حکومت کو نیب میں زیرالتواء بڑے کیسز پر تشویش ہے، شہزاد اکبر

  حکومت کو نیب میں زیرالتواء بڑے کیسز پر تشویش ہے، شہزاد اکبر

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت کو نیب میں زیرالتواء بڑے بڑے کیسز پر تشویش ہے، کرپشن کیسز میں تاخیری حربے استعمال کئے جانے کے خلاف کچھ کرنا ہوگا، موجودہ حکومت نے احتساب کا نعرہ لگایا اور ہماری کوشش ہے کہ ان کیسوں کو جلدازجلد حل کریں، ماضی میں ایسے کیسز دبا دئیے جاتے تھے، ہم نے خراب حالات کے باوجود نیب کے وسائل میں اضافہ کیا، سپریم کورٹ نے نیب میں بڑے کیسز کا نوٹس لیا، اب یقیناً یہ مسئلہ حل ہو جائیگا، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ صرف عدالتوں کی تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمیں ملزمان کی جانب سے تاخیری حربوں کے خاتمے کے لئے کچھ کرنا ہوگا، پہلے ہمیں ان تاخیری حربوں کو روکنے کے لئے قانون سازی کرنا ہوگی کیونکہ اگر ایک عدالت فرد جرم عائد کرنے لگتی ہے تو ملزمان بیمار ہو جاتے ہیں، وہ درخواست دائر کردیتے ہیں پھر اس درخواست کی سماعت شروع ہو جاتی ہے اسی طرح کے کئی تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں۔اس سوال پر کہ نیب میں کئی ریفرنس پھنسے ہوئے ہیں جن میں نامزد ملزمان میں سے کئی ایک پر بھی فردجرم عائد نہیں ہوسکی پر مشیر احتساب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب اور اٹارنی جنرل پاکستان سے پوچھا ہے کہ 130 کے قریب ریفرنسز پر کسی پر فردجرم عائد کیوں نہیں کی گئی اس پر حکومت کو تشویش ہے کیونکہ ہم اس پر کئی بار میڈیا پر بھی بات کر چکے ہیں کہ نیب میں منی لانڈرنگ اور فنڈ میں خردبرد کے کئی ریفرنسز پڑے ہیں اور ان کو جلد نمٹایا جانا چاہیے۔ ہم نے کئی بار کہا کہ اگر کوئی قانونی مدد چاہیے تو حکومت وہ بھی دینے کو تیار ہے۔ ان ریفرنسز کو جلد نمٹایا جائے۔

شہزاد اکبر

مزید :

صفحہ اول -