اب تو رحم کریں، نظام چلنے دیں!

اب تو رحم کریں، نظام چلنے دیں!
اب تو رحم کریں، نظام چلنے دیں!

  

جمعرات کو قومی اسمبلی میں جوکچھ ہوا، غیر متوقع نہیں، لیکن یہ ہماری بدقسمتی ضرور ہے کہ ایوان کے ہوتے ہوئے بھی جمہوری اقدار کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، ہم نے تینوں جے آئی ٹی رپورٹس کے حوالے سے ابھی اسی ہفتے کے دوران اپنی رائے کا اظہار کر دیا تھا، تاہم دو روز قبل جو ہوا، اس نے ہمارے بھی کان کھڑے کر دیئے اور اپنے محلے دار حال مقیم اسلام آباد کی چلتے چلتے دی جانے والی ایک رائے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئے، انہوں نے اپنی تحریر میں شبہ کا اظہار کیا ہے کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر یہ ہنگامہ معنی خیز ہے اور کوشش یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرست جماعت ثابت کرکے اس پر پابندی لگائی جائے، یہ قرین قیاس یقینا ہے، لیکن ہم نے اپنے کالم میں یہ بھی رائے دی تھی کہ کسی بھی سیاسی جماعت کومصنوعی طریقے سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو اسے بھٹو کی پھانسی، بے نظیر بھٹو کی شہادت اور الذوالفقار کے الزام بھی ختم نہیں کر پائے۔ البتہ آج اس جماعت کی جو کیفیت ہے وہ خود جماعتی قیادت کی وجہ سے ہے اور سیاسی جماعت کا زوال اس کے اپنے کردار کی وجہ سے ہوتا ہے اگر اعتبار نہیں تو شاہی جماعت مسلم لیگ ہی کو دیکھ لیں، اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ قیام پاکستان کی جدوجہد اس نام کے پرچم تلے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہوئی اور یہ ملک حاصل ہوا، اس لئے جاہ پسندوں کو یہ نام بہت عزیز ہے۔ ایوب خان نے بھی کنونشن لیگ ہی کو اپنایا تھا،فرق صرف اتنا ہے کہ اب انصاف کے نام پر بننے والی جماعت پسندیدہ ہے، اس کے باوجود (ق) کے لاحقہ والی مسلم لیگ قابل قبول ہے،

دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام تر نامساعد حالات اور عوام کی خواری کے یہ جماعت تاحال زندہ و جاوید ہے اگرچہ سرپرستی ختم ہونے کا امکان ہو تو یہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔ ہم زیادہ پنگا لینے کی عمر سے گزر چکے اس لئے احتیاط ہی بہتر ہے ورنہ ”مقبول“ صحافیوں اور اینکر حضرات سے زیادہ بہتر حالات کو جانتے ہیں۔طباعت کے پیشے میں غلطیوں کا امکان ہوتا ہے اور کبھی کبھار کسی کتاب کے ایک جیسے صفحے ساتھ ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں۔ یعنی صفحہ نمبر ایک، زیادہ تعداد میں ایک ساتھ جڑ جاتا ہے۔ قاری کو ناگوار تو گزرتا ہے، لیکن وہ آگے گزر جاتا ہے لیکن یہاں تو پوری کی پوری کتاب ہی ایک صفحہ ہے اور ”جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے“ کی مثال ہے اس لئے دوستو! بے فکر رہو، جب تک پبلشراس کو درست کرنے کا اہتمام نہیں کرتا یہ کتاب ایک ہی صفحہ والی رہے گی، اس پر میرا اپنے کرم فرما محلے دار سے مکمل اتفاق ہے، تاہم دوسرے ایشو پر کچھ تحفظات ہیں اور معلومات کا بھی سوال ہے۔ اس لئے ہماری خواہش اور درخواست ہے کہ ایسا نہ کیا جائے کہ ملک کے ساتھ اب تک ایسے حربوں کی وجہ سے جو کچھ ہو چکا، اسی تک رہنے دیں۔

