بلا عنوان

بلا عنوان
بلا عنوان

  

وہ چاروں انہماک سے ایل پی کی پیش کردہ رپورٹ سن رہے تھے کہا جا رہا تھا ”گزشتہ میٹنگ میں ہمارے خلاف ہونے والی جن سرگرمیوں کے خدشات کا اظہار زیڈ بی نے کیا تھا ان میں سے چند ایک درست ثابت ہو رہی ہیں مگر پھر بھی ہمارے مشن کی تکمیل میں کسی بڑی رخنہ اندازی کا امکان نہیں۔ در اصل اس گھوسٹ لومڑ ڈی ٹی نے انسانوں میں جرثومے کی ٹیسٹنگ رکوا کر ہمارے مشن میں خلل انداز ہونے کی کوشش ہے مگر ہم اپنے اہداف تقریباً حاصل کر چکے ہیں۔ شاید اس کے کسی حواری نے کھوج لگا کر اسے یقین دلایا ہوگا کہ یہ جرثومہ محض اسی انسان سے کسی دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے جو اس سے متاثر ہو کر ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے، جس کا نقصان فقط یہی ہے کہ کچھ ہم خود اور کچھ ہمارے پیروکاروں کی دولت کا پھیلاؤ قدرے سست ہو گیا ہے بہر حال یہ ڈی ٹی کا جبلی مخمصہ ہے جس کا ذکر اس سے قبل ہونے والی میٹنگ میں کیا گیا تھا۔ مگر یاد رہے کہ جب ہمارے بزرگان ان کے مسیح کو مصلوب کروانے کے جتن کر رہے تھے تو اس جیسے کئی ڈی ٹی اس وقت بھی اقرار و انکار جیسی ذہنی خلفشار کا شکار تھے لیکن ہمارے بزرگان نے آقائے عظیم کی مدد سے وہ منزل با آسانی سر کر لی تھی۔ چونکہ ڈی ٹی فی الحال ہمارے لئے ”کارآمد“ ثابت ہو رہا ہے، لہٰذا اس کے خلاف کارروائی موخر کر دی جائے تو بہتر ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے معزز تحقیق کاروں پر بھی فخر کا اظہار کرنا ہے جن کی محنت کی بدولت، کرہ ارض پر خوف و ہراس کا وہ مخصوص ماحول تخلیق کرنا ممکن ہو سکا جس نے انسانوں کی نقل و حرکت کو محدود تر کر دیا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا بھر کے انسانوں کی اکثریت کی آنکھیں اور کان اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر سکرین پر مرکوز ہو چکے ہیں۔ انہیں ہر خبر، ہر علم، ہر خوشی یا غمی صرف آن لائن مل رہی ہے۔

گوشہ تنہائی میں محبوس کروڑوں انسان ہمارا پیش کردہ مواد دیکھنے، سننے اور نتائج اخذ کرنے کے لئے اپنا دماغ استعمال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور یہ ہماری صوابدید پر ہے کہ انہیں کیا کچھ اور کہاں تک دکھانا اور سنوانا ہے، کس کو راستہ دینا ہے اور کس کو بلاک کرنا ہے، یہ سب کچھ ہم اپنی مٹھی میں جکڑ چکے ہیں آگاہی کی اس تیز تر ٹیکنالوج کے موجد ہم ہیں جس میں ہم مزید نئی راہیں تلاش کر کے انسانوں کی ایک بڑی اکثریت کو اپنے زیر نگیں کرنے کے قریب تر ہیں، آج ہم نے جہاں دنیا بھر کے انسانوں کی عمومی طرز فکر پر ضرب کاری لگائی ہے، وہیں ان کے مذہبی عقائد و ضوابط کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ہمارا پھیلایا گیا فتنہ و فساد کا لاوا دو آتشہ ہو چکا ہے۔ انسانوں کی اکثریت روحانیت کی دنیا سے نکل کر اپنی جبلی خود غرضی اور ہوس پرستی کو ہی حاصلِ زندگی سمجھنا شروع ہو چکی ہے۔ مثلاً مذاہب و روحانیت کے دو بڑے زعماء، جو کسی تخلیئے میں رہنا اپنی ”شان“ سمجھتے تھے اور خاص الخاص انسانوں کو اپنی قربت سے ”نوازا“ کرتے تھے، آجکل وہ سر عام، ہماری ٹیکنالوجی کے بل پر اپنے اپنے چینل تخلیق کر کے پر تکلف مسندوں پر جلوہ افروز اپنے علم و فضل کے خزانے بہا رہے ہیں کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جسے اختیار کر کے وہ اپنی مالیات اوپر لیجانے کی راہیں، زیادہ آسانی سے ہموار کر سکتے ہیں اور یہ سب کچھ وہ بنامِ خدا کر رہے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ قابل ذکر بات ان با حیا، با نقاب خواتین کی اکثریت کی ہے جو اپنے اپنے دین ا ور مذہبی علم اٹھائے میدان میں کود پڑی ہیں اور جنہیں لوگ قابل تکریم سمجھتے تھے، آج ہم انہیں بھی اٹھا کر پردہئ سکرین پر لے آئے ہیں جہاں وہ ایسے مسائل کی توضیحات و تصریحات میں مصروفِ کار ہیں جن کا ذکر ما قبل اشارتاً بھی گوارا نہیں کیا جاتا تھا۔ روحانیت کے یہ شاہکار، اپنی برگزیدہ ہستیوں کے فرمودات کے بخیئے کچھ اس طرح ادھیڑ رہے ہیں کہ خود ”روحانیت“ بھی چکرا کر گر پڑی ہے۔ مذاہب میں فرقہ واریت کی آگ مہمیز کرنے کے لئے انسانوں کے گروہوں کے سرکردہ پیشوا، آج ہماری ٹیکنالوجی کے بل پر، مال و زر کی ہوس میں، اپنے پیرو کاروں (Followers) کے اضافہ کے لئے نئے نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔ انسانوں کے نمایاں دانشور، عالم، طبیب، فلاسفر، مدبر، مفسر، تخلیق کار و فن کار ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے بذاتِ خود انوکھے طریقے ایجاد کر کے، انجانے میں ہی ہمارے مشن کی تکمیل میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ شرقِ اوسط کے بڑے بڑے اربابِ جاہ و حشم تو ہم پہلے ہی سے اپنے قابو میں کر چکے تھے، اب ان کا رہا سہا دم خم بھی انجام پذیر نظر آ رہا ہے۔ آج ہماری منزل سامنے ہے اور ہمارے وسائل لا متناہی ہو چکے ہیں۔ تمام بڑے کارپوریٹ اداروں کے مالکان، جن میں کچھ ہمارے اپنے پیرو کار بھی شامل ہیں، اپنے کاروبار بند رکھنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں ان کے عیاریوں سے تعمیر کردہ عالیشان شاپنگ مالز، ایئر پورٹس، پارکس، میکدے، کیسینوز، باغات ویرانیوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ سے سے حاصل کردہ اپنے سرمائے کی بربادی پر وہ نوحہ کناں ہیں اور شدتِ غم میں اپنے آپ کو نوچ رہے ہیں جبکہ ہمارے پیروکار اس بربادی کو قربانی سمجھ کر خوشی و سرمستی میں ہیں۔

