کورونااور سیاست،احتیاطی تدابیر پر عمل کی ضرورت

کورونااور سیاست،احتیاطی تدابیر پر عمل کی ضرورت

  

کورونا وبا کے مہلک اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے،متعلقہ طبی ماہرین کی بتائی اور دہرائی،احتیاطی تدابیر پر،سب لوگوں،بشمول خواتین اور بچوں کو شب و روز عمل کرنا لازم ہے۔ تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر،تندرست،صحت مند، توانااور تازہ دم رہ کر،اپنی زندگی کی روزمرہ سرگرمیاں،آرام وسکون سے،جاری رکھ سکیں۔ گزشتہ تقریبا چار ماہ سے،اس وبا کے پھیلاؤ سے،پاکستان بھی، ان 200سے زائد ممالک میں شامل ہے، جہاں کے بیشتر مقامات،دیہات اور مضافات میں،لاکھوں لوگ، عدم احتیاط کی بنا پر، جان بحق،مفلوج اور کمزور ہوگئے ہیں۔ اس وبا کا تاحال،عالمی سطح پر، کوئی موثر علاج ایجاد نہیں ہوسکا، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک کے متعلقہ ماہرین اپنی ہمہ وقت تعلیم،تربیت اور تحقیق پر،بہت توجہ،محنت اور کثیر وسائل مختص کرنے سے بھی،دریغ نہیں کرتے۔ اس بارے میں،پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے،ڈاکٹر صاحبان بھی،بلاشبہ ان سے کم محنت وکاوش پر مبنی اقدامات،برؤے کار نہیں لاتے،اگرچہ وہ خاصے مشکل حالات اور محدود دستیاب وسائل سے استفادہ کرکے،اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ ڈگریوں کے حصول کی تگ ودو کرتے ہیں۔

اور اس جدوجہد کے دوران،وہ بعض اوقات،ترقی یافتہ ممالک کے بین الاقوامی معیار کے شہرت یافتہ ڈاکٹر ز اور دیگر فنی ماہرین کے طویل عرصوں پر محیط تجربے کی صلاحیتوں کو بھی مات کردیتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت(WHO)کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم کی قابل قدر خدمات اور تسلسل سے مثبت کارکردگی،اس ضمن میں،موجودہ حالات کے دوران ایک اچھی مثال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی خلوص نیت سے محنت کرنے والے لوگوں کو مشکل حالات سے نبردآزما ہونے کی بھی ہمت و قوت عطا فرما کر، کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ ایسی مثالیں مختلف خطہ ہائے ارض پر اور دیگر شعبوں میں بھی دیکھنے اور پڑھنے میں آتی رہتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی،عدم احتیاط کرنے والے لاتعداد لوگ،اس کا شکار ہوکر،چند روز یا ہفتوں کے بعد،موت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔حا لا نکہ ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں،ان کی شرح خواندگی زیادہ اور معاشی حالات بہتر ہونے سے،گھریلو صفائی اور اردگرد کے ماحول میں آلودگی کے اثرات کم کرنے کیلئے جراثیم کش سپرے بھی خاصے کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ جو بعص بیماریوں کے جلد یا بتدریج خاتمہ کے لیے،کافی مو ثرنتائج دکھاتے ہیں۔ یہ وبا تاحال،کئی ممالک میں نرمی یا شدت سے جاری ہے۔

