میر شکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مستر د کرنیکا تحریری حکم جاری

میر شکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مستر د کرنیکا تحریری حکم جاری

  

لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں جنگ اورجیو کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری حکم جاری کر دیاہے،جس میں کہاگیاہے کہ سپریم کورٹ کے امتیاز بنام سرکار اور ڈاکٹر مبشر حسن کیسز میں پاکستان میں جاری کرپشن پر سخت آبززویشنز دی گئی ہیں، وائٹ کالر کرائمز میں ملوث ملزموں کو ضمانت کی سطح پر بھی کسی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہیے۔مسٹرجسٹس سردار احمد نعیم اور مسٹرجسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ نے 19 صفحات کا تحریری حکم جاری کیاہے،عدالتی تحریری حکم میں مزید کہاگیاہے کہ نیب کے الزامات کے جواب میں رقم جمع کروانے کا ثبوت نہ دینا ملزم میر شکیل کا جرم سے مضبوط گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم میر شکیل نے کرپشن، بد یانتی اور غیر قانونی ذرائع سے ایگزمپشن پر پلاٹ حاصل کئے، ملزم میر شکیل نے شریک ملزمان میاں نواز شریف، ہمایوں فیض رسول اور میاں بشیر کی ملی بھگت سے غیر قانونی پلاٹ حاصل کئے، ملزم میر شکیل نے کرپشن، بد یانتی غیر قانونی ذرائع سے حاصل پلاٹوں میں دو سڑکوں کو بھی غیر قانونی طور پر شامل کیا، ملزم میر شکیل نے غیر قانونی پلاٹ حاصل کرکے نیب کے آرڈینس کی دفعہ 9 کے تحت جرم کا ارتکاب کیاہے،تحریری حکم میں مزید کہاگیاہے کہ وائٹ کالر کرائمز کیسز میں جرم مکمل کرنے کے بعد دستاویزات تیار کی جاتی ہیں، وائٹ کالر کرائمز میں چند تکنیکی یا اندرونی معلومات کی بنیاد پر ہی ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے، وائٹ کالر کرائمز میں اخلاقیات کو مد نظر نہیں رکھا جاتا، ایسے جرائم پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں، ملزم میر شکیل نے دوران تفتیش نیب کے 143 ملین روپے کے نقصان پہنچانے کے الزام کے جواب میں جمع کروائی گئی رقم کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا، کرپشن کے مقدمات کیسز میں ایسے ملزموں کو ملزموں کو رعایت دینے سے بڑھتے ہوئے کرپشن کے کینسر کو ختم کرنا ناممکن ہو گا، ملزم میر شکیل کے وکیل کے دلائل میں دیئے گئے کیسز کے حوالے موجودہ کیس کے حالات و واقعات پر پورا نہیں اترتے، ملزم نے جوہر ٹاؤن میں زمین پر عبوری تعمیر کی درخواست دی تھی مگر میر شکیل کو ایگزمپشن پر پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے، میر شکیل الرحمن نے پلاٹوں کی ایگزمپشن کی شرائط پر رضا مندی ظاہر کی اور شریک ملزموں نے اس کی سمری تیار کی، شریک ملزموں نے پلاٹوں میں دو سڑکیں بھی شامل کیں اور اسی روز 11 جولائی 1986 ء کو سمری اس وقت کے وزیر اعلی نواز شریف کو پیش بھی کر دی، ڈائریکٹر لینڈ میاں بشیر احمد نے 59 کنال 3 مرلے 75 فٹ اراضی میر شکیل کو الاٹ کرنے کی سمری تیار کی، اس وقت کے وزیر اعلی میاں نواز شریف نے 56 کنال الاٹمنٹ کی منظوری دی، میر شکیل کو 3کنال مزید زمین الاٹ کرکے مزید غیر قانونی کام کیا گیا، ڈی جی ایل ڈی کے ہمایوں فیض رسول نے میر شکیل کو زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ اس رعایت کو مثال نہ بنایا جائے، عدالتی تحریری حکم میں مزید کہا گیاہے کہ یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ میر شکیل الرحمن نے زمین کی مارکیٹ ویلیو کے تحت قیمت آج تک ادا نہیں کی، ملزم میر شکیل الرحمن تقریبا60 کنال اراضی پر صرف ریزرو پرائس ادا کرنے کے بعد قابض ہے، میر شکیل کو جوہر ٹاؤن میں 54 پلاٹ ایک بلاک کی شکل میں الاٹ کرنے کا اقدام بھی بدنیتی پر مبنی تھا، میر شکیل الرحمن کو بشمول 2 سڑکوں کے ایک بلاک کی شکل میں پلاٹ الاٹ کر کے ملزم کو فائدہ پہنچایا گیا، انتہائی سستے داموں پلاٹ حاصل کرنے کا فائدہ صرف میر شکیل کو ہوا، میر شکیل الرحمن کے پلاٹوں میں 2 سڑکیں شامل کر کے عوام الناس کو سڑک کے استعمال سے محروم کیا گیا، میر شکیل الرحمن کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست بے بنیاد قرار دے کر مسترد کی جاتی ہے۔

میرشکیل ضمانت

مزید :

صفحہ آخر -