مگر اے آقائے عظیم! ہماری ٹیکنالوجی کچھ نئے اشارات بھی دے رہی ہے کہیں نہ کہیں، کچھ برعکس بھی ہو رہا ہے۔ زیڈ بی کے مطابق اس گلوب کے مشرقی علاقوں میں چند عناصر ہماری تخلیق کردہ فضا کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں جتے ہوئے ہیں۔ ہمارے مشن کا منبع (Base) ایک حیاتیاتی ہتھیار کے استعمال کا ڈرامہ جان کر ان کے ذہین انسان۔ اپنے گروہ کے متوحش انسانوں کو ہمارے خلاف متحرک کرنا چاہ رہے ہیں۔ وہ اپنے اسلاف کی عسکری کامیابیوں کو ڈراموں اور تمثیلات کے ذریعے فروغ دے کر نئی اذہان سازی کر رہے ہیں۔ ان کے چند مذہبی، روحانی سکالرز (جو عصرِ حاضر سے خوب واقف ہیں) اپنے پیغمبران کی پیروی پر اجماع کی ضرورت پر زور دے کر ہمارے مشن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ایشیاء کا ایک بڑا ملک، جو خود ٹیکنالوجی کے عروج پر ہے نئی دنیا کا نیا تاجدار بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ پستہ قد انسانوں کا ملک ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی محسوس ہو رہا ہے کہیں ہم کسی کوتاہی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ اتنا کہہ چکنے کے بعد ایل پی خاموش ہوا تو ایک گرجدار آواز میں ان کا آقائے عظیم (لائیوڈ) ان سے مخاطب ہوا ”میرے عظیم پیرو کارو! تمہاری کی گئی کاوشوں پر مجھے فخر ہے یقیناً تم نے اہداف حاصل کرنے کے لئے انتھک محنت کی ہے۔

جس کا صلہ تمہیں اور تمہاری نسلوں کو دنیا میں بھی مل رہا ہے۔ تم نے ثابت کر دیا ہے کہ محنت کسی بھی شکل میں کی جائے، ضرور رنگ لاتی ہے۔ تمہیں اب اپنے آباء کی وراثت کے حصول میں کوئی دشواری درپیش نہیں ہے۔ تم یقیناً اپنا اور میرا ایجنڈا پوری انسانیت پر نافذ کرنے کے قریب تر پہنچ چکے ہو۔ اور میرا مشن یہی ہے کہ جس آدمی کو علم سکھا کر اس کی تخلیق پر ناز کیا گیا تھا اور جسے زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا گیا تھا، اسے میں نے وحشت و بربریت کا پتلا بنا دینا تھا۔ پھر جب اس کی بڑھتی نسل اس زمین میں پھیلنا شروع ہوئی تو تم جیسے پیروکاروں کی بدولت میں نے اسے راندہئ درگاہ بنا ڈالا۔ انسان کے اندر چھپے ہوس و لذتِ دنیا کے جرثومے کو مہمیز کرتے ہوئے، اسے اپنے ہی ہم نفسوں میں گروہ در گروہ تقسیم کر کے ایک دوسرے سے نبرد آزما کیا اور انہیں کشت، خون میں مبتلا کر دیا۔ کئی صدیوں پر محیط انسانی تاریخ اسی آدمی کی حشمت و وحشت اور آبادی و بربادی کی ہوشربا داستان ہے۔

آدمی کو زندگی کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لئے ہزاروں، لاکھوں پیغمبر صفت انسان ابھی آئے، جو انہیں علم و تحقیق کی تاکید کر کے عصر حاضر میں زندگی گزارنے کے اصول سمجھاتے رہے مگر تم جیسے پیرو کاران کی بدولت میں نے انہیں ”تحقیق“ کے بجائے ”تمہید“ میں الجھا کر لذت و ہوس دنیا میں ڈبوئے رکھا۔ اور کبھی جب انہیں خاص الوہی رہنما نصیب ہوئے، وہ کامیاب ہو کر ہم پر برتر بھی ٹھہرے۔ آج ”تحقیق“ کی دوری کی وجہ سے وہ معتوب ٹھہرے اور تم نے اپنی علمی فضیلت، نہایت منافقانہ حکمت سے استعمال کر کے اپنا ہدف حاصل کر لیا۔ باقی رہے وہ پستہ قد ایشیاء کے انسان جو ”سپر پاور“ بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں، ان کے لئے مجھے کوئی نیا فتنہ سوچنا ہے۔ یاد رکھنا! ایک مقررہ وقت تک مجھے تم اپنے ساتھ پاؤ گے کیونکہ اس بیکراں کائنات میں ہر عنصر ایک محدود وقت لے کر آتا ہے اور پھر کسی نئے روپ، نئے آہنگ سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -