ایک چور، ایک مالی

ایک چور، ایک مالی

  

چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے پیڑ پر چڑھ کر اْس نے شاخوں کو اس قدر ہلایا کہ کئی آم نیچے آپڑے۔اتفاقاََمالی بھی آگیا اور چور کو دیکھ کر کہنے لگا:”کچھ خدا کا بھی خوف کرنا چاہیے۔تجھے آخر مرنا ہے اور پھر حساب کتاب کے لیے قیامت کے دن اْٹھنا ہے۔تب خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے؟“چوربولا:”تم کون ہو،یہ باغ خدا کا ہے اور میں خدا کا بندہ۔وہ کھِلاتاہے تو میں کھاتاہوں۔اْس کے حکم کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہل سکتا۔مجھ سے جاہلانہ کلام نہ کر۔معلوم ہوتا،تجھ میں نری جہالت ہے،عقل نام کو بھی نہیں۔“

مالی نے یہ بات سن کر دل میں کہا کہ چور بڑا منطقی ہے۔میں اسی کی منطق میں ایسا مناسب جواب دوں گا کہ عمر بھر نہ بھولے گا۔مالی بولا:”حضرت! نیچے آئیے،ہم پر کرم فرمائیے،آپ کی صحبت غنیمت ہے۔مدت بعد آپ جیسا بزرگ ملا ہے،جس نے تو حید کا نکتہ حل کردیا ہے۔پیرومرشد! تشریف لائیے اور ہمیں راہِ نجات دکھائیے۔“

چور ایک بھرم کے نیچے آتر آیا۔مالی نے وہیں پکڑ لیا اور آم کے درخت سے خوب مضبوطی سے باندھ کرپہلے تو مکوں سے اس کی،تواضع کی جب تھک گیا تو لاٹھی لے کر اس کی خوب مرمت کی۔

جب مارنے چور کو ڈھیلاکردیا تو لگا فریاد کرنے:”اے ظالم! خدا سے ڈر،میں نے تیرا کیا نقصان کیا ہے کہ مجھ بے گناہ کویوں بے دردی سے پیٹ رہا ہے؟“مالی نے ہنس کر جواب دیا:”حضرت! اتنی جلدی اپنا دعویٰ بھول گئے۔کیا اس لاٹھی کو خدانے نہیں بنایا،کیا مارنے والا ہاتھ اور مارکھانے والا جسم خدا کا ہی پیدا کردہ نہیں۔

آپ کیوں ناحق گلہ کرتے ہیں،اس میں آپ کا کیا نقصان؟اس کے حکم کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہل سکتا۔آپ کی یہ فریادجاہلانہ ہے۔“

چور نے کہا:”میں نے بکو اس کی،جھک ماری،مجھے اب چھوڑدے،آئندہ میں کبھی ایسی بات منہ سے نہ نکالوں گا اور نہ کبھی چوری کانام لوں گا۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -