بنچ بار لازم و ملزوم، مقدمات جلد نمٹانے، انصاف کی فراہمی کیلئے وکلا ء ساتھ دیں: چیف جسٹس

بنچ بار لازم و ملزوم، مقدمات جلد نمٹانے، انصاف کی فراہمی کیلئے وکلا ء ساتھ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹرئی)چیف جسٹس گلزار احمد نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار کمپلیکس کا افتتاح کردیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے وکلاء سے مقدمات جلد نمٹانے میں تعاون مانگتے ہوئے کہا ہے کہ،بینچ اور بار کا تعلق ہمیشہ قائم رہے گا،بینچ بار ایک دوسرے سے الگ نہیں،انصاف کی فراہمی میں وکلاء کا تعاون بھی چاہتے ہیں۔ جمعہ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالتی نظام کو کورونا سے درپیش چیلنجز سے متعلق مذاکرے کا بھی اہتمام کیا۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا مجھے اور ججز کو دعوت دینے پر بار کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وکلا کو کمپلیکس میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولت میسر ہو گی،کمپلیکس کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ اس موقع پرجسٹس مشیر عالم نے تقر یب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بارز اور وکلا کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں،بارز کو کبھی خود سے دور نہیں سمجھا۔ سال میں ایک دو مرتبہ ضرور بینچ اور بار کا ڈائیلاگ ہونا چاہیے،بچپن سے مجھے ٹیکنالوجی کا شوق تھا۔ کرونا نے یقینا ہم سب کی زندگی بدل دی ہے،جیسے حامد خان صاحب نے منہ چھپانے کی بات کی ہمیں بھی کئی بار منہ چھپانا پڑتا ہے۔مقدمات کا بروقت فیصلہ نہ ہونے اور التو کے باعث ججز کو بھی بعض اوقات منہ چھپانا پڑجاتا ہے،بین الاقوامی سطح پر ہمارا جسٹس سسٹم اچھا نہیں،ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق 128 ممالک میں سے پاکستان 120 نمبر پر تھا۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ میں ایز آف بزنس میں 190 ممالک میں سے پاکستان 156ویں نمبر پر ہے۔ میں خود بار سے آیا ہوں اور مجھے بار کے مسائل کا بخوبی اندازہ ہے، میں نے واپس بار میں جانا ہے اس لیے میں نے بار کو کبھی خود سے دور نہیں کیا، اس طرح کے مکالمہ ہر ماہ نہ سہی تو تین ماہ بعد لازمی ہونا چاہیے۔جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ آئی ٹی سے میری ہمیشہ سے ہی دلچسپی رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ای کورٹس کیلئے کافی کام کیا ہے، اس وقت ہمیں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے، ہم بگ ڈیٹا بنک اور نیشنل ڈیٹا بنک کی ضرورت ہے، وہ وقت دور نہیں جب سائلین موبائل سے کیسز دائر کر سکیں گے اور پھر ہمیں منہ چھپانے کی ضرورت بھی نہیں پڑیگی۔صدر بار کونسل قلب حسن نے کہا میں تمام مہمانوں کا شکر گزار ہوں جو ہمارے اس پروگرام پر ملک بھر سے آئے،ویڈیو لنک کے زریعے کیسسز کیلئے بار رومز میں کمرے مختص کئے ہیں وکلاء بار روم میں بیٹھے کراچی پشاور کوئٹہ رجسٹری میں کیسسز میں دلائل دے سکیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وکیل علی ظفر نے کہا کرونا وائرس نے ہماری زندگی کو بدل دیا ہے،ہمارا عدالتی نظام بھی کرونا سے نہیں بچ سکا،عدالتوں میں استطاعت سے 50 فیصد کم کام ہو رہا ہے،کرونا وائرس ہمارے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا موقع ہے،ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ای کورٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں لانگ ٹرم کیلئے نیو جنریشن ڈیجیٹل جوڈیشل پورٹل بنانا ہوگا۔ وزیر اعظم سے بات ہوئی انھوں نے کہا جوڈیشل پورٹل کیلئے حکومت تیارہے،ملزمان کا بیان ریکارڈ کرنے سمیت سائلین کو موبائل سروس دینا ہوگی۔

چیف جسٹس پاکستان

مزید :

صفحہ اول -