پنجاب حکومت اورتاجروں کے مابین مذاکرات کامیاب ، تاجروں کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

پنجاب حکومت اورتاجروں کے مابین مذاکرات کامیاب ، تاجروں کا ہڑتال ختم کرنے کا ...
پنجاب حکومت اورتاجروں کے مابین مذاکرات کامیاب ، تاجروں کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

  


لاہور (صباح نیوز)پنجاب حکومت اور تاجر تنظیموں کے درمیان  ہفتہ کو وزیر اعلیٰ آفس میں سات گھنٹے تک طویل مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں اور تاجر تنظیموں نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق  تاجر تنظیموں کے رہنماؤں نے صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال اور ایم پی اے نذیر احمد چوہان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے ہمارے تمام مطالبات مان لیے ہیں لہٰذا اب ہڑتال کا کوئی جواز نہیں ہے،مذاکرات کی کامیابی کے بعد اب مارکیٹیں اور دُکانیں بند نہیں ہونگی۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کے ساتھ آج سات گھنٹے تک طویل مذاکرات ہوئے اور اِن کے تمام جائز مطالبات کو مانا گیا ہے اور بعض مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت مخالف تنظیمیں پراپیگنڈا کر رہی ہیں کہ شناختی کارڈ ہر خریدار سے طلب کیا جائے گاحالانکہ یہ شرط صرف مین ڈیلر کے لیے ہے،عام دُکاندار اور گاہک کے لیے نہیں،سب ڈیلر کے لیے فکسڈ ٹیکس کا نظام لایا جا رہا ہے،حکومت چھوٹے دُکانداروں پر کوئی ٹیکس نہیں لگا رہی اور نہ ہی اس بارے میں سوچا جا رہاہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کے بغیر حکومتی نظام نہیں چلتے ایسے لوگ جو ٹیکس دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اُنہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ ملوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں صرف اُنہی پر شناختی کار ڈ کی شرط لاگو کی جا رہی ہے،کوئی خریدار 50 ہزار روپے مالیت سے کم سامان جتنی بار بھی خریدے گا اُس سے شناختی کارڈ طلب نہیں کیا جائے گا،عام دُکاندار سے بلکل نہیں پوچھا جائے گا،جیولرز ایسوسی ایشنز کے لیے ٹیکس کا علیحدہ نظام اُن کی مشاورت سے لائیں گے ابھی کسی چیز کا اِن پر اطلاق نہیں ہوتا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ایف بی آر مارکیٹوں میں چھاپے نہیں مارے گی اور نہ ہی کسی کا اکاؤنٹ منجمند کیا جائے گا۔درآمدپر ٹیکس کے معاملے پربات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ جن بل آف لینڈنگ لا ء کے آنے سے پہلے کلیئر نہیں ہوااُن پرا بھی یہ نیا نظام لاگو نہیں ہوگا،پہلے اِن کا بل آف لینڈنگ کلیئر کیا جائے گا،ٹرانسپورٹر پر دو سے چار فیصد ٹیکس کی جو بات ہو رہی ہے اِس حوالے وزیر اعظم سے بات کریں گے اِنشاء اللہ اِنہیں بھی ریلیف ملے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ  پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت نہیں بڑھے گی جو قیمت 2018 ء میں تھی وہی قیمت یعنی 20 آٹے کا تھیلہ 770 روپے میں ملے گا، اس مقصد کے لیے حکومت کو جتنی بھی سبسٹڈی دینا پڑی دے گی،آٹے کی قیمت کو کسی صورت بڑھنے نہیں دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت آٹے کی سستے داموں فراہمی کے لیے 42 ارب روپے کی سبسٹڈی دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اشیاء ضروریہ کی سستے داموں فراہمی پر اگر حکومت اربوں روپے کی سبسٹڈی دے رہی ہے تو قیمتوں پر نظر رکھنا بھی حکومت کا حق ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گھی پر وفاقی حکومت نے جو دو سے سات فیصد ٹیکس لگایا تھا یہ ٹیکس واپس لینے کے لیے سمری وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے اور یہ ٹیکس بھی انشاء اللہ واپس ہوگا اور گھی کی قیمت بھی کم ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ غریب آدمی پر کوئی بوجھ نہ پڑے ۔اُنہوں نے کہا کہ سیمنٹ، گھی ، چینی پر ٹرن آور ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ورثے میں ملنے والے معاشی بحران کو ٹھیک کرنے کے لیے مخلصانہ کاوشیں کر رہی ہے اور ہم اس میں انشاء اللہ ضرور کامیاب ہونگے۔ ممبر صوبائی اسمبلی نذیر احمد چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ تاجروں اور چھوٹے طبقے کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ تاجروں اور حکومت کے درمیان جو خلاء پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اِسے ختم کر رہے ہیں، تاجروں اور حکومت کا چولی دامن کا ساتھ اور ہم حکومت تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ قبل ازیں حکومت اور تاجروں کے مابین طویل مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان ٹریڈز الائنس پنجاب کے صدر اور تاجرتنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ صوبائی وزیر اطلاعات صمصام بخاری اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے تاجروں سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے ممبران بھی مذاکرات میں موجود تھے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور