ریلوے کی تباہی و بربادی کا سفر

ریلوے کی تباہی و بربادی کا سفر

  

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ریلوے ڈیٹھ ٹریک بن چکا اسے موجودہ انداز میں نہیں چلایا جا سکتا، ریلوے کا نظام ایسا نہیں کہ ٹرین ٹریک پر چل سکے، پہلے ہی77ہزار ملازمین ہیں، شیخ رشید مزیدایک لاکھ کہاں بھرتی کریں گے، کیا چائنہ سے ایم ایل ون کے لئے ملنے والا پیسہ ایک لاکھ ملازمین ہی لے جائیں گے،اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک لاکھ مجوزہ ملازمین ایم ایل ون کے لئے رکھے جائیں گے،اِس بارے میں شیخ رشید سے الفاظ کے چناؤ میں شاید غلطی ہو گئی ہے۔چیف جسٹس نے کہا آئے روز کے ریلوے حادثات سے قیمتی زندگیوں اور ریلوے کا نقصان ہو رہا ہے،ریلوے کا سفر محفوظ بنایا جائے، سیکرٹری، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے۔ جناب چیف جسٹس نے اِن خیالات کا اظہار ریلوے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کیا، چیئرمین ریلوے کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی، جس میں سی پیک کے تحت ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن اور کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا۔مزید سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

ریلوے آج جس حالت میں ہے یہ کوئی دو چار برس کی بات نہیں،نصف صدی سے زائد کا قصہ ہے، اچھے خاصے چلتے ادارے کیسے برباد ہوتے ہیں،ریلوے اس کی کلاسیک مثال ہے، آزادی کے وقت ریلوے کا جو نظام پاکستان کے حصے میں آیا تھا یہ اچھا تھا یا بُرا،ریل گاڑیاں ٹریک پر چل رہی تھیں،اس زمانے میں روڈ ٹرانسپورٹ کی حالت اتنی اچھی نہیں تھی نہ ایسی ڈی لکس مسافر بسوں کا کوئی تصور تھا، جو آج مُلک بھر کی سڑکوں پر رواں ہیں،موٹر ویز کا خواب بھی ابھی نہیں دیکھا گیا تھا، فاصلے طویل تھے اور لمبے سفر کے لئے لوگ ریلوے ہی کو ترجیح دیتے تھے،اس زمانے میں ہوائی سفر بھی عام نہیں تھا کہ دولت کی ریل پیل نہیں تھی،اب ریلوے بتدریج برباد ہو گئی اور حالت یہ ہو گئی جس کی جانب جناب چیف جسٹس کے ریمارکس اشارہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ روڈ ٹرانسپورٹ بدرجہا بہتر حالت میں ہے، موٹرویز باہم منسلک ہو گئی ہیں تو فاصلے بھی سمٹ گئے ہیں۔ لاہور سے پشاور تک سفر پانچ ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے، جو ایک زمانے میں دس گھنٹے تک لے جاتا تھا اب تو پشاور اور ایبٹ آباد جیسے شہروں سے کراچی پہنچنے میں بھی سولہ سترہ گھنٹے لگتے ہیں، ریلوے کے مقابلے میں روڈ ٹرانسپورٹ کی ترقی کے سفر کا تذکرہ یہاں اِس لئے ضروری ہے تاکہ ایک جانب بہتری اور دوسری جانب بربادی کی وجوہ کا سراغ مل سکے۔

لاہور میں ریلوے کی کیرج اور لوکو شاپس قیام پاکستان سے پہلے ہی بنی تھیں اور یہ دونوں ورکشاپس لاہور کے مزدوروں کی ملازمتوں کا بڑا ذریعہ تھیں، ملازمین وقت پر اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہوتے اور وقت پر چھٹی کرتے تھے،لیکن زوال کا سفر شروع ہوا تو ملازمین نے ٹمبر ٹانگ کر غائب ہونے کا راستہ تلاش کر لیا،اس میں سہولت کاری کا کردار کلریکل سٹاف نے ادا کیا جو غیر حاضر ملازمین کی حاضری لگا دیتے اور کام سے بھاگ جانے والے مزدوروں کو تنخواہ پوری مل جاتی،پھر یہ ہوا کہ ریلوے ملازمین چھٹیاں لے کر بیرونِ مُلک ملازمتیں کرنے لگے،جب کبھی پاکستان آتے مہینے دو مہینے کے لئے اپنا نمبر کھلوا لیتے اور یہاں پھر اُن کی حاضریاں لگنا شروع ہو جاتیں۔ یوں وہ ایک ٹکٹ میں کئی مزے لینے لگے، پاکستان میں بھی ملازمت محفوظ اور بیرون مُلک بھی نوکری قائم، پھر یہ سلسلہ پھیلا تو چور دروازے بہت زیادہ ہو گئے، برانچ لائنوں کا یہ حال ہو گیا کہ مسافر بغیر ٹکٹ سفر کرنے لگے،دور دراز کے علاقوں میں ٹکٹ خرید کر سفر کرنا گناہ سمجھا جانے لگا،زیادہ سے زیادہ مین لائن گاڑیوں میں چیکنگ ہو تی، کیونکہ ریلوے کی تمام تر آمدنی کا انحصار انہی مین لائن گاڑیوں پر تھا، برانچ لائن گاڑیاں تدریجا ً بند ہونے لگیں۔ ایک زمانے میں ریلوے انجن بجلی کے ذریعے چلانے کا تجربہ کیاگیا، لاہور اور خانیوال کے درمیان یہ انجن چلنے شروع بھی ہوئے، جو امریکہ سے درآمد کئے گئے تھے،کچھ عرصے تک یہ سلسلہ چلا پھر یہاں بھی زوال نے ڈیرے ڈال لئے اور ایک ایک کر کے بجلی کے سارے انجن بند ہوتے گئے، پھر وہ وقت آیا جب بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بند ہو گئیں اور انجن سکریپ ہو گئے، ٹریک کے اوپر جو تانبے کے تار بجلی سپلائی کرتے تھے وہ آہستہ آہستہ چوری ہونا شروع ہو گئے اب کہیں کہیں ان کی باقیات موجود ہیں یا پھر وہ کھمبے کھڑے ہیں جو بجلی سپلائی کے لئے نصب کئے گئے تھے اِن کی چوری چونکہ آسان نہیں ورنہ یہ بھی کب کے غائب ہو گئے ہوتے۔

پھر ایک اور دور آیا جب چین سے انجن اور ریل گاڑیوں کے ڈبے درآمد کئے گئے،یہ انجن تو زیادہ دیر نہ چل سکے اور ایک ایک کر کے کھڑے ہو گئے، بوگیاں البتہ اب بھی تھوڑی بہت چل رہی ہیں۔ ایک زمانے میں اسلام آباد میں کیرج فیکٹری اسی مقصد کے لئے بنائی گئی تھی کہ یہاں مسافر ٹرینوں کے لئے نہ صرف ملکی ضرورت کی بوگیاں بنائی جائیں گی،بلکہ انہیں برآمد بھی کیا جائے گا، تھوڑی سی بوگیاں شاید بنگلہ دیش کو برآمد بھی ہوئیں،لیکن پھر اس چراغ میں بھی روشنی نہ رہی،اب بوگیوں کی ضرورت کے مطابق تیاری نہیں ہو رہی،حادثات میں تباہ ہونے والی بوگیاں یارڈوں میں کھڑی ریلوے کی تباہی کا منظر پیش کر رہی ہیں اور ٹریک حادثات معمول بن چکے،گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں تو کھلے پھاٹکوں پر بسیں،ویگنیں، ٹریکٹر اور دوسری گاڑیاں ریل گاڑیوں کی زد میں آ جاتی ہیں،آتشزدگی کے کیس بھی ہو جاتے ہیں۔اِن حالات میں جب سیاسی مقاصد کے پیش ِ نظر نئی نئی گاڑیاں چلانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو ان کے لئے بوگیاں دستیاب نہیں ہوتیں، پھر ٹرینوں کی آمد کا انتظار کیا جاتا ہے۔ایک ٹرین کی بوگیاں اتار کر دوسری کو لگائی جاتی ہیں اور یوں گاڑیاں وقت پر روانہ نہیں ہو پاتیں غرض حادثات و واقعات کی ایک زنجیر ہے جو باہم پیوست ہے اور یہ سب مل کر ریلوے کو ایک ناکام ادارہ بنا چکے ہیں یہاں تک کہ ستتر ہزار ملازمین بھی اب بوجھ بن چکے ہیں اور جناب چیف جسٹس یہ سوال کر رہے ہیں کہ اتنے ریلوے ملازمین کے ہوتے ہوئے مزید ملازمین کی کیا ضرورت ہے۔ریلوے کی بربادی کی داستان دراصل اتنی طویل ہے کہ یہ کالم اسے پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کرنے کے لئے قطعی ناکافی ہیں،جو چند واقعات ذکر کئے گئے ہیں یہ ”مُشتے نمونہ از خر وارے“ ہیں اور ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ریلوے بربادی کے گھاٹ کیوں اُتر گیا۔

ایک سابق وزیر ریلوے نے جو اس منصب پر دو بار فائز ہوئے ایک بار چڑ کر کہا تھا کہ ریلوے اگر بند بھی ہو جائے تو کیا حرج ہے،دُنیا میں کئی مُلک ایسے ہیں جہاں سرے سے ریلوے ٹریک ہی نہیں،جہاں سوچ یہ ہو وہاں ریلوے کی ترقی اور اسے بلٹ ٹرین کے دور تک لانے کے لئے منصوبہ بندی کیسے کی جا سکتی ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب شیخ رشید پہلی دفعہ ریلوے کے وزیر بنے تو انہوں نے بلٹ ٹرین چلانے کا اعلان کر دیا تھا، پھر ان کی حکومت رخصت ہوئی تو یہ منصوبہ بھی فائلوں کی گرد میں دب گیا،اب اُن کا کہنا ہے کہ ایم یل ون نہ بنا تو ریلوے نہیں چل سکتا،لیکن یہ ایم ایل ون تو ابھی منظوری کے مراحل میں ہے۔ سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کی ہے،یہ مرحلہ طے ہو گا تو پھر کہیں جا کر عملی کام کا آغاز ہو گا، منصوبے کا پی سی ون ایکنک میں زیر التوا ہے منظور ہوا تو فنڈز سی پیک کے ذریعے ملیں گے۔گویا اس کی تکمیل بھی چین کی مرہونِ منت ہو گی،کسی وجہ سے یہ فنڈز نہ ملے تو یہ منصوبہ بھی غیر یقینی کا شکار ہو جائے گا، جب تک ایم ایل ون نہیں چلتا ریلوے موجودہ گھسے پٹے طریقے سے ہی چلتا رہے گا اور اس کا خسارہ قومی خزانے سے پورا کیا جاتا رہے گا، ٹمبر ٹانگنے والے بغیر کام تنخواہ پاتے رہیں گے اور اہل ِ وطن کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہیں گے کہ ادارے کیسے برباد ہوتے ہیں،لیکن وہ بربادی کے ذمے داروں کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں گے، محاورہ تو یہ ہے کہ ”ہر کہ آمد عمارت نو ساخت“ لیکن ریلوے کے معاملے میں کہا جا سکتا ہے،جو بھی آیا اس نے ریلوے کی تباہی و بربادی میں مقدور بھر حصہ ضرور ڈالا، کچھ نہیں کہا جا سکتا تباہی کا یہ سفر کیسے رُکے گا؟

مزید :

رائے -اداریہ -