قدیم جاپانی فنون

قدیم جاپانی فنون

  

جاپان ہے تو ایک نہایت چھوٹا سا ملک جو دوسری جنگ عظیم میں تقریباً تباہ ہو گیا تھا،لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد جاپانیوں نے اپنی ہمت اور علم دوستی کی بنا ء پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس قدر ترقی کی کہ ساری دنیا اْن پر رشک کرنے لگی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ جاپانی شاید دنیا کی وہ واحد قوم ہے جس نے جدید وقدیم کو اس خوب صورتی سے اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر رکھا ہوا ہے کہ اسے دیکھ کر ان کے سلیقے،نفاست اور جمالیاتی ذوق پر رشک آتاہے۔ان کے فنون اس قدر دلچسپ ہیں کہ دنیا بھر میں لوگ انھیں پسند کرتے،سراہتے اور سیکھتے بھی ہیں۔

آئیے ان کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔

بَون سائی(Bon Sai)

بون سائی کے لفظی مطلب ہیں ٹرے میں پودا اْگانا۔

اس میں فن کا رانہ بات یہ ہے کہ بڑی جسامت کے درختوں کو چھوٹے چھوٹے کھلے منہ کے گملوں میں اْگایا جاتاہے۔ہم انھیں بونے درخت بھی کہہ سکتے ہیں۔جن کے تنوں اور جڑوں کو مہارت اور احتیاط کے ساتھ چھانٹا جاتا ہے اور تاروں کے ذریعے سے شاخوں کو موڑ کر درخت کو کسی بھی شکل میں پروان چڑھا یا جاتاہے۔کچھ عرصے کی محنت اور دیکھ بھال سے یہ بونے درخت اتنی جاذب نظر شکل وصورت اختیار کرتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اگر پھل اور پھول دار درختوں کی بون سائی کی شکل دی جائے اور مناسب نگہداشت کی جائے تو ان درختوں پر پھل اور پھول بھی لگتے ہیں۔ذرا سوچیں ہماری کھانے کی میز پر آموں سے لدا ہوا بونا درخت اور ڈرائنگ روم کے کونے میں نیم کا بونا درخت سب کو کتنا بھلا معلوم ہو گا!

اَوری گامی(Origami)

اگر آپ کو کہیں کاغذ کا کوئی ٹکڑا نظر آئے تو آپ کیا کریں گے؟یقینا آپ اچھے بچوں کی طرح اْسے کوڑے دان میں پھینک دیں گے،لیکن جاپانی کاغذ کے ٹکڑوں کو پھینکتے نہیں،بلکہ انھیں انتہائی مہارت کے ساتھ خاص زاویوں سے تہ کرکے ایسی شکلوں میں تبدیل کر دیتے ہیں کہ ہم حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔

یہ فن اَوری گامی کہلاتاہے۔جاپانی زبان میں اس کے لفظی معنی”کاغذ کوتہ کرنے“کے ہیں۔یہ تقریباً ایک ہزار سال قدیم فن ہے۔ ابتدا میں اس فن کے ماہروں کو جاپان کے شہنشاہوں کے دربار میں اپنا فن دکھانے کی دعوت دی جاتی تھی،جہاں وہ بادشاہ اور درباریوں کو کاغذ موڑ کر خوب صورت پھول،پرندے اور جانوروں کے ماڈل بنا کر حیرت زدہ کردیتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہنر عام لوگوں میں منتقل ہو گیا۔ آج نہ صرف جاپان،بلکہ پوری دنیا میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی یہ فن سکھایا جاتاہے۔اَوری گامی خاص طور پر بچوں کے لئے ایک بہترین مشغلہ ہے۔جس کے ذریعے بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے محض کاغذ سے مختلف چیزیں تیار کرتے ہیں۔

یہ کاغذی چیزیں عموماً بغیر کسی قینچی یا گوند کے صرف ہاتھوں سے بنائی جاتی ہیں،یعنی”کم خرچ،بالا نشین۔

اِکے بانا(Ikebana)

یہ بھی ایک خوب صورت جاپانی فن ہے،جس کے معنی”پھولوں کی سجاوٹ“ہے۔یہ تقریباً پانچ سو سال قدیم ہنر ہے،جس میں پھولوں اور پتوں والی شاخیں ایسے منفرد اور دل نشین انداز میں ترتیب سے سجائی جاتی ہیں کہ دیکھنے والے عش عش کر اْٹھتے ہیں،یہاں تک کہ سوکھی ہوئی ٹہنیوں کو اس مہارت سے سجایا جاتاہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

اس فن کی شروعات بدھ مذہب کے مندروں میں پھولوں کی آرائش سے ہوئی۔مندروں میں تہواروں کے موقع پر بدھ مذہب کے پیرو کاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مندروں کو پھولوں کے ذریعے بہترین انداز میں سجایا جائے۔اس کوشش میں جاپانیوں نے پھولوں کی آرائش کے نت نئے اور اچھوتے انداز اختیار کیے جو کہ رفتہ رفتہ پوری دنیا میں جانے اور مانے گئے اور باقاعدہ ایک فن کی شکل اختیار کر گئے۔

اِکے بانا کے فن کار اسے صرف ایک تخلیقی عمل ہی نہیں سمجھتے،بلکہ پھول پتیوں کی سجاوٹ کو وہ اپنی روحانی خوشی کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔اپنی تخلیقات کو دنیا کے سامنے پیش کرکے وہ سب کو اس خوشی میں شریک کرتے ہیں۔کسی بھی ترتیب کو عمل میں لانے کے لئے فن کار خوب صورتی،پھولوں اور گلدانوں کی بناوٹ اور دوسری باریکیوں کو مد نظر رکھتے ہیں۔

آپ بھی اپنی کیاریوں سے اپنی پسند کے پھول اور ہری بھری شاخیں لائیں اور انھیں اپنی پسند اور ذوق کے مطابق ترتیب دے کر اپنے گھر کو سجائیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -