی چوٹی کے قریب سے بھی یہ شاہراہ گزرتی ہے جو سیاحوں کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

مختلف بریفنگز کے دوران یہ حقیقت زیادہ کھل کر سامنے آئی کہ رسل و رسائل کے ذرائع کے بغیر ترقی ناممکن ہے شائد اسی وجہ سے پا کستان اور چین کی قیادت کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کا خیال آیا جس کے تحت گوادر بندرگاہ کو کراچی، کوئٹہ، لاہور، اسلام آباد، پشاور سمیت ملک کے اہم شہروں سے ملا کرمسافت کو کم اور سفر کو آسان بنانا تھا اس منصوبہ پر بھی تیزی سے عمل درآمد جاری ہے اور سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کے منصوبہ نے بھی اسی شاہراہ دوستی کے بطن سے جنم لیا، چینی قیادت پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے بھی سنجیدہ ہے۔

ہر وقت ہلکی پھلکی باتوں سے ہنسانے والے آصف عفان نے بڑی سنجیدہ بات کہی ، امریکہ، بھارت کو پاک چین دوستی ہضم نہیں ہو رہی، سی پیک منصوبہ بھارت کی علاقائی چودھراہٹ کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے، بھارت روس کی بغل سے نکل کر اب امریکہ کا بغل بچہ بن کر خطے میں چودھراہٹ قائم کرنے کا خواہش مند ہے لیکن حالات کی کروٹ بتا رہی ہے کہ ناپاک عزائم سے لتھڑا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ بس میں بیٹھے بیٹھے محترمہ صغریٰ صدف نے بات آگے بڑہائی کہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں پاک فوج کا بھی نمایاں کردار رہا اور اب سی پیک میں بھی پاک فوج کا کردار شاندار ہے۔

میاں سیف الرحمٰن اور جنوبی پنجاب کی آواز سجاد جہانیہ کہاں خاموش رہتے ،دونوں نے لقمہ دیا کہ شاہراہ ریشم کی طرح سی پیک بھی دونوں ملکوں کی دوستی کو مضبوط اور مستحکم بناتا ہے، ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبہ اس کا اہم ترین حصہ ہے، بھارت اس منصوبہ سے اس لئے بھی خائف ہے کہ اس منصوبہ کی تکمیل سے جنوب ایشیا کے ممالک کے اثر سے نکل جائیں گے، اس وجہ سے بھارت ہی نہیں امریکہ بھی اس منصوبہ سے خائف ہے، پاک چین تعلقات میں اہم موڑ اس وقت آیا جب ٹرمپ نے اپنے افغان پالیسی بارے خطاب میں پاکستان کو دھمکی دی کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا، پاکستان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی، چین نے بھی فوری پاکستان کے حق میں بیان دیا، دونوں ملکوں کے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے رجحان نے پاکستان دشمنوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، دفاعی تعاون کے علاوہ پاک چین مشترکہ فضائی مشقیں دونوں ممالک میں تعاون کے لامحدود ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، پاکستان کو اقوام عالم میں تنہا اور دہشتگردوں کی سرپرست ریاست ثابت کرنے والے امریکہ کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ پاکستان اب کوئی تر نوالہ نہیں، جسے جب چاہا دھمکا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر لیا، چین جنوبی بحیرہ میں امریکہ کے اتحادیوں کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امریکہ چین تعلقات میں تنائو کی کیفیت ہے اب امریکہ ،روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہش مند ہے اس تمام عالمی سیاست کے باوجود پاک چین دوستی چٹان کی طرح ہے اور خطے میں مستقبل سی پیک منصوبہ کی وجہ سے چین اور پاکستان کا ہے۔ملک سلمان اور کومل سلیم خاموش بیٹھے اس بات چیت کو انجوائے کر رہے تھے جبکہ محمد عامر نے اپنا حصہ اس طرح ڈالا کہ چلتی بس میں گفتگو کرتے ہماری خوبصورت تصویرں بنا ڈالیں جو واقعی فوٹوگرافی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