لہذا اس کے مہلک اثرات سے بچنے کیلئے عالمی ادارہ صحت اور،ترقی یافتہ ممالک کے طبی ماہرین کے کامیاب تجربات اور ہدایات سے،استعفادہ کی خاطر،حتی المقدورجلد عمل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انسان کی ذمہ داری،اپنے حالات اور استطاعت کے مطابق،بیماری سے صحت یابی اور شفاء کے لیے دوا کا استعمال اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا، التجا، توبہ اور استغفار،خلوص نیت،عاجزی اور انکساری کے ساتھ عرض کرنا ہے۔ اس معاملہ میں اپنی مہنگی تعلیم،خاندانی شان و شوکت، بہتر حسب و نسب اور دنیاوی اقتدار واختیار کا کوئی تاثر یا غرور و تکبر کا کوئی شائبہ،حائل نہیں ہونا چاہیے۔اللہ تعالی تمام انسانی آبادی اور دیگر مخلوقات کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ جو کسی بھی انسان کو،کسی وقت،کسی مشکل،کسی تکلیف، پریشانی، آفت، عذاب اور چھوٹے یا بڑے مالی نقصان یا خسارے سے دوچارکرسکتاہے۔ وہ رحیم و رحمان ہے اور قہار وجبار بھی۔ اس کے آگے کوئی مقتدر حکمران، بادشاہ، وزیراعظم،جج، عالمی یا علاقائی ادارے کے سربراہان کوئی دلیل پیش کرنے کی، ہمت و جرات نہیں کر سکتے۔ ہر ذی روح، اس کی وسیع و عریض کائنات میں، ایک معمولی وجود وحیثیت رکھتا ہے۔ حقائق بالا سے واضح ہے، کہ کورونا سے تحفظ اور نجات کیلئے، احتیاطی تدابیر، پر شب و روز عمل کیا جائے۔ احکام الہی کی اطاعت میں کوئی غفلت اور کوتاہی نہ کی جائے۔ اللہ تعالی کے بلندو بالا مقام و احترام کو تسلیم کرنے کا مظاہرہ کیا جائے۔وزیراعظم نے چند روز قبل لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حکم،ترغیب یا اپیل کاکس قدر اثرہوتا ہے۔اس کے نتائج آئندہ دو یا تین ہفتے کے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ملکی سیاسی امور سے نبرد آزما ہونے کیلئے سب باشعور اور ذمہ دار، سیاسی عہدہ داروں اور کارکنوں کو، ضروری احتیاط سے، اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ روش منفی اور ظالمانہ نہیں کہ حریف لوگو ں پر،آئے روز اور تسلسل سے، قومی دولت اور وسائل کی خوردبرد کی، الزام تراشی کی جائے۔انہیں چور ڈاکو کہہ کر،بدنام کرنے اور ناکام کہنے کی رٹ لگائی جاتی رہے۔ آٹا اور چینی سبسڈی پر کمیشن کی رپورٹ آگئی ہے۔ اس پر گزشتہ چند روز سے، کم وبیش تینوں بڑی جماعتوں کے راہنما، سابق اور موجودہ حکومت کی جانب اربوں روپے کی سبسٹڈی وصول کرنے کے بارے میں مختلف بیانات،میں،ایک دوسرے کو ذمہ دار اور قصور وار ٹھہرارہے ہیں۔ لیکن چینی کی قیمت آج کل بھی 80روپے سے 90روپے فی کلو مارکیٹ میں ہے۔ اس ضمن میں سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی مالی امداد کی رقوم مل مالکان کو دینے کے باوجود چینی کے ریٹ میں تا حال کمی نہ آنے کا کیا معقول جواز ہے۔؟حالیہ عدالتی ریٹ 70روپے فی کلو تو عارضی طور پر ہے یہ کسی وقت بھی ختم ہو سکتا ہے۔وفاقی حکومت کے ترجمان کی ایک یہ دلیل اکثر دی اور دہرائی جاتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اپنی کوئی شوگر مل نہیں اس منطق سے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم چینی کی قیمت اب تک کم کرنے سے کیوں گریز کرتے چلے آرہے ہیں؟

وہ آخر وطن عزیز کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناتے عوام کے اس مطالبہ پر فوری توجہ دیکر چینی کی موجودہ خوردہ قیمت زیادہ سے زیادہ 60روپے فی کلو کر نے کا اعلان کر کے ملک بھر کے لوگوں کو اس کی وافر ترسیل اور فراہمی کا انتظام کریں۔باقی متنازعہ امور کی چھان بین متعلقہ قوانین اور اصولوں کے تحت آگے بڑھائی جائے۔ اور غلط کار افسران اور نمائندوں نے آٹا اور چینی کی سمگلنگ اور مالی امداد کی وصولی میں جو خیانت کاری کا ارتکاب کیا ہے۔ اس قومی سکینڈل میں حکومت اپوزیشن اور سرکاری افسران کے مابین کوئی تفریق تعصب اور رعایت روانہ رکھی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی نوازش سے امسال گندم کی فصل اچھی ہوئی ہے۔ حکومت بھی اس حقیقت کا کھلے عام اعتراف کررہی ہے۔ لہذا عوام کو 20کلو آٹے کا تھیلہ 825روپے میں ہی فروخت کرنا یقینی بنایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -