آئندہ برس پاکستان میں معیشت بحال ہونے کی توقع، آئی ایم ایف، جی ڈی پی میں 3ارب 64کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے: عالمی بینک

آئندہ برس پاکستان میں معیشت بحال ہونے کی توقع، آئی ایم ایف، جی ڈی پی میں 3ارب ...

  

واشنگٹن)مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2021 میں پاکستان میں بتدریج معاشی بحالی متوقع ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ممالک کے پالیسی اقدامات' کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے مارچ کے بعد سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ ملک کا معاشی آؤٹ لک (منظرنامہ) خاص طور پر خراب ہوا ہے اور مالی سال 2020 میں شرح نمو کا تخمینہ 0.4 فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق اپریل کے وسط کے بعد سے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی سے 'کم خطرے والی صنعتوں ' کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے کر اور 'چھوٹی خوردہ دکانوں ' کو نئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی اجازت دے کر لاک ڈاؤن انتظامات کو آہستہ آہستہ آسان بنارہی ہے۔اس کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں 15 ستمبر سے دوبارہ کام شروع کیا جائے گا تاہم ہفتہ کے اختتام پر دکانوں کی بندش اور زیادہ خطرے والے مخصوص علاقوں کو سیل کرنے کے لیے’منتخب‘ لاک ڈاؤن انتظامات بدستور برقرار ہیں۔بتایا گیا کہ 24 مارچ کو 12 کھرب روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا جس پر اب عمل درآمد کیا جارہا ہے اور مالی سال 21-2020 میں اس کی پیروی کی جائے گی۔رپورٹ میں وبائی امراض کے معاشی اثر کو کم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی تفصیل بھی بتائی گئی۔وفاقی حکومت کے اہم اقدامات میں ہنگامی صحت کے سامان پر درآمدی ڈیوٹی کا خاتمہ، 62 لاکھ یومیہ اجرت کمانے والے مزدوروں کو نقد رقم کی منتقلی، ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد کم آمدنی والے خاندانوں میں نقد رقم کی منتقلی، برآمدی صنعت کے لیے ٹیکس ریفنڈز میں تیزی جس میں سے 65 فیصد پہلے ہی تقسیم کیے جاچکے ہیں، اس کے علاوہ ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبے کو مالی اعانت فراہم کیا جانا شامل ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اقتصادی پیکیج میں گندم کی تیزی سے خریداری، صحت اور خوراک کی فراہمی کے لیے معاونت، ہنگامی صورتحال کا فنڈ اور کورونا وائرس سے متعلق سازو سامان کی خریداری کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو وسائل کی منتقلی بھی شامل ہے۔رپورٹ میں تعمیراتی شعبے میں ٹیکس مراعات کی فراہمی کا بھی تذکرہ کیا گیا تاکہ لاک ڈاؤنز سے پیدا ہونے والی شدید روزگار کی ضروریات کو دور کیا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتیں کم آمدنی والے گھرانوں کو نقد گرانٹ، ٹیکس میں ریلیف اور اضافی صحت کے اخراجات پر مشتمل، معاون مالی اقدامات پر عمل پیرا ہیں۔

آئی ایم ایف

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)عالمی بینک کی جانب سے جنوبی ایشیا کے سیاحتی شعبے کے حوالے سے جاری پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے اثرات کے باعث پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کو 3 ارب 64 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث صوبہ خیبرپختونخوا کو ایک سے 2 کروڑ ڈالر کے خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے۔کووڈ 19 اور جنوبی ایشیا میں سیاحت کے عنوان سے جاری پالیسی بریف میں مزید تخمینہ لگایا گیا کہ کورونا وائرس سے مرتب ہونے والے اثرات نے پاکستان کے سیاحتی شعبے میں 8 لاکھ 80 ہزار ملازمتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سب سے زیادہ اثرات بھارت پر مرتب ہوئے ہیں جس کی جی ڈی پی کو 43 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہے، اس کے بعد نیپال کو 46 کروڑ ڈالر کے ممکنہ نقصان او مالدیپ کی جی ڈی پی کو 70کروڑ کے خسارے کا سامنا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے کووڈ-19 میں سیاحت کے ردعمل کی سرگرمیوں میں نقد گرانٹ یا سبسڈیز، ٹیکس چھوٹ/ریلیف/توسیع، فیس/بلز معافی، سیاحتی روابط یا کرائسز ٹاسک فورس، وبا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے صنعت کے ساتھ تعاون، سیاحتی اثاثوں کی بحالی، قومی ایئرلائن کی جانب سے منسوخی کی فیس معاف اور قومی ایئرلائنز کے کارگو آپریشنز کو برقرار رکھنا شامل ہے۔عالمی بینک کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاحت پر پاکستان میں پوری معیشت کی جی ڈی پی کے مقامی اخراجات کی شرح 4.09 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں انٹرا ریجنل جنوبی ایشیائی سیاحوں کی شرح 3.25 فیصد ہے اس حوالے سے سب سے زیادہ شرح بھارت کی 63.94 فیصد، اس کے بعد بنگلہ دیش کی 13.02فیصد، سری لنکا 11.19فیصد، نیپال 6.22 فیصد، مالدیپ 2.37فیصد اور بھوٹان کی شرح 0.01 فیصد ہے۔ عالمی بینک کی پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا خاص طور پر ملازمتوں کے حوالے سے سفر اور سیاحت پر زیادہ انحصار کرتا ہے جبکہ 2019میں ملازمت کے 4 کروڑ 77 لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے۔چند اقتصادی آپشنز کے ساتھ مالدیپ کا جزیرہسیاحت پر خاص طور پر انحصار کرتا ہے جبکہ دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کے پاس جی ڈی پی کے زیادہ متنوع ذرائع ہیں جن میں زراعت اور ترسیلات زر بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی وبا کے اثرات سے کم از کم 6 سے 9 ماہ تک سفری اور سیاحتی خدمات کی طلب میں ایک خاموشی رہنے کا امکان ہے جبکہ اس کی بحالی میں اس سے دگنا وقت لگے گا۔اس میں کہا گیا کہ پہلے مقامی سیاحت کی بحالی کا امکان ہے اور مقامی سیاحت کے بعد بحال ہونے والی اگلی مارکیٹس میں 'کووڈ-19 سیف زونز(محفوظ مقامات)' میں انٹرا ریجنل سفر شامل ہے۔ خیال رہے کہ عالمی وبا جنوبی ایشیا میں سفر اور سیاحت سے وابستہ 4 کروڑ 77 لاکھ کے قریب ملازمتوں پر اثر انداز ہورہی ہیں، جن میں غیر رسمی شعبے کی خواتین اور کمزور طبقہ بھی شامل ہے۔بحران کے نتیجے میں صرف سفر اور سیاحت کے شعبے میں خطے کی جی ڈی پی میں 50 ارب ڈالر سے زائد کے خسارے کے امکانات ہیں۔

عالمی بینک

مزید :

صفحہ اول -