ظالمو حساب دو قوم کو جواب دو!

ظالمو حساب دو قوم کو جواب دو!
 ظالمو حساب دو قوم کو جواب دو!

  

پاکستان تحریک انصاف آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئی ہے، اس کے سربراہ سے لے کر ہر رکن، خاص طورپر کراچی سے تعلق رکھنے والے، صاحبان جو کچھ کہتے ہیں آئینہ آگے سے وہی بات دہرا دیتا ہے۔ اس سے قبل تحریک انصاف عوام کے سامنے کھڑی تھی اور جب اس کے لیڈرکوئی دعویٰ کرتے یا کوئی الزام لگاتے تو آگے سے واہ واہ ہوتی تھی، اب جو کچھ کہتے ہیں وہ پرانے دعووں اور الزامات کی گونج سمیت واپس انہی کو پلٹ جاتا ہے!

ممکن ہے کہ یہ گونج اتنی زودار نہ ہوتی اور دبی رہتی مگر پاکستان تحریک انصاف کی خراب کارکردگی نے بھانڈا پھوڑدیا ہے، مولانا فضل الرحمٰن صحیح کہتے ہیں کہ صرف ایک انڈہ نہیں پورا ٹوکرا ہی خراب ہے، اس کو اٹھا کر باہر پھینکنا ہوگا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے سے قبل تمام سیاسی سٹیک ہولڈر کسی ایسے طریقہ کار پر راضی ہو سکیں گے جس کے تحت اس ملک کو آئندہ چلایا جا سکتا ہے۔ نون لیگ کے شاہد خاقان عباسی خصوصی طور پر، جب اس کے دیگر رہنما عمومی طورپر، یہ نقطہ اٹھا رہے ہیں کہ اس سیٹ اپ کو لپیٹنے سے قبل ضروری ہے کہ آئندہ کے لئے رولز آف گیم طے کئے جائیں کہ آیا آگے بھی معاملات ایسے ہی چلیں گے یا کسی تعمیری سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جائے گا۔ دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک ایسی حکومت ہے جسے اقتدار میں آنے کے بعد سلیکٹڈ کا طعنہ سننا پڑا ہے، حالانکہ اس سے قبل آنے والی حکومتیں بھی اس معیار سے کچھ کم نہ تھیں، تاہم یہ خوش بختی تحریک انصاف کے حصے میں آئی ہے کہ اس پر سلیکٹڈ ہونے کی مہر اسبملی کے فلور پر کھڑے ہو کر ثبت کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ آنے والا سیٹ اپ بھی اسی طرح سلیکٹڈ کے طعنے سے لت پت ہوگا یا پھر عوامی امنگوں کا صحیح ترجمان ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمارے پالیسی میکروں کے پیش نظر رہنا چاہئے کیونکہ سوشل میڈیا نے جہاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا جنازہ نکال دیا ہے، وہیں اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشوں کو بھی طشت ازبام کردیا ہے، اب قومی مفاد کے نام پر کوئی بھی گل کھلانا اتنا آسان نہیں رہا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ عوام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہوتا ہے مگر مہنگائی سے بھی بڑا مسئلہ اہم آئینی ایشوز کا غیر حل طلب رہنا ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد ملک میں اسلامی شریعت لانا چاہتی ہے، اس سے بڑی تعداد لبرل پاکستان کے حق میں ہے، کچھ طبقے پوری قوم کا پیر ڈنڈے کو مانتی ہے جبکہ ایک طبقہ ایسا ہے جو ملک میں عوام کے حق خودرادیت، نظام کے تسلسل اور اداروں کو اپنی حد میں رکھنے کے جتن کر رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نواز شریف اس طبقے کے سرخیل ہیں، اس لئے آئین پسند حلقے نواز شریف کی حمائت میں ہیں اور جی ٹی روڈ کی ’مجھے کیوں نکالا؟‘ کی تحریک پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عام، سادہ لوح اور معمولی حیثیت کے لوگوں میں اس بات کا احساس بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ حلقے برملا کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر نواز شریف کی جگہ کوئی اور لیڈر یہ علم بلند کئے ہوئے ہوتا تو وہ اس کے ساتھ ہوتے، ان کے نزدیک شخصیت نہیں نظریہ اہم ہے اور نظریے کا دیا جو بھی اٹھائے اس کے اردگرد روشنی کاہالہ ضرور بنے گا!

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا بالخصوص اور پرنٹ میڈیا بالعموم یرغمال بن چکا ہے جس کے ذریعے ایک خاص وقت میں عوام کی اذہان سازی کرکے اپنا مطلب نکال لیا جاتا ہے، اس حوالے سے آج کل ٹی وی پر چلنے والا ترک ڈرامے ارطغرل میں کردوغلو کا کردار خاص طور پر قابل ذکر ہے جو اپنے مفاد کی خاطر نہ صرف صلیبیوں سے جا ملا ہے بلکہ پورے قبیلے میں نفاقی پھیلا رہا ہے، ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کئی کردوغلو اس وقت براجمان ہیں جو معاشرے میں کنفیوژن، بداعتمادی، خوف اور بدامنی پھیلا رہے ہیں، جو مہروں کے طورپر کام کرتے ہوئے پوری ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں اور اس کے صحیح ہونے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔

چونکہ سیاست کسی ایک شے کا نام نہیں ہوتا جس پر کنٹرول کرکے پوری سوسائٹی کو کنٹرول کرلیا جائے، اس لئے ایسی تمام تر کوششوں کے باوجود عوام کی حق حاکمیت پر یقین رکھنے والی قوتیں آگے بڑھ رہی ہیں، ان کو کامیابیاں مل رہی ہیں، آئین کی سربلندی ہو رہی ہے، اور وہ جو وقتی فائدے کے لئے اپنا دین ایمان سب کچھ بیچے بیٹھے ہیں، اب چَولیں مارتے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے اقتدار میں دن تھوڑے ہیں، اس کے آڑے اپنے ہی بڑے بڑے بول آرہے ہیں جن پر عوام کے ایک طبقے نے باامر مجبوری یقین کیا تھا، وہ وقت دور نہیں جب وہ طبقے بھی سڑکوں پر کھڑے ہوں گے اور نعرے لگارہے ہوں گے ظالمو حساب دو، قوم کو جواب دو!

مزید :

رائے -کالم -