عزیر بلوچ کے حوالے سے ہنگامے کی وجہ سے جس طرح بلدیہ ٹاؤن کے سانحہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ قابل افسوس ہے ایک ایسی جماعت جس کے حوالے سے ثبوت ہی ثبوت ہیں، بلکہ ان سے ایک ٹرنک بھرا ہوا تھا، جو ہمارے کپتان برطانوی حکام کے حوالے کرکے آئے تھے اور اب تو آپ کی اپنی حکومت ہے کہ لے آیئے ٹرنک والے ثبوتوں کے ملزموں کو ملک میں و اپس، آپ کو کس نے روکا؟ ورنہ عوام کو یہ تو بتا د یں کہ ماضی کا یہ سلسلہ کیا تھا اور اب آپ کے حلیف کیوں؟ یہ عزیر بلوچ تو لیاری گینگ وار کے بانیوں کا جانشین ہے جو شیرو اور دادل کے دو بھائیوں کی جوڑی کے دور سے چلی آ رہی ہے اور مقابلے والے گروہ کو ”کالا ناگ“ کہا جاتا تھا، ہمیں پچاس کی دہائی میں اپنے پھوپھی زاد بڑے بھائی تاج دین مرحوم کے پاس کچھ عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا وہ شیرشاہ (کلا کوٹ) میں رہائش پذیر تھے، جہاں یہ دونوں بھائی بھی رہتے تھے، تب کلاشنکوف اور ہینڈ گرنیڈ کا زمانہ نہیں تھا، چاقو اور خنجر تھے یا پھر کبھی کبھار ریوالور کی آواز آ جاتی تھی، ہمیں خوب اندازہ ہے کہ تب ایسی ”بدمعاشی“ بھی ایس او پیز کے تحت ہوتی تھی اور کمزور بچے رہتے تھے، ہم نے تو اپنے کزن کے ساتھ شیرو کے نکاح میں بھی شرکت کی تھی۔

بات سے بات نکلتی چلی آ رہی ہے ہمیں تو عرض کرنا ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے، ملک کی قیمت پر نہ کریں ضرورت لسانیت، صوبائی تعصب اور فرقہ واریت کو ختم کرکے قوم کو ایک صفحہ پر لانے کی ہے، یہ نہیں کہ یہاں تقسیم کی جائے اور اختلاف کو دشمنی بنا لیا جائے۔ سیاست کو سیاسی عمل تک رہنے دیں، موج کرنا ہے تو کرتے رہیں آپ کو روکنے والا تو دور دور تک کوئی نہیں یہاں ٹوکے گا کون؟ اس لئے جو چلا رہے ہیں، اسے چلاتے رہیں، ملک ہے تو ہم سب ہیں۔

بات تو یہیں ختم کرنا ہے تاہم یہ عرض کرتے چلیں کہ ایسے لوگوں (عزیر بلوچ جیسے) کی سرپرستی تو ہر دور میں ہوئی۔ لاہور والے جانتے ہیں کہ یہاں مرحوم امیر محمد خان (گورنر مغربی پاکستان) کے اشارے پر محترم اور بہادر عالم اور تحریک پاکستان کے کارکن مولانا عبدل ستار نیازی کی پگڑی گرائی گئی اور فائرنگ سے دھمکا کر چودھری عید محمد (مرحوم) کو انتخابات سے دستبردار کرایا گیا۔ اس سلسلے میں عرض کر دوں، یہ شریف بدمعاش تب بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی تعاون کرتے تھے لیکن ایسے اللہ والے لوگ بھی تھے جو ان کی پرواہ نہیں کرتے تھے، ہماری موجودگی میں شہر کے یہ نامی گرامی شریف بدمعاش بلدیاتی انتخابات کے دور سابق لارڈ میئر میاں شجاع الرحمن کے انتخابی دفتر آئے۔ انہوں نے ان کی آمد کو خاص اہمیت نہ دی روٹین میں شربت پیش کر دیا گیا۔ اس پہلوان نے جب اپنی خدمات پیش کیں تو میاں صاحب نے شکریہ کہ کر انکار کر دیا اور ان کا گروپ ان انتخابات میں اکثریت سے جیت گیا تھا۔

(باقی پھر کبھی، ان شاء اللہ)

مزید :

رائے -کالم -