ہم بات کرینگے تو پی پی لیڈر شپ مشکل میں آجائیگی: فہمیدہ مرزا، زرداری نے تو اک لفظ نہیں بولا: سعید غنی

  ہم بات کرینگے تو پی پی لیڈر شپ مشکل میں آجائیگی: فہمیدہ مرزا، زرداری نے تو ...

  

کراچی (این ین آئی)رہنماجی ڈی اے فہمیدامرزا نے کہا ہے کہ کافی عرصے سے خاموش تھی لیکن اب مزید زبان بند رکھناممکن نہیں ہے، جب ہم بات کریں گے تو پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ مشکل میں آجائیگی،جوجے آئی ٹی سندھ حکومت منظر عام پر لائی ہے اس میں ذوالفقار مرزا کا کہیں نام نہیں ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں فہمیدا مرزا نے کہا کہ ذوالفقار مرزا پر تنقید کیلئے دوسری جے آئی ٹی کا سہارالیاجاتا ہے۔امن کمیٹی 2008سے قبل بنائی گئی اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں آئی تھی۔اپریل 2008میں ذوالفقار مرزا وزیرداخلہ بنے جبکہ 2009 میں رحمان ڈکیت کاانکاونٹر کیاگیا۔رحمان ڈکیت کو امریکا سے فون کرکے کہا گیا کہ پیپلزپارٹی کے واجد کریم کی حمایت کریں،رحمان ڈکیت کو پیپلزپارٹی کی حمایت کیلئے زورڈالاگیا۔امریکا سے فون کرکے جلسے کون کراتا تھا۔مختلف پارٹیاں جرائم پیشہ افراد کو استعمال کرتی رہیں۔ ذوالفقار مرزا نے 2011کے آغاز میں ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ذوالفقار مرزا نے صوبائی وزیرداخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو کراچی میں دہشتگردی اور قتل وغارت کے واقعات میں اضافہ ہوا۔عذیر بلوچ سے حلف لینے والوں کو پیپلزپارٹی نے اسمبلیوں کے ٹکٹ دیئے۔ فریال تالپور عزیربلوچ کے گھر گئیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں وہ گھر عزیر بلوچ کا تھا۔فریال تالپوراورقائم علی شاہ عزیز بلوچ کی منعقد ہونے والی تقاریب میں شریک ہوتے رہے۔فریال تالپور نے ہی عزیربلوچ کو امن کا ایوارڈ دیا تھا۔ذوالفقارمرزا نے جانثاران بے نظیر بنائی۔کارساز دھماکے میں لیاری کے دوسونوجوان شہید ہوئے اور اگلے دن بے نظیر بھٹو ان شہدا کے گھر گئیں۔ڈاکٹر ذوالفقار مرزا انہیں شہدا کی اولادوں کو اپنا بچہ کہہ رہے تھے۔سندھ کے سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کی اہلیہ فہمیدہ مرزا نے کہاکہ ذوالفقار مرزا نے اسلحہ کے لائسنس مجرموں کو نہیں دیئے۔اگرذوالفقار مرزا نے اسلحہ کے لائسنس مجرموں کوجاری کئے تو سندھ حکومت نے ان لائسنسزکو منسوخ کیوں نہیں کیا۔ ذوالفقار مرزا مجرم تھے تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے ان پر مقدمات کیوں نہیں بنائے۔رحمان ڈکیت کاقتل ہونے کے بعد عزیر بلوچ منظر عام پر آیا۔اگر وزیراعظم نے کراچی کی قتل وغارت پر جے آئی ٹی بنائی تو ہم حکومت کو بھرپورسپورٹ کریں گے۔دوسری جانب وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون اسپیکر کس کی مرہون منت بنیں؟ آپ کو کس پارٹی نے نوازا ہے۔ یہ خاتون کہتی ہے کہ میری زبان نہ کھلوائیں تو کھولیں زبان، اتنا کچھ ہونے کے باوجود آصف زرداری نے ایک لفظ نہیں بولا، جب ذوالفقار مرزا آپے سے باہر ہوگئے تو پھر اس سے وزارت لی گئی۔ وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ بلدیہ ٹاون کی جے آئی ٹی کہاں غائب ہوگئی اس پر کیوں بات نہیں ہوتی، گورنر سندھ عمران اسماعیل، علی زیدی اور صدر مملکت نے گینگ وار کی شمولیت کے لیے کمیٹی بنائی۔ اسد عمر نے ان سے ملاقات سے انکار کردیا تھا، پی ٹی آئی نے سی ویو پر دھرنا دیا تھا اس میں امن کمیٹی کے رہنما آتے رہے، وہ دھرنے میں آئے آپ ان کے گھروں پر کھانے کھائیں تو ٹھیک ہے۔ عزیز بلوچ کے بیان پر یقین ہے ریحام خان، عائشہ گلالائی اور جسٹس اکبر کی باتوں پر یقین نہیں ہے۔ عزیز بلوچ سے ہر سیاسی جماعت نے رابطہ کیا تھا، 2013کے الیکشن کے بعد دوبارہ حالات خراب ہوئے، ہم نے تو ذوالفقار مرزا کے گند کو صاف کیا ہے، عبداللہ بلوچ بھٹو کے دور میں وزیر تھا۔پی ٹی آئی تو خود دہشت گردوں کی سہولت کار ہے۔

فہمیدہ مرزا

مزید :

صفحہ آخر -