تعمیراتی شعبہ، سرمایہ کاری پر ذریعہ آمدن نہیں پوچھا جائیگا: عمران خان، سرکاری گوداموں میں پڑی گندم مارکیٹ میں لانے کا حکم، ٹڈی دل ختم کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان فیز ٹو کی منظوری

    تعمیراتی شعبہ، سرمایہ کاری پر ذریعہ آمدن نہیں پوچھا جائیگا: عمران خان، ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنیوالوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، پاکستان میں شعبہ تعمیرات کو متعدد مسائل کا سامنا رہا، ان مسائل کو دور کرنے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی بنائی ہے جس میں تمام صوبوں کی مشاورت شامل ہے۔تعمیرات و ترقی سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے معاشی بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ممالک مختلف حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا کہ شعبہ تعمیرات کے ذریعے اپنی معاشی سرگرمیوں کو فعال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کا مسئلہ صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور شعبہ تعمیرات کے فعال ہونے سے لوگوں کو روز گار ملے گا اور غربت سے نکلنے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کی نگرانی میں خود کروں گا اور ہر ہفتے اس کا اجلاس ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ کمیٹی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ مجموعی طور پر شعبہ تعمیرات کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر ان کے مسائل کو دور کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان میں ایسا کوئی کام نہیں ہوا اس لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے آغاز میں غیرمعمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔عمران خان نے کہا کہ نیا پاکستان ہاسنگ اسکیم میں بہت رکاوٹیں آئیں، دنیا میں سب سے زیادہ بینگ گھروں کے لیے قرضے دیتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاسنگ پروگرام کا مقصد ہے کہ غریب طبقہ گھر بنا سکے۔انہوں نے کہاکہ مختلف چیزیں وفاقی اور صوبوں کے پاس ہیں، تعمیرات کے منصوبے شروع کرنے سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ہاؤسنگ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ گھر بنائے جائیں گے جبکہ بینک سے قرضہ لیا جائے گا۔وزیراعظم نے بتایاکہ نیا ہاؤسنگ پراجیکٹ کے لئے 30ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، پہلے مرحلے میں تقریباً تین لاکھ کی سبسڈی دی جائے گی بنک سے جو قرضہ لیا جائیگا اس پر پانچ مرلے کے گھر پر پانچ فیصد سود دینا ہو گا۔پہلے مرحلے میں 10مرلے کے گھر کے لئے سات فیصد سود دینا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ٹیکسز کم کر دیے ہیں۔ ٹیکسز کم کرنے سے سستے گھر بنیں گے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سبسڈی اور فیصلے کبھی کسی حکومت نے کنسٹرکشن کے لیے نہیں کیے۔ میں چاہوں گا لوگ اس سے پورا فائدہ اٹھائیں۔ اس سے قبل وزیراعظم نے سرکاری گوداموں میں پڑی گندم مارکیٹ میں لانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سستے پوائنٹس بنا کر لوگوں کو آٹا فراہم کیا جائے گندم کے متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے بیورکریسی کا مشورہ نظر انداز کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران کی جانب سے وزیراعظم کو گندم کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے اسے اکتوبر میں مارکیٹ میں لانے کا مشورہ دیا تھا۔تاہم وزیراعظم نے اس کو نظر انداز کرتے ہوئے سرکاری گوداموں میں پڑی گندم کو مارکیٹ میں لانے کا حکم دیدیا ہے۔ انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ آپ فوری طور پر گندم مارکیٹ لائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر اکتوبر میں ضرورت پڑی تو صورتحال کے مطابق گندم درآمد کر لیں گے۔ سستے بازار اور پوائنٹس بنا کر لوگوں کو سستا آٹا فراہم کیا جائے۔دوسری جانب وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو آخری وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا، کارکردگی دکھانا ہوگی، ناکامی پر حکومتی عہدیداروں کو گھر کی راہ لینا ہوگی۔وزیراعظم عمران خان نے وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کو صاف بتا دیا ہے کہ اب اجلاسوں میں صرف بریفنگز سے کام نہیں چلے گا، حکومتی فیصلوں پر عملی اقدامات کا خود جائزہ لوں گا۔ وزیراعظم نے سرکاری محکموں اور وزارتوں کی بریفنگز کی روشنی میں وزرا اور سیکرٹریز سے عملی ا قدامات سے متعلق باز پرس بھی شروع کر دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تاخیری حربوں پر کئی افسران کی سر زنش بھی کی۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ وزارتیں ہوں یا ڈویڑن، حکومتی امور میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، صوبائی کابینہ اور افسر شاہی کو بھی اب کارکردگی کے ترازو میں تولہ جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے وفاق اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا جہاں ان کے زیر صدارت اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل، سید فخر امام، خسرو بختیار، شبلی فراز، اسد عمر اور چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ بھی شریک ہوئے۔دوران اجلاس وزیراعظم کو ٹڈی دل کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انھیں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے بنائے گئے ایکشن پلان کے فیز ون کی تکمیل سے متعلق آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کو مانیٹرنگ سروے اور کنٹرول کی مربوط کوششوں، وسائل کی فراہمی، اداروں کے درمیان تعاون اور ٹڈی دل سے متعلق آگاہ مہم پر بھی بریفنگ دی گئی۔انھیں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر کیے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور صوبائی حکومتوں نے ٹڈی دل کے حملے کے خلاف موثر اقدامات کیے۔اجلاس میں بلوچستان کی نمائندگی چیف سیکرٹری بلوچستان نے کی جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعظم عمران خان نے ٹڈی دل کنٹرول کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے فیزٹو کی منظوری دیدی اور متاثرہ کسانوں کو بھی ایک پیکیج کے ذریعے معاوضہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کوویڈ19 کے ساتھ ٹڈی دل حملہ بھی پاکستان کے لئے بڑا چیلنج ہے بریفنگ میں بتایا کہ ٹڈی دل کی نقل و حرکت، اقوام متحدہ، دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں، جس پر وزیراعظم نے تکنیکی معاونت پر چین، جاپان، برطانیہ کی حکومتوں کی تعریف کی۔بریفنگ میں کہا گیا کہ افریقہ سے ایران کے راستے،بھارت سے ٹڈیوں کے داخلے کا امکان ہے، ٹڈی دل کی متوقع آمد کیلئے ضروری اقدامات موجود ہیں وزیراعظم سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی بھی ملاقات، اہم قانون سازی اور پارلیمانی امور، انٹرنیشنل پارلیمانی یونین کے انتخاب سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیاوزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے پاکستان کے اقدامات کو اب عالمی ادارے بھی سراہ ررہے ہیں، اس حوالے سے ہماری حکمت عملی کامیاب رہی ہے ، جہاں کورونا کے کیسز زیادہ ہونگے وہاں سخت لاک ڈاؤن کیا جائیگا، ڈاکٹر بابراعوان نے وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے رواں اجلاس اور اہم پارلیمانی امور و قانون سازی سے متعلق معاملات بارے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے عوامی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ کے موثر کردار پرزور دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ کو عوامی مفاد کی قانون سازی کو ترجیح دینی چاہیے اور اس حوالے سے اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا کرے۔ ملاقات میں انتخابی اصلاحات، نیب آرڈیننس میں ترمیم اور دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ بابر اعوان نے عالمی ادارے آکسفیم کی کورونا وائرس بارے پاکستان کی حکمت عملی سے متعلق رپورٹ پر وزیراعظم کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی پالیسی کامیاب رہی ہے اس وجہ سے اب ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک نے جمعہ کو ملاقات کی اور یورپ کے لئے پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن کی بحالی سے متعلق یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی سے مذاکرات بارے آگاہ کیا۔ ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق سی ای او نے وزیراعظم کو پی آئی اے کی اسٹرکچرنگ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے سے متعلق جامع پلان پیش کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پی آئی اے میں اصلاحاتی عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں میں اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -